ہرمز سے تیل اور جنگی اخراجات کا تنازع، ایران نے امریکا کے دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا

ghalibaf1781755595 0


تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ان پر حقائق چھپانے اور جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے جن میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اور ایران کے خلاف جنگ کے مالی اخراجات کا ذکر کیا گیا تھا۔

رائٹرز کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 14 روز کے دوران امریکا کی مدد سے 130 ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے باہر منتقل کیا گیا۔

قالیباف نے جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ سے کہا کہ وہ جنگ کے اصل اخراجات سے متعلق مالیاتی اعداد و شمار بھی سامنے رکھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو جنگ پر 130 ارب ڈالر سے زائد کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایرانی اسپیکر نے اپنے بیان میں بیسنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تیل کی ترسیل اور جنگی اخراجات سے متعلق امریکی دعووں کو حقائق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم بن چکی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے دوران تیل کی ترسیل اور اس راستے سے بحری آمدورفت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ