وزیراعظم مارک کارنی: کینیڈا اس جھیل کو ہمیشہ اونٹاریو جھیل ہی کہے گا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کر کے ’لیک امریکہ‘ رکھنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔ آرڈر پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’’ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کر کے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس آرڈر پر دستخط کر رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کے پیچھے کوئی خاص پیغام نہیں بلکہ وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
اس سے ایک روز قبل ٹرمپ نے، کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران، ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی جس میں نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام ’لیک امریکہ‘ دکھایا گیا تھا۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے نام تبدیل کیے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈا کے باشندے جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے — تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔‘‘
وزیراعظم کارنی نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے ماخوذ ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے زائد پرانی ہے۔ ان کے مطابق یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔ ’لیک اونٹاریو‘ کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ’اونٹاریو‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ’جھیل خوبصورت ہے‘ اور ’جھیل بڑی ہے‘ کے ہیں، اور یہ نام چار سو سال سے زائد پرانا ہے۔
واضح رہے کہ اونٹاریو جھیل امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے، جس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈین صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔

