ویڈیو کا اسکرین گریب۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کے مطالبے کو لے کر 25 ستمبر کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہے کئی طلبہ اور شہریوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ان میں دی وائر کے نامہ نگار محمد عرفان، آئسا کی صدر نہا، سی پی آئی (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، سماجی کارکن یوگیندر یادو اور انجلی بھاردواج سمیت کئی دیگر مظاہرین شامل ہیں۔
نئی دہلی: دہلی پولیس نے آج (25 ستمبر) نئی دہلی کے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کرنے والے کئی طلبہ اور شہریوں کو گھسیٹ کر حراست میں لیا۔
حراست میں لیے گئے لوگوں میں مقبول یوٹیوبر اور دی وائر کے نامہ نگار محمد عرفان بھی شامل ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ پولیس نے ان کا مائیکروفون بھی پھینک دیا۔
حراست میں لیے گئے لوگوں میں آئسا کی قومی صدر نہا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ اور کارکن یوگیندر یادو اور انجلی بھاردواج بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ریوولیوشنری ورکرز پارٹی آف انڈیا کے کئی کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
Students protesting at Jantar Mantar brutally detained to protect CEC Gyanesh Kumar who has sold out the electoral system and the nation. pic.twitter.com/rlNiAC0xb4
— Neha (@neha_aisa) September 25, 2026
بھٹاچاریہ نے ایکس پر پوسٹ کیا، ’آپ ایک احتجاج کو روک سکتے ہیں اور ہم میں سے کچھ لوگوں کو حراست میں لے سکتے ہیں، لیکن گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ اب پورے ملک میں گونج رہا ہے اور اسے دبایا نہیں جا سکتا۔‘
Had joined AISA President Neha, Yogendra Yadav, noted lawyer Prashant Bhushan, transparency activist Anjali Bharadwaj, AIKM General Secretary Purushottam Sharma and scores of student activists and progressive citizens of Delhi at Jantar Mantar to demand resignation of… pic.twitter.com/5hOevngnGJ
— Dipankar (@Dipankar_cpiml) September 25, 2026
بتایا جا رہا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں حراست میں لے کر نامعلوم جگہوں پر لے جایا گیا۔ پولیس نے جنتر منتر کی جانب جانے اور وہاں سے نکلنے والے راستوں کو بھی بند کر دیا۔
پولیس اہلکاروں کی وردی پر نیم ٹیگ نہ ہونے کو لے کر بھی سوال اٹھے ہیں۔ اس سے جولائی میں اسی جگہ پر سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر ہوئے مظاہروں کے دوران پولیس کی مبینہ سختی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
نہتے مظاہرین کو روکنے کے لیے غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا تھا۔ بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکار بھی موجود تھے۔
وکیل پرشانت بھوشن نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، ’انڈین ایکسپریس میں گیانیش کمار کے کھلے طور پر غیر قانونی اور یکطرفہ طریقے سے کام کرنے کے حوالے سے ہونے والے انکشافات اور ان کے استعفیٰ اور مقدمہ چلانے کے بڑھتے مطالبے کے بعد حکومت واضح طور پر گھبراہٹ میں ہے۔‘
अपराधियों को पकड़ने की बजाय वोट चोरों को बचाने के लिए दिल्ली पुलिस ने हम सब को हिरासत में ले लिया है – दीपांकर भट्टाचार्य, अंजली भारद्वाज और नेहा बोरा सहित मुझे और अनेक युवा साथियों को दिल्ली कैंट के करीब कहीं ले जा रहे हैं, अभी बताया नहीं किस थाने में। https://t.co/Ic4veBeACm pic.twitter.com/W7mY92h30s
— Yogendra Yadav (@_YogendraYadav) September 25, 2026
یوگیندر یادو نے ایکس پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا، ’مجرموں کو پکڑنے کے بجائے ووٹ چوروں کو بچانے کے لیے دہلی پولیس نے ہم سب کو حراست میں لے لیا ہے۔ دیپانکر بھٹاچاریہ، انجلی بھاردواج اور نہا بورا سمیت مجھے اور کئی نوجوان ساتھیوں کو دہلی کینٹ کے قریب کہیں لے جایا جا رہا ہے، ابھی یہ نہیں بتایا گیا کہ کس تھانے میں۔‘

