بحرین سے انٹرپول کے ذریعے گرفتار مطلوب ملزم کی پشاور منتقلی کے دوران حملے میں موت

398116 437033202


پشاور پولیس نے پیر کو بتایا کہ انٹرپول کے ذریعے بحرین سے گرفتار 45 سے زائد مقدمات میں مطلوب ممتاز عرف ممتازے پشاور لانے والی پولیس پارٹی پر فائرنگ اور دستی بم حملے میں جان سے گئے جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے پشاور کے تھانہ شاہ پور کی حدود میں ناردرن بائی پاس پر پولیس پارٹی پر فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں دو حملہ آور بھی مارے گئے۔

زخمی پولیس اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز پشاور فرحان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ملزم ممتاز کو بحرین میں انٹرپول نے گرفتار کیا تھا اور پیر کو پشاور پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔

فرحان کے مطابق: ’ممتاز کو لانے والے پولیس اہلکاروں پر پشاور ناردرن بائی پاس کے قریب فائرنگ کی گئی، جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں اور دو حملہ آوروں کو مارا گیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ممتاز عرف ممتازے پشاور پولیس کو 45 سے زائد مختلف مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری اور دہشت گردی کے مقدمات بھی شامل تھے۔‘

پشاور کیپیٹل سٹی پولیس دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن کے بعد مزید تفصیلات شیئر کی جائیں گی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ واقعے کے حوالے سے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

ممتاز عرف ممتازے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں مقدمہ

ممتاز عرف ممتازے کے حوالے سے جولائی میں خبریں سامنے آئی تھیں کہ انہیں انٹرپول کے ذریعے گرفتار کیا گیا ہے اور جلد پشاور پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان خبروں کے بعد ملزم کی والدہ نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر ممتاز کو پاکستان منتقل کیا گیا تو انہیں کسی فرضی پولیس مقابلے میں قتل کیا جا سکتا ہے۔

پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ پشاور پولیس نے ممتاز کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی انٹرپول کو اس حوالے سے کوئی درخواست بھیجی ہے۔

تاہم درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس نے عدالت سے وارنٹ حاصل کرنے کے بعد انٹرپول سے رابطہ کیا تھا۔

اسی مقدمے میں عدالت نے اگلی سماعت تک ملزم کے خلاف کسی غیر قانونی یا ماورائے قانون کارروائی سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی اور پولیس کو مقدمے کا مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ