پشتو کے موسیقار ارشاد (ارشو) بنگش اور گلوکار ارسلان شاہ پشاور میں واقع اپنے سٹوڈیو میں بیٹھے پشتو گانے کا میوزک کمپوز کرنے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے مدد لے رہے ہیں۔
اس گانے کی دھن ارسلان شاہ اور باقی موسیقی ارشو بنگش نے تیار کی ہے، لیکن مکسنگ کے لیے اے آئی سے مدد لی گئی ہے، جس کی وجہ سے مکسنگ کا خرچہ کم اور گانا بنانے میں وقت کم لگا ہے۔
ارشو بنگش نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مصنوعی ذہانت کا یہی کمال ہے کہ آپ کوئی بھی دھن، سٹیمس اور بیٹس اے آئی ایپ کو دیجیے اور وہ آپ کو روایتی مکسنگ سے ہزار گنا بہتر مکسنگ کر کے دے گا۔
انہوں نے بتایا: ’آج سے سات آٹھ سال پہلے اینالاگ طریقے سے مکسنگ پر ایک لاکھ تک خرچہ آتا تھا اور ایک گانے پر تین چار مہینے لگتے تھے لیکن اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے یہ کام ہفتوں میں ہو جاتا ہے اور اگر مکمل گانا اے آئی سے بنانا ہو تو دو تین منٹ میں بن جاتا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کیا مصنوعی ذہانت کی وجہ سے کوالٹی میں کوئی فرق آیا ہے؟ اس کے جواب میں ارشو بنگش نے بتایا کہ ’تجربہ کار موسیقار دھنیں وغیرہ خود بناتے ہیں لیکن اے آئی سے صرف اس میں مدد لی جاتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ مصنوعی ذہانت کو بہتر طریقے سے پرامپٹ دیں گے تو وہ انسانی اینالاگ مکسنگ سے بہتر مکسنگ کر کے تیار کرتا ہے اور اس کی کوالٹی بہتر ہوتی ہے۔‘
ارسلان شاہ اور ارشو بنگش نے ایک ساتھ مختلف گانوں پر کام کیا ہے، جس میں ارسلان گلوکاری جبکہ موسیقی ارشو بنگش تیار کرتے ہیں۔
ارسلان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پہلے پروڈیوسر کے پیچھے جا کر ان کی منتیں کرنی پڑتی تھیں اور اسے بہتر کرنے میں بھی بہت وقت لگتا تھا جبکہ بعض اوقات پروڈیوسر وقت بھی نہیں دیتا تھا، لیکن اب آپ بس دھن اور ایک بہتر پرامپٹ اے آئی ایپ کو دیں اور وہ آپ کو ایک بہتر ٹریک تیار کر کے دیتی ہے۔
انہوں نے اپنی گلوکاری میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے بتایا کہ ’میں ایپ کو اپنی مرضی کی دھن دے دیتا ہوں اور لیرکس بھی خود دیتا ہوں، اسی کی بنیاد پر اے آئی ایپ مجھے ٹریک تیار کر کے دیتی ہے۔‘
ارسلان نے اے آئی کے گلوکاروں کی جگہ لینے کے حوالے سے بتایا کہ ’مصنوعی ذہانت کے پیچھے بیٹھا انسان ہی ہے، جتنی بہتر پرامپٹ دیں گے، اتنا ہی اچھا نتیجہ آپ کو ملے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ موسیقی کے شوقین بہتر دھن، آواز اور لیرکس کو دیکھتے اور سنتے ہیں، چاہے ٹریک اے آئی سے بنا ہو یا انسان نے بنایا ہو۔
دوسری جانب ارشو بنگش کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ کوئی بھی موسیقی کا شوقین شخص اس کے ذریعے بہتر انداز میں اپنا گانا تیار کر سکتا ہے اور اپنا شوق پورا کر سکتا ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’جتنے بھی تجربہ کار موسیقار یا گلوکار ہیں، اگر وہ اے آئی اور ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کریں تو میرے خیال میں ان کے لیے اس شعبے میں کام کرنا ایک چیلنج بنتا جائے گا۔ ‘

