نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے کہا ہے کہ تبت کی سرحد کے قریب ملک کے شمالی علاقوں میں تباہی مچانے والا ہولناک سیلاب موسمیاتی بحران کے باعث آیا اور انہوں نے عالمی برادری سے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ہمالیائی ملک میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شاہ نے رات گئے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ’رسوا میں بھوٹے کوشی دریا کا سیلاب کوئی معمولی سیلاب نہیں تھا۔‘
ریپر سے سیاست دان بننے والے بالیندر شاہ کو رواں سال کے آغاز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، تاہم وہ بڑی حد تک صحافیوں سے گفتگو سے گریز کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے صورت حال سے متعلق معلومات شیئر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ’یہ خطے کی بڑی قدرتی آفات میں سے ایک تھی، جو ہمالیائی خطے میں برف اور برفانی تودے کے گرنے سے شروع ہوئی۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جوائن یہاں کریں
وزیراعظم کے مطابق اس آفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ہمالیائی خطے کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
حکام کے مطابق نیپال اور چین میں سیلاب سے اموات کی مجموعی تعداد منگل کو ایک ہزار سے تجاوز کر گئی، جبکہ امدادی ٹیمیں اس آفت کے باعث منقطع ہونے والی آبادیوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
نیپال کی ڈیزاسٹر ایجنسی نے منگل کو بتایا کہ ملک میں 987 اموات کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 3,916 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 583 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
چین کے حکام نے اتوار کو اپنی تازہ ترین رپورٹ میں 16 اموات کی اطلاع دی تھی۔
یہ تباہی تبت میں ایک گلیشیئر کے کچھ حصے کے ٹوٹنے سے شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا تودہ تیزی سے نیچے وادی میں آیا اور لہندے دریا سے جا ٹکرایا۔ اس کے باعث پانی کا بہاؤ عارضی طور پر رک گیا، تاہم یہ رکاوٹ ٹوٹنے کے بعد پانی نے نیچے کی جانب ایک طاقتور سیلاب کی شکل اختیار کرلی۔
وزیراعظم شاہ نے کہا کہ نیپال کو ’موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں‘ پیش آنے والی قدرتی آفات کے سلسلے کا معاملہ عالمی برادری کے سامنے ’مضبوط انداز میں اٹھانا‘چاہیے۔
اس سے قبل فیس بک پر ایک بیان میں انہوں نے سیلاب کو’غیر معمولی اور تباہ کن قدرتی آفت‘قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانا اب بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔
انہوں نے کہا ’خراب موسم، دشوار گزار علاقے اور مسلسل خطرات کے باوجود ہم اپنے شہریوں کی جانیں بچانے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
تین کروڑ سے کم آبادی والے ہمالیائی ملک نیپال نے عالمی حدت کا باعث بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت کم حصہ ڈالا ہے، تاہم اس کے باوجود اسے بڑے ممالک کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے موسمیاتی بحران کے شدید اثرات کا سامنا ہے۔
ہمالیہ کے دشوار گزار علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے گرنے اور سیلاب ہمیشہ سے آتے رہے ہیں، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی بحران نے ایسے واقعات کی شدت میں اضافہ کردیا ہے۔
کھٹمنڈو میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کی رپورٹس کے مطابق ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں گلیشیئر کی برف تیزی سے پگھل رہی ہے، جبکہ پرمافراسٹ کے پگھلنے، غیر مستحکم ڈھلوانوں، برفانی جھیلوں اور بارشوں کے بڑھتے ہوئے غیر متوقع پن کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے بہاؤ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
نیپال کے وزیر خزانہ سورنیم واگلے نے کہا ہے کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق ملک کو تبت کی سرحد کے قریب واقع رسوا اور نوواکوت اضلاع کی تعمیر نو کے لیے پانچ ارب ڈالر یا 3.6 ارب ڈالر تک درکار ہوسکتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے روئٹرز کو بتایا ’ہمیں 2015 کے زلزلے کے مقابلے میں بہت کم رقم درکار ہوگی۔ نقصانات اور تباہی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی کہ تعمیر نو کی لاگت 2015 کے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد خرچ ہونے والے نو ارب ڈالر سے کم کیوں متوقع ہے۔ 2015 کے زلزلے میں تقریباً نو ہزار افراد جان سے گئے تھے۔
کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر کے اندازے کے مطابق نیپال کا تقریباً 124 ارب ڈالر یا 100 ارب پاؤنڈ مالیت کا انفراسٹرکچر کو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات سے خطرہ ہے، جس کے باعث ہر سال کروڑوں ڈالر کے نقصانات کا امکان موجود ہے۔
اس اتحاد کی رواں سال کے آغاز میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق نیپال کو مختلف قدرتی آفات کے باعث اوسطاً ہر سال تقریباً 760 ملین ڈالر یا 561 ملین پاؤنڈ کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ ملک کے قومی ڈیزاسٹر فنڈ میں اس رقم کے مقابلے میں بہت محدود وسائل موجود ہیں۔

