پاکستان اور سعودی عرب میں سائبر سکیورٹی تعاون کا معاہدہ

398291 2021381798


پاکستان اور سعودی عرب نے حال ہی میں ریاض میں منعقد ہونے والی لیپ (LEAP) 2026 ٹیکنالوجی کانفرنس کے دوران دوطرفہ سائبر سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔

لیپ سعودی عرب کی ٹیکنالوجی سے متعلق سالانہ ہونے والی اہم ترین کانفرنس ہے۔

اس سال یہ کانفرنس 31 اگست سے تین ستمبر تک جاری رہی جس میں ایک ہزار 800 سے زائد ٹیکنالوجی برانڈز، 600 سٹارٹ اپس اور ایک ہزار 900 سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔

پاکستان کی وزارت آئی ٹی نے پیر کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے لیپ 2026 کا ’کامیاب‘ دورہ مکمل کیا، جہاں انہوں نے کلیدی خطاب کیا اور پاکستانی وفد کی قیادت کی۔

اس موقع پر پاکستانی وفد نے ملک کی ڈیجیٹل صلاحیتوں اور جدت طرازی کو اجاگر کیا اور ’نمایاں سرمایہ کاری‘ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور سعودی عرب کی نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی (این سی اے) کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد ماہرین اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے کے ذریعے دوطرفہ سائبر سکیورٹی تعاون مضبوط بنانا اور ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنا ہے۔

وزارت آئی ٹی کے مطابق شزا فاطمہ خواجہ نے لیپ 2026 کے موقع پر سعودی حکام کے ساتھ متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔

ان میں سعودی عرب کے وزیرِ آئی ٹی و مواصلات عبداللہ السواح، الجزائر کے وزیر برائے معیشت علم، سٹارٹ اپس اور مائیکرو انٹرپرائزز ڈاکٹر نورالدین وداح، جمہوریہ کوریا کے وزیر برائے سائنس و آئی سی ٹی بائی کیونگ ہون اور ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کی سیکریٹری جنرل دیمہ الیحییٰ سمیت دیگر حکام شامل تھے۔

وزارت نے بتایا کہ شزا فاطمہ خواجہ نے اپنے دورے کے دوران ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان پویلین کا باضابطہ افتتاح بھی کیا۔

پویلین میں 25 سٹارٹ اپس اور 50 سے زائد معروف پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں اپنے حل پیش کیے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ لیپ 2026 میں پاکستان کی شرکت کا مقصد کاروباری اداروں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینا، بین الاقوامی سرمایہ کاری حاصل کرنا اور ملک کے ٹیکنالوجی شعبے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانا تھا۔

وزارت آئی ٹی نے کہا کہ اس تقریب کے نتیجے میں بعض پاکستانی سٹارٹ اپس کے لیے ’ٹھوس نتائج‘ سامنے آئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزارت کے مطابق پاکستانی بزنس آٹومیشن پلیٹ فارم آفس فلو اے آئی نے سعودی عرب کے معروف ٹیکنالوجی ایکو سسٹمز میں شامل ظہران ٹیکنو ویلی (ڈی ٹی وی) کے ساتھ انکیوبیشن پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط کیے۔

اس معاہدے کا مقصد خطے بھر میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے بزنس آٹومیشن پلیٹ فارم کی تیاری اور توسیع ہے۔ وزارت نے بتایا کہ آفس فلو اے آئی نے ایم آئی ایس عربیہ کے ساتھ بھی معاہدہ کیا ہے، جو سعودی عرب کی ایک بڑی ٹیکنالوجی سروسز کمپنی ہے اور آرامکو سمیت بڑے اداروں کو خدمات فراہم کرتی ہے۔

دریں اثنا، پاکستانی وزارتِ آئی ٹی کے زیرِ انتظام اور اِگنائٹ کی معاونت سے چلنے والے سٹارٹ اپ ایڈورسٹی نے لیپ 2026 کے دوران ریپڈیو گروپ سے چار لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جس کا مقصد اپنی بین الاقوامی توسیع اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے تعلیمی پلیٹ فارم کو وسعت دینا ہے۔

پاکستان نے حالیہ عرصے میں سعودی عرب کے ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی کوششیں تیز کی ہیں، جبکہ ملک کی ٹیکنالوجی برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن (پاشا) کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی ٹیکنالوجی برآمدات ریکارڈ 4.6  ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

دوسری جانب سعودی عرب ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے تیزی سے اہم مارکیٹ بنتا جا رہا ہے کیونکہ مملکت اپنے وژن 2030 کے تحت معیشت کو متنوع بنانے کے پروگرام کے تحت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ