سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور، اپوزیشن کا بائیکاٹ

398212 356607301


سندھ اسمبلی نے جمعرات کو صوبے کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نثار احمد کھوڑو کو قرارداد نے قرارداد پیش کی۔ پیپلز پارٹی کے ارکان قراداد کی منظوری پر بینچوں پر کھڑے ہوگئے۔ ارکان نے کتبے اٹھا رکھے جن پر ’سندھ دھرتی ماں‘ کا نعرہ درج تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے اس موقع پر اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ 

سندھ اسمبلی میں ایک تحریک التوا پر مباحثے کے بعد پیپلز پارٹی کے رکن نثار کھوڑو نے ایوان میں سپیکر اویس قادر شاہ کی اجازت کے بعد قرارداد پیش کی۔ نثار کھوڑو نے قرارداد پیش کی تو ایوان میں پیپلز پارٹی کے 105 اراکین موجود تھے جبکہ اپوزیشن کا ایک بھی رکن ایوان میں نہیں تھا۔

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث کوئی نئی نہیں، تاہم تازہ اور بھرپور سیاسی بحث گذشتہ دنوں اس وقت دوبارہ شروع ہوئی جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامی نظام ناکام ہو چکا ہے اور نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں پر عوامی سطح پر بحث ہونی چاہیے۔ 

قرارداد پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خطاب میں کہا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ صوبے کی تقسیم سے متعلق اقدام منتخب ایوان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی تقسیم کی سازشیں قیام پاکستان کے فورا بعد سے شروع ہوگئی تھیں لیکن انہیں ناکام بنیا گیا۔

صوبائی وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو نے آئین دیا۔ اس آئین میں صوبوں کی تقسیم کا اختیار قومی اسمبلی کو بھی نہیں تھا۔ بعد میں جنرل ضیا نے ترمیم کر کے یہ اختیار قومی اسمبلی کو دیا لیکن شرط رکھی کہ صدر دو تہائی اکثریت کے بغیر دستخط نہیں کریں گے۔ اسی لیے ہم بار بار قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں کہ خبردار سندھ کی تقسیم پر بات بھی نہ کرنا۔‘

مراد علی شاہ نے سندھ کی وحدت کے دفاع کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور صوبے کی تقسیم سے متعلق کوئی بھی اقدام سندھ کے منتخب ایوان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں، سندھ اسمبلی اپنے آئینی حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن نے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات شامل کرنے کی تجویز دی، انتظامی یونٹس کے قیام کو سندھ کی تقسیم کے بنیادی معاملے کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں، انتظامی یونٹس کے قیام پر الگ بحث کرنی تھی تو علیحدہ قرارداد لائی جاسکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم والے اسمبلی میں آ کر کہتے ہیں کہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے لیکن باہر جا کر کہتے ہیں کہ انتظامی یونٹ بن جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے؟

فریال تالپور، شرجیل میمن، ضیا الحسن لنجار، سعید غنی، سردار شاہ اورمکیش کمار چاولہ کا کہنا تھا کہ ’ہماری زندگی بھی سندھ کی وحدانیت سے بڑھ کر نہیں ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ