اسٹنگ ریز اور کراچی کا ساحل

stingrays1788605341 0



حالیہ دنوں کراچی کے کلفٹن اور سی ویو ساحل کے قریب اسٹنگ ریز کی بڑی تعداد دیکھنے میں آئی۔ مقامی ماہی گیروں نے ان مچھلیوں کو جال میں بڑی تعداد میں پکڑا۔ اس واقعے نے لوگوں کی توجہ سمندری حیات اور پاکستان کے سمندری حیاتیاتی وسائل کی طرف دوبارہ مبذول کرائی ہے۔ اسٹنگ ریز پاکستان کے ساحلی پانیوں میں پائی جانے والی اہم سمندری مخلوقات میں شامل ہیں۔

اسٹنگ ریز عام طور پر سمندر کے نسبتاً کم گہرے پانی میں ریت کے قریب رہتی ہیں۔ ان کے جسم کی ساخت اور رنگ انہیں ریت میں چھپنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کے ساحل کے قریب آنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں مون سون کے دوران سمندری حالات میں تبدیلی، خوراک کی دستیابی، افزائشِ نسل اور سمندر کے ماحول میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ تاہم، صرف ساحل کے قریب ان کی زیادہ تعداد میں موجودگی کو ان کی مجموعی آبادی میں اضافے کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا۔

اسٹنگ ریز سمندری ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ سمندر کی تہہ میں موجود مختلف چھوٹے جانداروں کو خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور سمندری غذائی زنجیر کا حصہ ہیں۔ اس لیے ان کی موجودگی سمندری ماحولیاتی نظام کے توازن کے لیے اہم ہے۔ دوسری طرف، ضرورت سے زیادہ شکار سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس لیے ان جانداروں کے تحفظ اور پائیدار استعمال کی ضرورت ہے۔

یہ واقعہ میرین بایوٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی بہت اہم ہے۔ میرین بایوٹیکنالوجی میں سمندری جانداروں، ان کے خلیات، جینز، انزائمز اور بایولوجیکل کمپاؤنڈز کا مطالعہ کرکے انسانوں کے لیے مفید مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ اسٹنگ ریز سمیت مختلف میرین آرگینزمز میں ایسے بایوایکٹو کمپاؤنڈز موجود ہو سکتے ہیں جو مستقبل میں میڈیسن، فارماسیوٹیکلز، بایومیٹیریلز اور دیگر شعبوں میں تحقیق کے لیے اہم ثابت ہوں۔

پاکستان کے پاس بحیرۂ عرب کے ساتھ ایک وسیع ساحلی علاقہ اور بہت زیادہ میرین بایو ڈائیورسٹی موجود ہے۔ اسٹنگ ریز کا یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ ہمارے ساحلی علاقوں میں ایسے بہت سے میرین بایو ریسورسز موجود ہیں جن پر ابھی مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔ اگر ان جانداروں کا سائنسی اور پائیدار طریقے سے مطالعہ کیا جائے تو نئی ادویات، بایوایکٹو کمپاؤنڈز اور دیگر مفید مصنوعات کی دریافت کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

تاہم، میرین بایوٹیکنالوجی میں سمندری وسائل کے استعمال کے ساتھ ان کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ غیر ضروری شکار، آلودگی، پلاسٹک ویسٹ اور سمندری ماحول میں ہونے والی دوسری تبدیلیاں میرین آرگینزمز کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ اس لیے میرین ریسورسز کو استعمال کرتے وقت سسٹین ایبل ہارویسٹنگ، انوائرنمنٹل پروٹیکشن اور بایو ڈائیورسٹی کنزرویشن کو خاص اہمیت دینی چاہیے۔

کراچی کے کلفٹن اور سی ویو کے ساحل پر اسٹنگ ریز کی بڑی تعداد میں موجودگی پاکستان کی بھرپور سمندری حیاتیاتی دولت کی ایک اہم مثال ہے۔ یہ واقعہ ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہمارے سمندری وسائل صرف خوراک یا ماہی گیری تک محدود نہیں بلکہ ان میں تحقیق، ادویات، صنعت اور بایوٹیکنالوجی کے لیے بھی بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے۔ میرین بایوٹیکنالوجی کی مدد سے ان وسائل کا سائنسی اور پائیدار استعمال پاکستان کی تحقیق، ماحول کے تحفظ اور بلیو اکانومی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ