گجرات کے بھاؤ نگر میں پولیس پر ایک مسلم شخص کو کھلے عام بے رحمی سے پیٹنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ مذکورہ واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پی یو سی ایل نے ریاستی حکومت کے اعلیٰ حکام کو قانونی نوٹس بھیج کر قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ 5ستمبر 2026 کو گجرات کے بھاؤ نگر میں پولیس کے ہاتھوں فیضل کی پٹائی کیے جانے والے وائرل ویڈیو کا اسکرین شاٹ۔
نئی دہلی: گجرات کے بھاؤ نگر شہر میں سنیچر (5 ستمبر) کو پولیس پر ایک مسلم شخص کو سرعام بے رحمی سے پٹائی کرنے کا الزام لگاہے۔
اس واقعہ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے، جس میں ایک شخص، جس کی بعد میں پہچان فیضل کے طور پر ہوئی، درد سے کراہتے اور رحم کی اپیل کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، وہیں پولیس اہلکار ان پر مسلسل لاٹھیاں برسا رہے ہیں۔
پیپلز یونین فار سول لبرٹیز (پی یو سی ایل) کی گجرات یونٹ نے اس مبینہ تشدد کے سلسلے میں ریاست کے چیف سکریٹری، ایڈیشنل چیف سکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔
اس سلسلے میں پی یو سی ایل گجرات کے سکریٹری مجاہد نفیس نے دی وائر سے کہا کہ مبینہ مجرموں کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس کے پاس قانونی طریقے موجود ہیں، لیکن اس کے نام پر کسی شخص کو سرِعام گھمانا یا حراست میں اس کے ساتھ تشدد کرنا قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے کہا،’پولیس کے پاس مبینہ مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے طریقے اور قوانین ہیں۔ وہ لوگوں کو حراست میں لے سکتے ہیں، جرائم کی تفتیش کر سکتے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کر سکتے ہیں۔ وہ کسی کی سرِعام پریڈ نہیں کرا سکتے، حراست میں تشدد نہیں کر سکتے اور تفتیش کے طریقے کو لے کر عدالت کے فیصلوں کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ ‘
پی یو سی ایل کے قانونی نوٹس کے مطابق، فیضل، جنہیں کھٹکی رفیق بھائی لکھانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو بھاؤ نگر پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا تھا۔ نیلم باغ تھانے کے انسپکٹر ڈی پی انادکت کی سربراہی میں پولیس انہیں مبینہ جائے وقوعہ پر لے گئی، جہاں ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔
نفیس کی جانب سے شیئر کیے گئے نوٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس نے تفتیش کرنے کے بجائے فیضل کو رسیوں سے باندھ دیا اور سرعام لاٹھیوں سے سو سے زیادہ مرتبہ مارا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس مبینہ تشدد کے ابتدائی چار منٹ کے اندر ہی اس پر 40 سے زیادہ وار کیے گئے۔
نوٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ فیضل کے پیروں کے درمیان ایک ڈنڈا رکھا گیا،اور اس کے بعد بھی اس کی پٹائی جاری رہی۔ یہ بھی الزام ہے کہ انہیں رسیوں سے باندھ کر گھٹنوں کے بل رینگنے اور گھسیٹے جانے پر مجبور کیا گیا۔ نوٹس کے مطابق، پٹائی کے دوران ان کے کپڑے پھٹ گئے اور وہ زمین پر گر پڑے، اس کے باوجود مارپیٹ جاری رہی۔ بعد میں انہیں رسیوں کے سہارے کھڑا کرکے پھر سےپیٹا گیا۔
پی یو سی ایل نے اپنے قانونی نوٹس میں سپریم کورٹ کے ڈی کے بسو بنام ریاست مغربی بنگال (1977) معاملے کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا ہے۔ یہ فیصلہ حراست اور پوچھ گچھ کے دوران پولیس کے لیے اصول و ضوابط طے کرتا ہے اور ایسی صورتحال میں ملزم کے حقوق کو واضح کرتا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مئی 2026 میں گجرات پولیس نے خود تمام اضلاع کے پولیس افسران کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملات میں سخت تادیبی کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔
پی یو سی ایل کا کہنا ہے کہ فیضل کے خلاف مبینہ تشدد کے معاملے میں ریاستی حکام، جن میں اعلیٰ پولیس افسران بھی شامل ہیں، ’خاموش تماشائی‘ بن کر نہیں رہ سکتے، کیونکہ ایسا کرنا اس طرح کے تشدد کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہوگا۔
پی یو سی ایل نے مبینہ طور پر قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کے ساتھ ساتھ فوجداری سے متعلق کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ریاستی حکومت کو بھیجے گئے نوٹس اور وائرل ویڈیو میں نظر آرہے واقعات کے مطابق، فیضل کو بھاؤ نگر کے ایک بس اسٹینڈ پر کھمبے سے باندھا گیا تھا۔ انہیں ایک بنچ اور پولیس کی گاڑی سے بھی باندھے جانے کی بات کہی گئی، تاکہ پٹائی جاری رکھنے کے دوران کسی دوسرے پولیس اہلکار کو انہیں پکڑ کر رکھنے کی ضرورت نہ پڑے۔
وائرل ویڈیو میں کم از کم چار پولیس اہلکار فیضل کی پٹائی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
غور طلب ہے کہ متعدد خبروں کے مطابق، فیضل پر اپنی آٹھ سال کی ساتھی رہیں کاجل بین کو مبینہ طور پر قتل کرنے کا الزام ہے۔

