دو ہزار روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگی پر 5 روپے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ لاگو ہونے کی مخالفت میں ملک بھر کے پیٹرول پمپ ڈیلروں نے اس طرح کی ادائیگی قبول نہیں کرنے اور کیش پر لوٹنے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اضافی چارج سے پہلے سے کم مارجن والے کاروبار پر اور دباؤ پڑے گا۔

نئی دہلی: ملک بھر کے پیٹرول پمپ ڈیلروں نے وارننگ دی ہے کہ اگر انہیں 2,000 روپے یا اس سے زیادہ کی ہر یو پی آئی ٹرانزیکشن پر 5 روپے کا مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) دینا پڑا، تو وہ اس طرح کی ادائیگی لینا بند کر سکتے ہیں اور نقد ادائیگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔ ڈیلروں کا کہنا ہے کہ یہ چارج پہلے سے ہی بے حد کم منافع پر اضافی بوجھ ڈالے گا۔
دہلی-این سی آر، پنجاب، اتر پردیش، ممبئی، کرناٹک اور راجستھان کے پیٹرول پمپ ڈیلروں نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ کسی بھی صورت میں ایم ڈی آر ان کے لیے اضافی خرچ ہے۔ ڈیلروں کا فی لیٹر مارجن تقریباً 2.40 روپے سے 3.40 روپے ہے، جسے حکومت اپنی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کے ذریعے طے کرتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ڈیلروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کی، کیونکہ انہیں کارروائی کا ڈر ہے۔
فیڈریشن آف آل انڈیا پیٹرولیم ٹریڈرز(ایف اے آئی پی ٹی)کے ترجمان مونٹی سہگل نے کہا،’اگر ایندھن فروخت کرنے والوں کو چھوٹ نہیں دی گئی، تو ہمیں 2,000 روپے اور اس سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگی لینا بند کرنا پڑ سکتی ہے۔ ‘
ملک میں ایک لاکھ سے زیادہ پیٹرول پمپ
اپریل 2026 تک ملک میں کل 1,03,023 پیٹرول پمپ تھے۔ ان میں سے 90 فیصد سے زیادہ پیٹرول پمپ تین سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں-انڈین آئل کارپوریشن(آئی او سی)، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ(ایچ پی سی ایل) ،چلاتی ہیں۔ باقی پیٹرول پمپ نائرا، جیو-بی پی اور شیل جیسی نجی تیل کمپنیوں کے ہیں۔
اکھل کرناٹک فیڈریشن آف پیٹرولیم ٹریڈرز(اے کے ایف پی ٹی) نے مرکزی حکومت اور سرکاری تیل کمپنیوں کو لکھے خط میں پیٹرول پمپوں کوایم ڈی آر سے چھوٹ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم ریٹیل آؤٹ لیٹ کا موازنہ عام خوردہ کاروبار سے نہیں کیا جا سکتا۔
تنظیم نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت کی قیمت متعلقہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں طے کرتی ہیں اور پیٹرولیم ڈیلروں کے لیے کمیشن اور مارجن کا ایک طے شدہ نظام ہے۔ اس لیے کسی ڈیجیٹل ادائیگی کے میڈیم کو قبول کرنے کی لاگت بڑھنے پر ڈیلر پیٹرول یا ڈیزل کی ریٹیل قیمت اپنی مرضی سے نہیں بڑھا سکتے۔
روزانہ 230-250 روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا دعویٰ
اتر پردیش کے پیٹرول پمپ ڈیلر اور ایم پاورنگ پیٹرولیم ڈیلرز فاؤنڈیشن(ای پی ڈی ایف) کے رکن ہیمنت سروہی نے کہا کہ دستیاب آفیشیل یو پی آئی ٹرانزیکشن کے اعداد و شمار کے فوری حساب سے پتہ چلتا ہے کہ ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر اس طرح کی تقریباً 2.39 کروڑ ادائیگیاں ہوتی ہیں، جن کی کل رقم 1,573 کروڑ روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں سے تقریباً 20 فیصد لین دین 2,000 روپے سے زیادہ کے ہیں۔ ان کے مطابق، اس سے ایک پیٹرول پمپ پر روزانہ تقریباً 230-250 روپے کا مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے بڑھتے ہوئے اخراجات کے درمیان یہ ڈیلروں کے لیے نقصاندہ ہوگا۔
ممبئی اور نئی دہلی کے دو ڈیلروں نے پیٹرول پمپوں کے لیے ایم ڈی آرچارج پوری طرح ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی ذمہ داری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر ڈالنا بھی حل نہیں ہوگا، کیونکہ تیل کمپنیاں اکثر پیمنٹ سلوشن فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتی ہیں، جس سے مارکیٹ میں ملی بھگت کی صورتحال بن سکتی ہے۔
ان ڈیلروں نے دعویٰ کیا کہ انہیں پہلے بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی پیمنٹ سروس فراہم کرنے والے جمع شدہ رقم پر ملنے والے سود کا فائدہ اٹھانے کے لیے کئی بار ویک اینڈ پر ادائیگی روک دیتے تھے۔
این پی سی آئی نے 5 روپے ایم ڈی آر سسٹم کے بارے میں وضاحت کی
نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) نے منگل کو جاری اکثر پوچھے جانے والے سوالوں میں پیٹرول پمپوں پر یو پی آئی کے ذریعے ایندھن خریدنے پر ایم ڈی آر کے سسٹم کو واضح کیا۔
این پی سی آئی کے مطابق، پیٹرول پمپ پر یو پی آئی کے ذریعے 2,000 روپے سے زیادہ کی ادائیگی پر 5 روپے کا رعایتی چارج لاگو ہوگا۔ ادارے نے کہا کہ یہ طے شدہ 5 روپے کا چارج پیٹرول پمپ مالکان کو ایندھن بھروانے جیسے لین دین پر لگنے والے زیادہ پروسیسنگ چارج سے بچاتا ہے۔
دو ہزار روپے سے کم کی تمام ایندھن کی ادائیگیوں پر ایم ڈی آر صفر رہے گا۔ یعنی روزانہ ایندھن بھروانے والے صارفین کے لیے کوئی چارج نہیں ہوگا اور پیٹرول پمپ مالکان سے بھی ایسے لین دین پر کوئی ایم ڈی آر نہیں لیا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈیلروں نے مکمل چھوٹ کا مطالبہ کیا
سولہ ستمبر کو آل انڈیا پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو خط لکھ کر 2,000 روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ٹرانزیکشن پر پیٹرول پمپوں کو ایم ڈی آر سے مکمل طور پر چھوٹ دینے کا مطالبہ کیا۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل ضروری اشیاء ہیں اور ایندھن کی خریداری عام طور پر بڑی رقم کی ٹرانزیکشن والی ہوتی ہے۔ اس لیے پیٹرول پمپوں پر 2,000 روپے سے زیادہ کی ادائیگیاں عام بات ہیں اور صارفین کی جانب سے یو پی آئی کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔

