ہماری سیاست بھی عجیب ہے۔یہ رنگ باز بھی ہے، رنگ ساز بھی۔ابتداء سے ہی سیاسی جماعتوںکو تنہا کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔ بہت جلد سیاسی قیادت بھی اس کی عادی ہو گئی، ساتھی ہو گئی ۔اور آج؟ بات اس بھی آگے چلی گئی ہے۔اکثر خود پر بھی شک ہونے لگتا ہے۔اور اسی عمل میں پیار بھی ہوتا ہے، اقرار بھی ہوتا ہے۔ معاف کیجئے گا!ان کے درمیان نزدیکیاںاور دوریاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔یاد آیا ! اس میں مجبوریاں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ویسے بھی ہمارے یہاں ،مجبوری کا ایک نام شکریہ ہے۔یہ بھی دیکھا کہ گریبان اور دامن بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں۔
سیاست کے ہاتھوں کیسے کیسے نگینے اور خزینے نجانے کہاں چلے گئے۔ کاش! وہ لوٹ کو آجاتے لیکن جانے والے کب لوٹ کر آتیں۔ البتہ اُن کی یادیں آتی رہتی ہیں۔بے شک اسے آسرا کہہ لیں۔ تنہائی؟؟؟گیبر یل گارشیا مارکیز، نے اپنے نوبل انعام یافتہ ناول’’تنہائی کے سو سال میں‘‘ بہت خوب لکھا کہ تنہائی بہت سی نسلوں کو بھی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔اور اس کی زد میں آنے والی ہر نسل جنگ اور تشدد کی وجہ سے تنہائی میں اضافہ کرتی ہے۔ان پر کیا گزرتی ہو گی۔’’ تہذیب بندوں کو نہیں بناتی، بندے اسے بناتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس کے ٹریب میں آجاتے ہیں۔سوسال کے عرصے میںبہت سے حالات و واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔جس میں’ ریل کی آمد‘‘ بھی چلتی دکھائی دیتی ہے۔اس ناول میں جنگ کے خون ریز واقعات سے بھی تنہائی بڑ ھتی رہتی ہے۔’’ جنگ شروع کرنا ،جنگ بند کرنے سے زیادہ آسان ہے‘‘۔ ’’ سب ٹھیک ہے‘‘ کا غرور بار بار اس کا اظہار کر تاہے۔’’ جنگ خود ٹھیک نہیں تو سب کچھ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے‘‘۔گارشیا کہتا ہے کہ ’’ لکھاری کچھ بھی لکھ سکتا ہے اگر اُس کا قاری اس سے مطمئن ہو۔ اس کی نظر میں مقامی ثقافتیں بھی تنہائی کا شکار ہوتی ہیں۔
اس کے نزدیک ’’ کوئی خوابوں کی علامتو ں کو سمجھ لے، تو خواب بھی اتنے ہی حقیقی ہوتے ہیں،جیسے نیند ایک حقیقت ہے۔گارشیا مار کیز کے خیال میں’’ صنعتی انقلاب اور سرمایہ داری کے کوکھ سے جنم لینا والا کمیونسٹ انقلاب دُنیا بھر میںترقی پسند ادبی تحریکیں تحریکیں چلانے میں تو کامیاب ہوا لیکن آدمی کی بے گانگی کو ختم نہ کر سکا۔جس کی طرف کارل مارکس نے اشارہ کیا تھا‘‘۔ اس ناول میں جنسی ملاپ کا بھی ذکر ہے۔وہ کہتا ہے کہ ’’اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ، تنہائی سے عارضی طور ، کچھ لمحو ں کے لیے ہی، بچا تو جا سکتا ہے۔ناول کے آخر میں گارشیا لکھتا ہے کہ’’ارلیانو کو دستا ویزات کا آخری صفحہ پڑھتے ہوئے یوں لگا جیسے وہ بولتے آئینے کے سامنے ہو۔اور پھر وہ اپنی موت کے حالات اور وقت کی پیش گوئی کے صفحات کی طرف بڑھ گیا۔آخری سطر تک پہنچنے سے قبل وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ آخری سانس تک اس کمرے سے باہر نہیں گا۔یہ بھی پیش گوئی تھی کہ آئینوں کے شہر کو تیز ہوائیں اپنی لپیٹ میں لے لیں گی۔صرف وقت کو دوام حاصل ہے‘‘۔ قمرؔ جلالوی نے کیا خوب کہا۔
راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوں
ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے
دیوانوں بھی کہاں باز آتے ہیں ۔اگر بندشیں ہوں گی تو رنجشیں بھی ہو ں گی، بات پھر بھی نہیں رُکنے پائے گی۔گریبانوں کے ڈھیر ،کسی چنگاری سے آتش فشاں میں سکتے ہیں ۔پھر کون اپنا اور کون پرایا،کیا کھویا اور کیا پرایا۔ بے شک ! اسے افسانہ کہہ لیں ۔یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ کسی کے کرم بھرم کے لیے، افسانہ کہا جاتا ہے۔بہانہ بھی کہا جا سکتا ہے۔سچائی پر جتنے پیوند لگا لیں ، اُس کی پوشاک میں اور نکھا ر آتا ہے۔دیوانوں کی ادائیں ہر موسم کے لیے سدا بہار ہوتی ہیں ۔خزاں بھی اپنے چلمن میں نظرآتی ہے۔اس میں چولی، آنکھ مچولی کا کہا جا سکتا ہے۔ذرا سوچئے کہ گھونگٹ کیوں شرمائے گا؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پردہ تو اپنی آنکھوں میں ہوتا ہے۔اور حسن بھی دوسرے کی آنکھوں کا محتاج ہو تا ہے۔حسن والوں کی جگ بیتی اور آپ بیتی میں ان کا بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔کیا یہ بات اتنی سادہ ہے؟ معاف کیجئے گا! اس کاجواب اتنا ہی مشکل ہو گا۔ شکیبؔ جلالی کا ایک شعر نذرِ قارئین ہے۔
فیصلِ جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
حدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی
ایک دن یہ لہو بھی پورے سماج اور سامراج داغدار کر جاتا ہے۔ پہلے صبر کے قیام بھی آتے ہیں اور مقام بھی آتے ہیں ۔حدودِ وقت میں سو چ بھی گھومتی رہتی ہے۔کیا فصیلِ جسم کا بھی اس میں شامل کر سکتے ہیں۔
محبوب خزاں ؔنے کا ایک شعر نذرِ قارئین ہے۔
سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے
وہ بے کسی ہے کہ دُنیا رگوں میں چلتی ہے
ہر قدم پر جب بے کسی ہو گی، بے بسی ہو گی ، کس کس کا حال ہو گا، کس کس زوال ہو گا۔ ثاقبؔ لکھنوی کا ایک شعر:
کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا
زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے
خاموشی سے بڑی گونج اور کوئی نہیں ہوتی۔زمانہ در زمانہ اس کی گواہی دیتا رہتا ہے۔
آج کے ریفرنس میںپاکستان کے مشہور قوال اورگلوکار بدر میاں داد کے ذکرکرتے ہیں۔’’ وہ 17فروری 1962 کو پاک پتن میں پیدا ہوئے تھے۔اُنہیں قوالی سے شغف ورثے میں ملا تھا۔بدر میاں داد کے دادا دین محمد عرف دینو بابا اور والد میاں داد خان اپنے زمانے کے مشہور قوال تھے۔ بدر میاں داد کے چھوٹے شیر میاں داد بھی قوال ہیں ، اور دونوں بھائی اکثر اکٹھے بھی قوالی گاتے رہتے ہیں۔بدر میاں داد معروف قوال نصرت فتح علی خان کے ماموں زاد بھائی تھے۔بدر میاں داد کے سو سے زیادہ آڈیو البم جاری ہوئے تھے۔وہ پہلے قوا ل تھے، جن کی قوالیاں بیس فلموں کے لیے ریکارڈ کی گئی تھیں ۔اُنھوں نے جن فلموں کی موسیقی تر تیب دی تھی ،ان میں چپکے چپکے، ابرا، جنگ کی تلاش، آرائیں داکھڑاک اور بھارتی فلم متر پیارے کے نام شامل ہیں ۔اُنھوں نے اپنی وفات سے چند سال قبل گلوکار سریش با باورماکے ساتھ مل کر کلاسیکی اور جدید طرز موسیقی سے امتزاج ایک البم جاری کیا جو بہت مقبول ہوا۔حکومت پاکستان نے اُنہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کار کر دگی عطا کیا تھا۔وہ 2مارچ 2007ء کو لاہور میں وفات پا گئے۔اور لاہور میں بھی آسودۂ خاک ہیں ‘‘۔

