پاکستانی وزارت اطلاعات نے پیر کو کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھیجا گیا 100 ٹن امدادی سامان اتوار کی شب نیپال پہنچ گیا، جہاں پاکستان کے سفیر نے اسے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقسیم کے لیے نیپالی حکام کے حوالے کر دیا۔
یہ امداد ایسے وقت بھیجی گئی ہے جب گلیشیئر پھٹنے اور پہاڑی تودے گرنے کے واقعات میں اموات کی تعداد ایک ہزار 300 سے تجاوز کر گئی ہے۔
26 اگست کو برفانی پانی اور ملبے کا سیلاب پہاڑی اضلاع سے گزرا، جس کے نتیجے میں سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ تباہی کی شدت کے باعث امداد پہنچانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اقوام متحدہ نے 84 ہزار سے زائد افراد کی مدد کے لیے پانچ کروڑ ڈالر کی امداد کی اپیل بھی کی ہے۔
پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے نیپال کے لیے 100 ٹن انسانی امداد روانہ کی، جو اتوار کی رات کھٹمنڈو پہنچ گئی۔
پاکستانی وزارت اطلاعات نے جاری بیان میں کہا: ’پاکستان کے نیپال میں سفیر محمد عامر خان نے امدادی سامان نیپالی وزیر مہابیر پون کے حوالے کیا۔‘
وزارت نے مزید کہا: ’یہ انسانی امداد قدرتی آفت کے وقت نیپال کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑے ہونے کے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کی این ڈی ایم اے کے مطابق امدادی سامان میں خیمے، کمبل، چٹائیاں، حفظان صحت کی کٹس اور ضروری ادویات شامل ہیں۔
مقامی پولیس کے مطابق مردہ خانوں میں گنجائش ختم ہونے کے باعث نیپال میں سینکڑوں لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا ہے، تاہم مستقبل میں شناخت کے لیے ان کے ڈی این اے کے نمونے لے لیے گئے ہیں۔
نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے اس تباہی کو ’ہمالیائی سونامی‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تعمیر نو کے اخراجات اربوں ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔
اگرچہ گلیشیئر کے پھٹنے کی درست وجہ واضح نہیں، تاہم دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھا رہی ہے، جس سے اس نوعیت کی قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
آفت سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق نیپال میں امدادی کارکن ایک ہزار 342 لاشیں نکال چکے ہیں جبکہ تقریباً چار ہزار 996 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ تبت میں اس آفت کے نتیجے میں اموات کی تعداد 31 سے بڑھ کر 43 ہوگئی ہے۔

