سعودی حوثی کشمکش اور پاکستان کا نازک امتحان


ریاض کے ہوائی اڈے کے قریب اٹھنے والا دھواں اور باب المندب کے کنارے بدلتا عسکری نقشہ بتا رہا ہے کہ یمن کی جنگ پھر اپنی سرحدوں سے باہر نکل رہی ہے۔

حوثی حملوں، سعودی کارروائیوں اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے اس کشمکش کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جو خاموش ضرور ہو گئی تھی، لیکن ختم نہیں۔ اب سوال صرف صنعا یا مارب کا نہیں۔ معاملہ خلیج کی سلامتی، عالمی توانائی، بحری تجارت اور سعودی عرب کے دفاعی شراکت داروں کے فیصلوں تک پھیل چکا ہے۔ ان میں پاکستان کی صورت حال سب سے زیادہ حساس ہے۔

اس تنازعے کو محض ایران اور سعودی عرب کی پراکسی جنگ کہنا آسان مگر نامکمل تعبیر ہے۔ حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، شمالی یمن کی زیدی آبادی کے مذہبی، سیاسی اور معاشی احساس محرومی سے ابھری۔ اس نے علی عبداللہ صالح کے عہد میں ریاست کے خلاف کئی جنگیں لڑیں اور 2014 میں صنعا پر قبضہ کر لیا۔ ایران نے اسے اسلحہ، تربیت، فنی معاونت اور سیاسی پشت پناہی دی، لیکن اس کی مقامی جڑیں اور الگ مقاصد بھی ہیں۔ یہ ہی امتزاج اسے روایتی نیابتی گروہ سے زیادہ خود مختار اور دیرپا فریق بناتا ہے۔

مارچ 2015 میں خیال تھا کہ فضائی طاقت چند ماہ میں حوثیوں کو پسپا کر دے گی۔ نتیجہ مختلف نکلا۔ جنگ طویل ہوئی، یمن انسانی المیے میں ڈوبا اور حوثیوں نے کم لاگت والے ڈرون، میزائل اور بحری ہتھیاروں سے طاقت کے پیمانے بدل دیے۔ سعودی عرب کے جدید طیاروں اور مہنگے دفاعی نظام کے مقابل حوثیوں نے تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور شہروں کے لیے مستقل خطرہ پیدا کیا۔ اس جنگ نے ثابت کیا کہ تکنیکی برتری سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں بنتی۔

2022 کی اقوام متحدہ کی جنگ بندی اور عمان کی وساطت نے تشدد گھٹا دیا۔ مارچ 2023 میں چین کی مدد سے سعودی ایران تعلقات بحال ہوئے تو یمن میں امن کی امید بڑھی۔ ریاض حوثی قیادت سے بات کرنے لگا اور ایک فریم ورک زیر بحث آیا۔ یہ کسی کی فتح نہیں تھی۔ سعودی قیادت جان چکی تھی کہ فوجی کامیابی بہت مہنگی ہے جبکہ حوثیوں کو آمدن اور سیاسی قبولیت کے لیے سمجھوتہ درکار تھا۔ دونوں کے لیے خاموشی جنگ سے بہتر مگر مستقل امن سے کم تھی۔

غزہ کی جنگ نے یہ محدود مفاہمت کمزور کر دی۔ حوثیوں نے فلسطینیوں کی حمایت کے نام پر بحیرۂ احمر میں اسرائیل سے منسلک سمجھے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا اور مقامی تحریک سے علاقائی قوت کی صورت اختیار کر لی۔ امریکی کارروائیاں بھی انہیں خاموش نہ کر سکیں۔ 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے وسیع محاذ آرائی اور یمن میں بھڑکتی لڑائی نے حوثیوں کو سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے کا موقع دیا۔ مغربی ساحل پر ان کی پیش قدمی اور باب المندب کے قریب موجودگی نے ریاض کے لیے خطرے کی نوعیت بدل دی ہے۔

باب المندب عالمی تجارت کی شہ رگ ہے۔ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب بیک وقت غیر محفوظ ہوں تو توانائی اور سامان کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، مال برداری مہنگی ہوتی ہے اور مصر کی نہر سویز سے آمدن کم ہوتی ہے۔ حوثیوں کی محدود بحری کارروائی کا اثر یورپی منڈیوں، ایشیائی صنعت اور افریقی معیشتوں تک پہنچتا ہے۔ یمن اب علاقائی سلامتی کے ساتھ عالمی معاشی سلامتی کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔

سعودی عرب کے سامنے مشکل انتخاب ہے۔ نرم جواب دفاعی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے جبکہ بھرپور جنگ تیل، سرمایہ کاری اور وژن 2030 کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ سعودی پالیسی معاشی تبدیلی کے لیے پرسکون خطہ چاہتی ہے اور نئی طویل جنگ اس تصور سے متصادم ہے۔ حوثیوں کے لیے بھی کشیدگی محض عسکری معرکہ نہیں۔ فلسطین سے وابستگی نے انہیں علامتی سرمایہ دیا، مگر جنگ، بھوک، نقل مکانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی قیمت یمنی عوام ادا کر رہے ہیں۔

یہ بحران علاقائی طاقت کے ڈھانچے کو بھی بدل رہا ہے۔ امریکہ سعودی سلامتی کا بنیادی ضامن رہا ہے، مگر نئی جنگ سے اس کی ہچکچاہٹ ریاض کو متبادل شراکت داریوں کی طرف لے جا رہی ہے۔ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسی تبدیلی کا اظہار ہے۔ سات اگست 2026 کے معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ اس شق کی پہلی حقیقی آزمائش توقع سے جلد سعودی حوثی محاذ پر سامنے آ گئی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان نے 2015 میں محتاط راستہ اختیار کیا تھا۔ پارلیمان نے یمن میں غیر جانب دار رہنے، سیاسی حل کے لیے کردار ادا کرنے اور سعودی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ میں اس کے ساتھ کھڑے ہونے کی پالیسی اپنائی۔ اس فارمولے نے یمن کے اندر جنگی کارروائی اور سعودی سرزمین کے دفاع میں فرق قائم کیا۔ اسی فرق نے پاکستان کو ریاض سے تعلق محفوظ رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ تصادم اور داخلی فرقہ وارانہ ردعمل سے بچنے کی گنجائش دی۔

اب صورت حال مختلف ہے۔ ستمبر 2025 کے پاکستان سعودی تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے اور اگست 2026 کے سہ فریقی مکہ معاہدے نے پرانا ابہام کم کر دیا ہے۔ حوثیوں کے سعودی سرزمین پر حملے اجتماعی دفاعی شق سے براہ راست متعلق ہو سکتے ہیں۔ حوثی قیادت کی جانب سے پاکستان اور ترکی کو سعودی فوجی مدد سے باز رہنے کی تنبیہ خطرے کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ پاکستان اب بیک وقت سعودی عرب کا دفاعی اتحادی، ایران کا ہمسایہ اور ممکنہ سفارتی رابطہ کار ہے۔ ان کرداروں کو ایک ساتھ نبھانا پہلے بھی مشکل تھا، اب شاید ممکن نہ رہے۔

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مالی معاونت یا تیل تک محدود نہیں۔ لاکھوں پاکستانی وہاں روزگار سے وابستہ ہیں، ترسیلات زر ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں اور کئی دہائیوں پر محیط دفاعی تعاون موجود ہے۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ طویل سرحد، بلوچستان کی سلامتی، سرحدی تجارت، افغانستان کی صورت حال اور پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی کھلے سعودی حوثی تصادم میں پاکستانی فوجی شرکت تہران سے تعلقات، مغربی سرحد کی سلامتی اور داخلی سماجی توازن پر بیک وقت دباؤ ڈال سکتی ہے۔

پاکستان کی عسکری اور معاشی گنجائش بھی محدود ہے۔ مشرقی سرحد پر تناؤ، افغانستان سے جڑی شدت پسندی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی اور معاشی کمزوری ایک نئی بیرونی جنگ کی اجازت نہیں دیتے۔ فضائی دفاع، خفیہ معلومات کا تبادلہ، بحری نگرانی یا سعودی تنصیبات کا تحفظ بظاہر دفاعی تعاون ہے، مگر میدان جنگ میں یہ حد جلد دھندلی ہو جاتی ہے۔ یمن کے اندر اہداف کے انتخاب یا حملوں کی منصوبہ بندی میں مدد پاکستان کو دفاعی شراکت دار سے باقاعدہ فریق بنا سکتی ہے اور اس کے سفارتی کردار کو ختم کر سکتی ہے۔

اسلام آباد کو جذباتی نعروں کی بجائے واضح ریاستی پالیسی درکار ہے۔ مکہ معاہدے کی حدود، فوجی امداد کی نوعیت اور پاکستان کی سرخ لکیروں پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ سعودی سرزمین اور مقدس مقامات کے دفاع کو یمن کے اندر جارحانہ کارروائی سے الگ رکھا جائے۔ پاکستان ترکی اور عمان کے ساتھ مل کر ریاض، تہران اور حوثی قیادت کے درمیان رابطہ کاری کر سکتا ہے، جبکہ جنگ بندی، بحری راستوں کے تحفظ، انسانی امداد اور یمنی سیاسی مذاکرات کو ایک سفارتی منصوبے میں جوڑا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اصل امتحان کسی ایک فریق کا انتخاب نہیں بلکہ دفاعی وعدوں کو علاقائی جنگ کا ایندھن بننے سے روکنا ہے۔ سعودی سلامتی اہم پاکستانی مفاد ہے، مگر یمن میں ایک اور غیر محدود جنگ نہ سعودی عرب کو محفوظ کرے گی، نہ حوثیوں کو ختم اور نہ خطے کو مستحکم۔ دانش مندی اسی میں ہے کہ دفاعی معاہدے کو جنگ کا دروازہ نہیں بلکہ کشیدگی روکنے کا ذریعہ بنایا جائے۔

ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ