ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع مجید ابن الرضا نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک نے اپنے مخالفین کے لیے کئی اہم ’سرپرائزز‘ تیار کر رکھے ہیں تاہم ان کی تفصیلات فی الحال منظرِ عام پر لانا مناسب نہیں۔
ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق مجید ابن الرضا کا کہنا تھا کہ ایران کی دفاعی صنعت میں مختلف منصوبوں پر مسلسل کام جاری ہے، جبکہ ملک کے پاس موجود سائنسی صلاحیت، تجربہ اور نوجوانوں کی استعداد مستقبل میں اہم نتائج سامنے لا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے مخالفین کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ان ’سرپرائزز‘ کے بارے میں انہیں مناسب وقت پر خود ہی معلوم ہو جائے گا۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے صدر کو ملک میں افراطِ زر کم کرنے اور معاشی مسائل پر توجہ دینے کی ہدایت کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ جنگ کے طویل ہوتے عرصے کے دوران ایران کو دفاعی کے ساتھ ساتھ معاشی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور اس دوران ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اور انٹیلی جنس تنصیبات کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اس صورتحال کے ساتھ امریکی دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے میزائل انٹرسیپٹرز کے ذخائر بھی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انٹرسیپٹرز کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے، جبکہ نئے انٹرسیپٹرز کی تیاری نہ صرف مہنگی بلکہ وقت طلب بھی ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے امریکی اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر میں کمی یا قلت سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی دفاعی صلاحیت متاثر ہونے کی اطلاعات درست نہیں۔
ایران کی جانب سے ’سرپرائزز‘ کے دعوے اور امریکی دفاعی ذخائر سے متعلق متضاد اطلاعات نے خطے میں جاری کشیدگی کے مستقبل کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

