غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) — غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری اور مسلسل جنگی تباہی کے باعث اب بچے نہ صرف جسمانی زخموں کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ متعدد بچے بولنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ جسمانی چوٹوں کے ساتھ ساتھ شدید ذہنی صدمے (ٹراما) کا بھی نتیجہ ہے۔
حالیہ رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ میں سینکڑوں بچے جنگی صدمات کے باعث خاموشی اختیار کر چکے ہیں۔ ان بچوں نے اپنے والدین، بہن بھائیوں اور گھروں کو تباہ ہوتے دیکھا اور اب یہ نہ رو سکتے ہیں، نہ بول سکتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات اس کیفیت کو "میوٹزم” یا صدماتی خاموشی کا نام دیتے ہیں، جس میں بچہ بولنے کی جسمانی صلاحیت رکھتے ہوئے بھی خوف اور صدمے کی وجہ سے بول نہیں پاتا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مناسب نفسیاتی علاج کے بغیر یہ خاموشی مستقل ہو سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف نے غزہ میں بچوں کی ذہنی صحت کو فوری ترجیح دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

