امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے تین ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہڑتال سے قبل ہی اسلام آباد کی کال دے دوں، اگر خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو آنے کی کال دوں تو تم سے یہ سنبھالے نہیں جائیں گے۔
یہ اعلان انہوں ںے لاہور مال روڈ دھرنے کے بارہویں دن مظاہرین سے خطاب میں کیا۔ حافظ نعیم نے کہا کہ یہ ہم سے ہماری بنیادی ضرورت بھی چھین رہے ہیں، چند سڑکیں نواز شریف اور شہباز شریف کے نام پر بنادی ہیں، آٹا سستا کرنے کی اور لیوی سستا کرنے کی جو تحریک ہے وہ یہی ہے، مریم نواز نے 13 ہزار اسکولوں کو فروخت کردیا، صرف نام مریم نواز کا ہونا چاہییے، پمز اسپتال میں غفلت پر وزیراعظم اور وزیر صحت جواب دہ ہیں، اصل میں ذمہ دار وہ لوگ ہیں جس نے ان کو فارم47 کے ذریعے ہم پر مسلط کیا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی کے نوجوان تحریک اور نظریے سے وابستہ ہیں، ہمارا دھرنا 25 کروڑ عوام کے حقوق کے لیے ہے، حکمرانوں نے سارا بوجھ عوام پر ڈال رکھا ہے، عوام کو بنیادی حقوق دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، اس دھرنے کی تحریک ملک میں پھیل چکی ہے، پورے ملک میں 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں 70 فیصد ایسے لوگوں کا ہے جن کی عمریں30 سال ہیں، یہ حکومت ان بچوں کو کچھ نہیں دے رہی صورتحال یہ ہے کہ جو میٹرک کرلیتے ہیں وہ انٹرمیڈیٹ نہیں کر سکتے، جو ان انٹرمیڈیٹ کر لیتے ہیں وہ جامعات میں نہیں جا سکتے، جو دولت کی بنیاد پر صحت کی سہولیتں دے وہ یہی ٹولا ہے اس راج لوٹ کھسوٹ کو بدلنا ہوگا، چہرے نہیں نظام کو بدلنا ہوگا۔
سربراہ جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کےلئے نکلے ہیں انہیں یہی پریشانی ہے، ہماری ہڑتال پرامن ہوگی، ہم پر امن لوگ ہیں، پورا پنجاب، بلوچستان اور سندھ ہمارے ساتھ ہوگا، پورے ملک میں ہڑتال ہوگی، یہ ریاست عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا رہی ہے، پمز میں پھول جیسے بچے حکمرانوں کی نااہلی کا نشانہ بنے، 14 بچوں کی اموات کرپشن اور نااہلی کے باعث ہوئیں، یہ ایک اسپتال بھی ٹھیک طریقے سے نہیں چلا سکتے، پمز اسپتال میں حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات کیا ہیں؟ وہ یہ ہیں کہ جب تم لیوی کی قیمت بڑھاتے ہو ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے، ہمارا دوسرا مطالبہ آئی پی پیز کا ہے، کمرشل، صنعتی اور گھریلو بجلی بل کا الگ الگ کرنا ہوگا، بجلی کے نرخ کم کیے جائیں، پورے ملک میں روٹی کی قیمت 10 روپے کی جائے، ہمیں اپنی ذات اور پارٹی کےلئے کچھ نہیں چاہیے، میں ہڑتال کے بعد اسلام آباد کے نوجوانوں کو بھی کال دوں گا، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہڑتال سے قبل اسلام آباد کی کال دے دوں، اگر خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو آنے کی کال دوں تو تم سے یہ سنبھالے نہیں جائیں گے۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں کی سرپرستی کردیں تو وہ پاکستان کی ایکسپورٹ کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتے ہیں، بجلی تو استعمال نہیں ہورہی مگر آئی پی پیز کو کروڑوں روپے دے رہے ہیں، چادر اور چار دیواری بھی محفوظ نہیں ہے، اس پنجاب میں مریم نواز کے پنجاب میں مائیں بہنیں محفوظ نہیں ہیں، ان کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، اگر ہے تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کرپشن کا پیسہ ہے جس میں تم تین ماہ بعد ماؤں اور بہنوں کو لائنوں میں لگادیتے ہو، قوم کے بچوں کو پڑھاتے نہیں ہو۔
حافظ نعیم نے مزید کہا کہ اس موقع پر تاجر برادری کو ہمارا ساتھ دینا چاہیے، پورے پاکستان کی ایک آواز ہے کہ بجلی کی قیمتیں کم اور لیوی کی قیمتیں کم ہونی چاہئیں۔

