ماسکو: روسی حکام نے سنیچر کو بتایا کہ ماسکو کا الیکٹرانک ووٹنگ نظام رات بھر طاقتور سائبر حملوں کا نشانہ بنا رہا، جبکہ ملک کے سخت کنٹرول والے پارلیمانی انتخابات دوسرے دن میں داخل ہو گئے۔
مرکزی انتخابی کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا نے کہا کہ حملہ جاری ہے اور "تقریباً بلا تعطل” ہو رہا ہے۔ انہوں نے نہ حملے کی نوعیت بتائی اور نہ ذمہ داروں کی شناخت کی۔
صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو یوکرین پر انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔ یوکرین نے الزام کا جواب نہیں دیا، تاہم انتخابات کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
انتخابات میں صرف وہ جماعتیں رجسٹرڈ ہیں جو پوتن اور کریملن کی فوجی مہم کی حمایت کرتی ہیں۔ ووٹنگ روس کے زیر قبضہ مشرقی یوکرین کے ان چار علاقوں میں بھی ہو رہی ہے جن پر ماسکو نے الحاق کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ ان پر اس کا مکمل کنٹرول نہیں۔ کریمیا میں بھی، جسے روس نے 2014 میں ضم کیا تھا، ووٹنگ جاری ہے۔
یورپی یونین نے انتخابات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حریفوں کو ختم کرنے کے لیے جبر کا استعمال کیا گیا۔ کونسل آف یورپ کے ایک ادارے نے بھی ووٹ کو جعلی قرار دیا۔
ایوان زیریں اسٹیٹ ڈوما کی تمام 450 نشستوں کا فیصلہ ان انتخابات سے ہوگا۔ ووٹنگ اتوار تک جاری رہے گی۔ توقع ہے کہ پوتن کی یونائیٹڈ رشیا پارٹی اپنا غلبہ برقرار رکھے گی۔ تاہم انتخابات کو جنگ اور حکومت کے لیے عوامی حمایت کی پیمائش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
پوتن 1999 سے روس پر حکمرانی کر رہے ہیں، جبکہ یونائیٹڈ رشیا 2000 کی دہائی کے اوائل سے سیاسی نظام پر حاوی ہے۔ یوکرین مہم پر تنقید ممنوع ہے۔ پوتن نے روسیوں پر زور دیا کہ وہ ووٹ ڈالیں، فوجیوں کی حمایت ظاہر کریں اور روس کو کمزور کرنے کے خواہشمندوں کو جواب دیں۔

