مشی گن کے امیدوار عبد السید نے نام کا بار بار غلط تلفظ ادا کرنے پر ٹرمپ کا مذاق اڑایا

Inquilab 20260828 182518 0000 d


فارمنگٹن ہلز — سینیٹ کیلئے ڈیموکریٹک امیدوار عبد السید نے ۲۶ اگست کو مشی گن کے فارمنگٹن ہلز میں ایک ٹاؤن ہال کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے نام کے بار بار غلط تلفظ کو انتخابی مہم کے ایک لطیفے میں تبدیل کر دیا۔ ان کے اس مزاح پر حاضرین نے دیر تک قہقہے لگائے اور تالیاں بجائیں۔
ٹرمپ نے ۴۱ سالہ ڈیموکریٹ پر کئی بار حملے کرتے ہوئے انہیں "کمیونسٹ”، "نفرت پھیلانے والا شخص”، اور "فحش کلمات سے بھرپور” قرار دیا ہے۔ عبد السید ٹرمپ کی جانب سے ان کے نام کے تلفظ کی کوششوں سے خاصے محظوظ نظر آئے۔ انہوں نے کہا، "ڈونالڈ ٹرمپ، چونکہ وہ شوروغل اور سنسنی خیزی کی عادت سے باز نہیں رہ سکتے، اس لئے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے میرا نام ہٹا ہی نہیں پا رہے۔” اس کے بعد انہوں نے عربی میں کہا، "حبیبی، اگر آپ نام درست نہیں بول سکتے، تو نام مت ہی لیں۔” اس موقع پر انہوں نے ٹرمپ کے تلفظ کی نقل اتارتے ہوئے پوچھا، "بھائی، آپ کو اس طرح کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ عجیب اور ناگوار لگتا ہے۔”
عبد السید نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ نتالی ہارپ، جو ٹرمپ کی ایک معاون ہیں، ٹرمپ کو یہ کلپ دکھائیں گی اور "وہ بہت غصہ ہوں گے۔” اس جملے پر تقریباً ۱۰ سیکنڈ تک قہقہے اور تالیاں گونجتی رہیں۔ مذاق سے ہٹ کر، عبد السید نے اپنی تنقید کا دائرہ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں تک وسیع کیا اور ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے ٹیرف کو ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز کو ایک ایسے شخص کے طور پر مسترد کر دیا جو ٹرمپ کے ایجنڈے پر محض "اندھا دھند مہر” لگائیں گے۔
عبد السید کی یہ مزاحیہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ان کے حامیوں نے اسے "انتہائی پُرمزاح” قرار دیا، جبکہ ناقدین نے اس تمسخر پر سوال اٹھائے اور السید سے جڑے دیگر تنازعات کی طرف اشارہ کیا۔

متعلقہ پوسٹ