غزہ پر امریکی حمایت کے خلاف ٹرمپ کی سابق حلیف مارجوری ٹیلر گرین برہم

greene 0709 d


واشنگٹن
سابق امریکی رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے اسرائیل کو مسلسل امریکی فوجی و مالی مدد دینے والے سیاسی لیڈروں اور غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں پر خاموش رہنے والی مسیحی مذہبی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس خاموشی کا "حساب” دینا پڑے گا۔
گرین نے ایکس پر کہا: "دسیوں ہزار بچے ہلاک ہوچکے ہیں اور بہت سے زندگی بھر کے لیے زخمی، معذور یا یتیم ہوگئے ہیں، پھر بھی امریکہ کے منتخب حکومتی لیڈر رقم اور فوجی مدد بھیجتے رہتے ہیں۔ امریکی مسیحی چرچ بڑی حد تک خاموش ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "اس دن، مجھے نہیں لگتا کہ یہ اچھی طرح ختم ہوگا۔” انہوں نے واضح نہیں کیا کہ "اس دن” سے ان کی مراد کیا ہے، تاہم اس بیان کو مذہبی تناظر میں یومِ حساب یا قیامت کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
گرین کی یہ تنقید ان کے سابق سیاسی موقف کے مقابلے میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وہ ۲۰۲۱ء سے امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن رہیں اور کئی برس تک ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی "MAGA” سیاست کی نمایاں حامی سمجھی جاتی تھیں۔ تاہم ۲۰۲۵ء کے آخر میں ٹرمپ سے ان کے تعلقات میں شدید اختلاف پیدا ہوا اور انہوں نے ۵ جنوری ۲۰۲۶ء کو کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔ اختلافات میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت، خارجہ پالیسی اور صحتِ عامہ جیسے معاملات شامل تھے۔
تازہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتیں جاری ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک ۱۳۴۴ فلسطینی ہلاک اور ۴۴۶۴ زخمی ہوچکے ہیں۔ مجموعی طور پر اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری جنگ میں فلسطینی حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ۷۳۵۰۰ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ۱۷۴۰۰۰ سے زیادہ ہے۔ ۷ ستمبر کو غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مزید ۵ فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں ۲ بچے شامل تھے۔
امریکی انتظامیہ کے اندر بھی اختلاف کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے ۶ ستمبر کو غزہ کے معاملے میں اسرائیلی حکومت کو اندرونی سیاسی دباؤ کے باعث "تھوڑا غیر معقول” قرار دیا اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر واشنگٹن کی تشویش کا اظہار کیا۔ گرین اب کانگریس کی رکن نہیں ہیں، لیکن ان کا بیان امریکی دائیں بازو کے اندر اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر بڑھتی بحث کی ایک نمایاں مثال ہے۔

متعلقہ پوسٹ