تہران – ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی مکمل طور پر بند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے تو یہ صرف ایران کی اجازت اور ہم آہنگی سے ممکن ہے۔ انہوں نے امریکہ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ جہاز آزادانہ طور پر یہاں سے گزر سکتے ہیں، اور اسے جھوٹا قرار دیا۔
غریب آبادی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق ایک سمجھوتہ طے پا چکا ہے، تاہم جب تک امریکہ اپنے وعدے پورے نہیں کرتا، آبنائے باضابطہ طور پر نہیں کھولی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ ۱۸ جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے تھے جس کے تحت ۶۰ دن میں حتمی معاہدہ طے پانا تھا، مگر یہ مدت ۱۷ اگست کو ختم ہوگئی اور مذاکرات کا مستقبل غیر واضح ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل و گیس تجارت کا اہم راستہ ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ کے اثرات ہندوستان سمیت بڑے تیل درآمد کنندہ ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام لگایا کہ امریکہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے تاکہ جنگ کو طول دیا جا سکے۔

