ڈیل،ڈھیل اور قبولیت – ایکسپریس اردو

2726760 SalmanAbid 1729190119


اکثرسیاسی تجزیہ کاروں اور ٹی وی اینکرز کے بقول بانی پی ٹی آئی کا معاملہ ڈیل،ڈھیل اور قبولیت کے درمیان لٹکا ہواہے کیونکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جوڑ توڑ ، کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر راستہ نکلتا ہے۔ دوسری طرف ایسے تجزیہ نگار اور اینکرز ہیں جن کا خیال ہے کہ پس پردہ جو کچھ بھی ہے ، ڈیل ، ڈھیل یا قبولیت نہیں ہوگی۔

 بانی سمیت پی ٹی آئی کے کئی اہم لیڈر پچھلے 3برس سے جیل میں ہیں ۔ وہ اپنے مقدمات لڑ رہے ہیں، ایک دو کے سوا کسی کو ضمانت پر رہائی نہیں ملی ہے۔ ادھر پی ٹی آئی کی مفاہمتی سیاست ڈیڈ لاک کی کہانی سناتی ہے ۔اس لیے ہمیں قومی سیاست میں کسی ڈیل کلچر کے بجائے نارمل سیاسی کلچرکی ضرورت ہے۔جس میں بنیادی طور پر آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع بن کر اس ملک کے نظام کو چلایا جائے اور جو لوگ بھی اس کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں ان کے ساتھ آئین اور قانون کی حکمرانی کے مطابق ہی نمٹا جائے۔ ڈیل،ڈھیل اور قبولیت کی باتیں اس وقت سامنے آتی ہیں، جب ہم جمہوری کلچر اور روایات سے انحراف کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہماری سیاست اور نظام کی ساکھ پر مختلف نوعیت کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

اس لیے بانی پی ٹی آئی کے معاملات کو بھی انھی پیرائے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔اگر ماضی کی روایات کو جاری رکھا گیا تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ سیاست اور جمہوریت بہتری کی طرف نہیں بڑھ رہی ۔ بہرحال کہیں سے تو ہمیں اپنی بہتری کے سفر کا آغاز کرنا ہے اور عملا یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ مقابلہ بازی اور سیاسی رنجش اور سیاسی دشمنی کا کھیل اب ختم ہونا چاہیے تاکہ پاکستان کی سیاست کو سیاسی اور جمہوری خطوط پر استوار کرسکیں۔ ہم نے جو سیاسی کلچر اختیار کررکھا ہے،اس کی وجہ سے قومی سیاست کا بند دروازہ کبھی نہیں کھل سکے گا اور بے جواز تلخیاں ہیں، ان کا بھی خاتمہ ممکن نہیں ہوسکے گا۔

اس لیے ہم سب کو ماضی کی ناکامیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے کی عملا ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم مجموعی طور پر جن مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، یہ معمولی مسائل ہیں اور ان کی قومی مسائل کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں۔ ہمیں جن بڑے قومی چیلنجز کا سامنا ہے ، اس پر مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے اور سیاسی تلخیوں کا خاتمہ ہماری پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔یہ جو سیاسی نجومی رات دن کسی کی حمایت اور مخالفت میں جن کے ریموٹ کنٹرول خود ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہیں وہ بھی سیاسی تناؤ اور سیاسی کشیدگی میں کسی کے ترجمان بن کر حالات کو خراب کررہے ہیں۔حالات کو خراب کرنے کی ذمے داری ایک طرف کی نہیں ہے بلکہ دونوں اطراف کے لوگ حالات خراب کرتے ہیں اور قومی سیاست کو عملا مفاہمت کی سیاست کی طرف لانے سے روکنے کا سبب بن رہے ہیں۔

قومی سیاست اس وقت سیاسی استحکام چاہتی ہے اور وہ کسی سیاسی مہم جوئی کی سیاست کے ساتھ ممکن نہیں۔اس لیے اگر ہم نے نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے میں سیاسی کارڈ بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ کسی سیاسی ڈیل یا ڈھیل کے ساتھ لے کر آگے بڑھنی تو اس سے بھی سیاسی کشیدگی میں کمی نہیں بلکہ اور زیادہ اضافہ ہوگا۔نئے صوبوں کا معاملہ بھی مکمل طور پر آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق حل ہونا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کا ایڈونچرزنہیں ہونا چاہیے۔جہاں تک کسی کی سیاسی قبولیت کا تعلق ہے تو یہ بھی فیصلہ کسی اور نے نہیں بلکہ عوام نے کرنا ہے اوریہ حق حکمرانی ووٹ کی بنیاد پر عوام کو دے کر ہی ہم اس عملی نظام کی ساکھ بچاسکتے ہیں۔

یہ جو ہمارے حکمرانی کے نظام میں تضاد ہے اس کو ہر صورت ختم ہونا چاہیے۔ہر تین برس کے بعد ہمارے یہاں سیاسی موسم بدلتا ہے اور نئی سیاسی تبدیلیوں کا سیاسی دربار سجایا جاتا ہے، اس کھیل نے ملک سے جمہوری نظام کو نہ صرف کمزور کیا ہے بلکہ اس نظام کے عملا سیاسی تسلسل کو بھی ختم کیا ہے۔ سیاسی قوتوں کے درمیان ایسا معاہدہ درکار ہے جو جمہوریت ،آئین اور قانون کی حکمرانی کے تسلسل کو آگے بڑھانے میںمعاون ثابت ہوسکے۔ ڈیل،ڈھیل اور قبولیت کی بنیاد پر سجائے جانے والا سیاسی دربار کسی بھی سطح پر ہمارے مسائل کا حل نہیں ہے اور یہ حکمرانی کے نظام کو کمزور کررہا ہے۔ہمیں خود کو ایک مضبوط ریاست میں تبدیل کرنا ہے ۔یہ جو ریاست ،حکومت اور عوام کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے، اس کی بھی بڑی وجہ نظام پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد ہے۔اس بداعتمادی کے عمل کو ختم ہوناچاہیے اورلوگوں کا ریاست کے نظام پر اعتماد بڑھتا ہوا نظر آئے۔ہمیں اب یہ طے کرنا ہوگا کہ حکمرانی کے نظام کو ہم نے کیسے چلانا ہے۔

بنیادی مسئلہ تو حکمرانی کے نظام کا ہے جس میں ہم بنیادی نوعیت کی تبدیلی لانے کے لیے تیار نہیں۔ہم اب بھی مرکزیت کی بنیاد پر یعنی زیادہ سے زیادہ اختیارات کو اپنے کنٹرول میں رکھ کر لوگوں کو حقیقی حکمرانی کے نظام اور اس کی افادیت سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔جو تبدیلیاں اس نظام کو درکار ہیں اس پر ہماری کوئی توجہ نہیں اور نہ ہی یہ ہماری سیاسی ترجیحات کا حصہ نظر آتی ہیں ۔اس کے مقابلے میں قومی سیاست کا سب سے محبوب سیاسی مشغلہ ڈیل،ڈھیل اور قبولیت کی سیاست ہے اور سب ہی ان بحثوں میں الجھ کر قومی مسائل کی حساسیت کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ رہے ہیں۔بعض اوقات یہ احساس یا سوچ اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اس ملک کے پڑھے لکھے یا رائے عامہ بنانے والے لوگ بھی طاقت ور طبقات کی نام نہاد سیاست کا حصہ بن کر عوامی مفادات اور قومی مفادات کی قربانی دے کر اپنے مفادات کو اہمیت دیتے ہیں۔اس لیے موجودہ سیاسی صورتحال میں ہمیں اپنا سیاسی اور حکمرانی کے بیانیہ کو بدلنے کی ضرورت ہے اور اس بیانیہ کو طاقت ور طبقات کے مقابلے میں عام آدمی کے مفادات ہی کے ساتھ جوڑنی ہوگی۔ خدارا ماضی کی اس سیاست اور جمہوریت کے نظام کے ساتھ خود کو باہر نکالنا ہوگا جہاں حکومتوں کو بنانے اور بگاڑنے کا یہ عملی کھیل کھیلا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ہم ایک مستحکم سیاسی نظام قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔کسی بھی ریاست کا نظام اسی صورت میں آگے بڑھتا ہے جب سب فریق یا ادارے ہر سطح پر کسی نہ کسی کو یا آئین و قانون کو جوابدہ ہوتے ہیں۔

ایسے ہی ریاستوں کو جمہوری اور سیاسی یا مہذب ریاستوں کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ ہمیں آگے بڑھنا ہے تو افراد یاا داروں کو اپنے اندر خود جھانک کر خود احتسابی کے نظام کے نظام میں بھی پرکھنا ہوگا کہ وہ خود کہاں کھڑے ہیں۔خدارا ہمیں اپنی ریاست اور حکمرانی کے نظام کو تماشہ بنانے سے گریز کرناچاہیے اور دنیا سے یہ سیکھنا ہوگا کہ ترقی کیسے کی جاتی ہے اور دنیا میں اپنی اچھی پہچان کے پیمانے کیا ہیں۔ایک بات ہمیں یہ سمجھنی ہوگی کہ ہم نے نظام کو چلانے کے لیے جتنے بھی سیاسی،غیر سیاسی، ایڈہاک یا عارضی بندوبست کیے یا لوگوں کو حق حکمرانی کے نظام سے دور رکھ کر نظاموں کو چلانے کی کوشش کی ہے، وہ سب تجربے ناکامی سے دوچار ہیں۔کیا ہی اچھا ہو اب ہم ان حالات میں ایک تجربہ اس ملک میں سیاسی، جمہوری،آئینی او ر قانونی بنیادوں پر کرکے بھی دیکھ لیں تو شائد ہم اپنے اس فرسودہ اور غیر جمہوری نظام کی اصلاح کرکے لوگوں کا اس نظام پر اعتماد بحال کرسکیں ۔





Source link

متعلقہ پوسٹ