
(ویب ڈیسک )نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ایک ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ میں 9 دن تک پھنسے دو افراد کو بالآخر زندہ نکال لیا گیا۔ دونوں افراد نے مکمل اندھیرے، کیچڑ والے پانی اور شدید مشکلات کے باوجود ایک ایسے محدود فضائی حصے میں زندگی کی جنگ لڑی جو ان کے لیے قید خانہ بھی تھا اور زندگی کا واحد سہارا بھی۔
زندہ بچنے والوں میں ہائیڈرو پاور منصوبے کے کارکن کبیر مہارژن اور مکینیکل فورمین سنجے ساہ شامل ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق دونوں افراد ایک ایسے حصے میں موجود تھے جہاں سیلابی پانی مکمل طور پر نہیں پہنچ سکا تھا اور ہوا موجود تھی۔
یہ واقعہ 26 اگست کو پیش آنے والی تباہی کے بعد سامنے آیا، جب ایک گلیشیئر کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آنے والے شدید سیلاب اور مٹی کے تودے نے دریائے بھوٹیکوشی کی وادی میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس قدرتی آفت میں 1300 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں لاپتا ہوئے۔
کبیر مہارژن نے سانحے کے روز اپنی اہلیہ کو فون کرکے بتایا تھا کہ وہ سرنگ کے اندر کام کے لیے جارہے ہیں اور وہاں موبائل نیٹ ورک دستیاب نہیں ہوگا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد گلیشیئر کے انہدام سے آنے والی تباہ کن لہروں نے متعدد ہائیڈرو پاور منصوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں:PTIکا ایک اور اہم رہنما گرفتار
ریسکیو ٹیموں کے لیے دونوں افراد تک پہنچنا انتہائی مشکل تھا۔ سرنگوں کے راستے مٹی، چٹانوں، لکڑی اور دیگر ملبے سے بند تھے، جبکہ بعض مقامات پر ملبے کی تہہ 15 سے 30 میٹر تک گہری تھی۔ بارش نے ریسکیو آپریشن کو مزید مشکل بنا دیا اور کئی مرتبہ کھودا گیا راستہ دوبارہ پانی اور ملبے سے بھر گیا۔
ریسکیو اہلکاروں نے سرنگ کا درست رخ معلوم کرنے کے لیے اوپر سے تقریباً 5 انچ چوڑا سوراخ بھی کیا۔ کئی دن کی مسلسل کوششوں کے بعد اہلکار بالآخر اس مقام کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوئے جہاں دونوں افراد موجود تھے۔
دسویں روز صبح تقریباً 4 بجے ریسکیو ٹیم کو اطلاع ملی کہ سرنگ کے اندر سے کوئی آواز سنائی دی ہے۔ اہلکاروں نے مشینیں بند کرکے دوبارہ آواز سننے کی کوشش کی۔ کچھ دیر بعد انہیں یقین ہوگیا کہ ملبے کے دوسری جانب کوئی زندہ شخص موجود ہے۔
ریسکیو ٹیم نے ملبہ ہٹایا تو روشنی کی ایک کرن میں ایک ہاتھ دکھائی دیا۔ مزید کئی میٹر ملبہ ہٹانے کے بعد اہلکاروں نے ایک چھوٹا سا سوراخ بنایا۔ سرنگ کے اندر سے آواز آئی: ’ہم یہاں ہیں۔
مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات مہنگی!نئی قیمتوں کا اعلان ہو گیا
بالآخر دونوں افراد کو سرنگ سے باہر نکال لیا گیا۔ سنجے ساہ اس قدر کمزور تھے کہ خود چل نہیں سکتے تھے اور انہیں ریسکیو اہلکار کی پشت پر باہر لایا گیا، جبکہ کبیر مہارژن کو شدید حالت کے باعث اسٹریچر پر منتقل کیا گیا۔
اسپتال پہنچنے کے بعد کبیر مہارژن کی حالت اس قدر خراب اور ذہنی کیفیت متاثر تھی کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو بھی فوری طور پر نہیں پہچانا۔ ان کی اہلیہ کے مطابق کبیر نے ہوش میں آنے کے بعد حیرت سے پوچھا کہ انہیں اب تک بستر کیوں نہیں دیا گیا۔
دونوں افراد کی معجزانہ بقا نے ان ریسکیو ٹیموں کے لیے امید پیدا کردی ہے جو اب بھی تباہ شدہ وادی کی دیگر سرنگوں میں پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

