نئے صوبوں کی تشکیل پر سیاسی تقسیم

2729274 SalmanAbid 1729532257


پاکستان کی موجودہ سیاست جہاں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہے اور سیاسی پنڈت مختلف حکمت عملیوں کے تحت اپنے سیاسی کارڈ کو ترتیب دے رہے ہیں وہیں ایک بڑی بحث 28ویں ترمیم اور نئے صوبوں کی تشکیل کے گرد گھوم رہی ہے۔نئے صوبوں کی تشکیل پر قومی سیاست میں ایک بڑی سیاسی تقسیم دیکھنے کو مل رہی ہے۔اگرچہ یہ بحث نئی نہیں لیکن اس بار اس بحث میں شدت ماضی کے مقابلے میںزیادہ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ایسے لگتا ہے کہ یہ طے کرلیا گیا ہے کہ نئے صوبے ناگزیر ہیں اور اس کی تشکیل کے بغیر حکمرانی کا بحران حل نہیں ہوسکے گا۔

اس بحث میں تین تجاویز زیر غور ہیں۔اول، نئے صوبوں کی تشکیل،دوئم، نئے انتظامی یونٹس کا قیام اور سوئم، مضبوط خود مختارمقامی حکومتوں پر مبنی نظام۔نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والے متبادل نظام کے طور پر آئین میں موجود مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہیں اور ان کے بقول موجودہ حالات میں یہ ہی ایک بہترین سیاسی آپشن ہے۔لیکن 18ویں ترمیم کی موجودگی میں پچھلے 16برسوں میں تمام جماعتوں کی صوبائی حکومتوں نے اپنے صوبوں میں مقامی حکومتوں کے نظام کو مفلوج اور کمزور کیا یا نظام کے تسلسل کو برقرار نہیں رکھا۔کیونکہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے نظام اور ان کی سیاسی،انتظامی اور مالی سطح کی خود مختاری کو اپنے لیے ایک بڑا سیاسی خطرہ سمجھتی ہیں۔اس لیے کچھ ماہرین یہ منطق دیتے ہیں کہ موجودہ صوبائی حکومتوں کے نظام میں ہم کسی بھی طور پر خود مختار مقامی حکومتوں کے کامیاب نظام کو نہیں دیکھ سکیں گے۔کیونکہ ابھی بھی ہماری سیاسی اورر جمہوری سوچ میں اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کی کوئی خواہش نہیں۔

پیپلزپارٹی تو نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر کھل کر میدان میں آگئی ہے اور وہ واضح طور پر سندھ کی تقسیم کی نہ صرف مخالفت کررہی ہے بلکہ اس نے سندھ اسمبلی سے سندھ میں نئے صوبوں کی تشکیل کے خلاف متفقہ قرار داد بھی منظور کرلی ہے۔پیپلز پارٹی کا رویہ کافی سخت بھی اور جارحانہ بھی کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ صوبوں کی تقسیم سے صوبے میں ان کی سیاسی گرفت کمزور ہوگی۔  پیپلزپارٹی یہ اشارہ دے رہی ہے کہ اس کھیل کا نہ تو حصہ بنیں گے بلکہ ہر سطح پر اس کی مخالفت کی جائے گی اور وہ سیاسی سمیت انتظامی عہدوں کی بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔

دیکھنا ہوگا کہ اگر بات نئے صوبوں تک آتی ہے اور 28ویں ترمیم میں جو تبدیلیاں سامنے لائی جاتی ہیں اس پر عملا پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہوگی اور ان کی مزاحمت کی شکل بھی کس طور سامنے آتی ہے۔ آصف علی زرداری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیاست کے داؤ پیچ جانتے ہیں اور ان کو ایک بڑے سیاسی گرو کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی عملی طور پر 2008سے ان کے ہاتھ میں ہے اور اس کے بعد سے اب تک پیپلز پارٹی اقتدار کی سیاست کا حصہ ہے۔

اب اگر وہ اپوزیشن کی عملی سیاست اور اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ میں جاتی ہے تو وہ کس حد تک مزاحمت کرسکے گی خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ پیپلز پارٹی اس پورے کھیل میں طاقت کے مراکز کے ساتھ کس حد تک کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر سیاسی بارگیننگ کرسکے گی۔اس بار پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ ن ان کے پاس سیاسی آپشن محدود ہیں کیونکہ جس طرح سے ان دونوں جماعتوں نے مل کر بڑے کمال کے ساتھ سیاسی اقتدار کے بندوبست کا کھیل کھیلا ہے اس کی قیمت تو ان کو ہر صورت دینی پڑے گی اور پیپلز پارٹی کی قیادت اپنی جماعت کو کسی مشکل میں نہیں ڈالے گی۔

پیپلزپارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کا معاملہ کافی مختلف ہے اور ابھی تک ان نئے صوبوں کی تشکیل پر کوئی واضح پارٹی پالیسی لائن نہیںآئی اور پارٹی اس معاملے میں تقسیم نظر آتی ہے۔نواز شریف،شہباز شریف اور مریم نواز خاموش ہیں ۔جب کہ پارٹی کے مرکزی راہنما اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کھل کر ملک میں12نئے صوبوں اور 160انتظامی یونٹ بنانے کی حمایت کی ہے۔ان کے بقول رحیم یار خان سے اٹک تک اور پنجاب کو لاہور سے نہیں چلایا جاسکتا۔اسی طرح پورا سندھ بھی کراچی سے کنٹرول کرنا ممکن نہیںکیونکہ موجودہ حالات میں نظام ناکامی سے دوچار اور ڈلیور نہیں کررہا۔ان کے بقول اس اہم مسئلہ پرایک جائزہ کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ قومی اتفاق رائے پیدا ہوسکے۔لیکن کیا یہ پارٹی پالیسی ہے تو اس وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے بقول ایسا نہیں ہے اور یہ ان کی ذاتی پالیسی ہے۔

اصل میں مسلم لیگ نئے صوبوں کی حامی نہیں ۔ اس وقت سیاسی حالات کی مجبوری ہے کہ مسلم لیگ ن ان حالات میں خاموش ہے۔البتہ یہ دیکھنا ہوگا کہ نئے صوبوں کی تشکیل پر مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتی ہے یا اس کی پالیسی پیپلزپارٹی کی مزاحمتی پالیسی سے مختلف ہوگی۔مولانا فضل الرحمن تو طعنہ دے رہے ہیں کہ ہم سے چار صوبے تو چل نہیں اور ہم نئے 12صوبوں کی تشکیل کی بات کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں ایک پالیسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت نئے انتظامی یونٹس کو روک نہیں سکتی۔یقیناً ان کا اشارہ پیپلزپارٹی سمیت ان جماعتوں کی طرف ہے جو نئے صوبوں میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں اور یہ سب جانتے ہیں کہ نئے صوبوں کی بحث کہاں سے سامنے آئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا گورننس کا نظام فرسودہ ہوگیا ہے اور اس کے نتیجے میں لوگوں کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔اسی تناظر میں کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نئے صوبوں کے بننے سے ہمارے گورننس سے جڑے اہم مسائل فوری حل ہوجائیں گے۔

اسی طرح وزیر داخلہ کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ نئے صوبے فوری نہیں بن رہے بلکہ ہمیں اس کی طرف آگے قدم بڑھانا ہے۔اگر لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو ان کا بننا ناگزیر ہے اور ان کا اشارہ ریفرنڈم کی طرف بھی ہے کیونکہ بار بار اس نقط پر زور دیا جارہا ہے کہ نئے صوبے عوامی رائے سے بنیں گے۔محسن نقوی جب کہتے ہیں نئے صوبوں کی تشکیل ہماری ریڈ لائن ہے تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ کی سنجیدگی کیا ہے۔جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے تو ان کے منشور میں ہمیشہ سے انتظامی یونٹس کی تشکیل شامل رہی ہے اور موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کے بقول ہم غیر آئینی طریقہ کار سے نئے صوبوں کی تشکیل کی حمایت نہیں کریں گے یا پی ٹی آئی اس عمل میں حمایت کی صورت میں ایک بڑی سیاسی بارگیننگ کا حصہ بن کر کچھ بڑا حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کے امکانات محدود ہیں کیونکہ وہ اس عمل میں مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑا ہونا پسند نہیں کرے گی۔

اگر یہ معاملہ اسمبلی سے منظور ہونا ہے تو قومی اسمبلی میں تینوں بڑی جماعتوں میں سے دو جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا پڑے گا۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت دونوں بڑی اہم سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دباؤ میں ہیں اور ان پر بڑا پریشر ہے کہ وہ اجتماعی طور پر وہ کچھ کریں جو ان کو کہا جارہا ہے جب کہ ان دونوں جماعتوں کی اپنی مرضی وہ نہیں ۔بہرحال نئے صوبوں کی تشکیل نے قومی سیاست کو جہاں تقسیم اور الجھا دیا ہے بلکہ ایک ٹکراؤ کا ماحول بھی پیدا کردیا ہے۔اس لیے صوبوں کی تقسیم کے معاملے میں زیادہ عجلت اور جذباتیت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے زیادہ سنجیدگی سے اس عمل میں درپیش مشکلات اور بالخصوص چھوٹے صوبوں کے تحفظات کو بھی دور کرنا ہوگا۔اس وقت پہلی ترجیح خود مختار طرز کی مقامی حکومتوں کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنے کی ہے تاکہ نچلی سطح پرلوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی جاسکیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ