پاکستان کا افغان میڈیکل طلبہ کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ، افغانستان کی ’گہری تشویش‘

398315 1467685902


اسلام آباد میں افغان سفارت خانے نے منگل کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کی جانب سے پاکستان میں زیر تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کو ملک بدر کرنے سے متعلق فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سفارت خانے نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس اقدام سے ان افغان طلبہ کی تعلیمی پیش رفت اور مستقبل پر نمایاں اثر پڑے گا، جنہوں نے قانونی اور مقررہ طریقہ کار کے تحت اپنی تعلیم شروع کی اور کئی سال کی محنت، وقت اور خاطر خواہ مالی و ذاتی سرمایہ کاری کے بعد اب اپنی متعلقہ تعلیمی پروگرامز مکمل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔

افغان سفارت خانے نے پاکستان کے تعلیمی حکام کے ساتھ ساتھ متعلقہ بین الاقوامی طبی، تعلیمی، انسانی اور پیشہ ورانہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ پر مناسب توجہ دیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ وہ اپنی تعلیم بغیر کسی تعطل یا غیر ضروری رکاوٹ کے مکمل کر سکیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جائن کریں

سفارت خانے نے مزید زور دیا کہ ’علم، تعلیم اور انسانی تعلقات جیسے اہم شعبوں کو سیاسی اختلافات سے محفوظ رہنا چاہیے۔ تعلیمی اور تدریسی مواقع سیاسی اختلافات یا حالات میں ہونے والی پیش رفت سے متاثر نہیں ہونے چاہییں۔‘

پاکستان میں بعض میڈیکل اور ڈینٹل کالجز نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے ایک مراسلے پر عمل کرتے ہوئے زیر تعلیم افغان طلبہ کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ایم ڈی سی نے یکم ستمبر کو جاری مراسلے میں 31 جولائی کو جاری کی گئی ہدایات کو دوبارہ واضح کیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے مراسلے میں لکھا گیا ہے ’پالیسی کے مطابق تمام ادارے اس ضمن میں انتظامی طریقہ کار اور اجازت نامہ دیں اور طلبہ کو افغانستان واپس جانے میں مدد کی جائے۔ ‘

پی ایم ڈی سی نے اپنے خط میں یہ نہیں بتایا کہ اس وقت پاکستانی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں کتنے افغان طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کے قریب پہنچنے والے طلبہ کو اس فیصلے سے استثنیٰ دیا جائے گا یا نہیں۔

پنجاب میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور علامہ اقبال میڈیکل کالج نے افغان طلبہ کو سات ستمبر کو جاری ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے بتایا کہ وہ آٹھ ستمبر(آج) تک کالج میں ضروری دستاویزار جمع کر کے کلیئرنس کروائیں اور وہ افغانستان واپس چلے جائیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد نے کابل کے ساتھ سفارتی تعلقات میں شدید بگاڑ، عسکریت پسندوں کی دراندازی اور حملوں کے بعد افغان شہریوں کی ملک بدری تیزی کر دی ہے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق ستمبر 2023 سے 31 جولائی، 2026 کے درمیان 26 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ ملک بدریاں قومی سلامتی اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے ضروری ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا جبری واپسی، بالخصوص کمزور اور خطرے سے دوچار افغان شہریوں کو واپس بھیجے جانے پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

پی ایم ڈی سی کا یہ حکم پاکستان میں مقیم افغان شہریوں پر عائد پابندیوں میں ایک اہم توسیع کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ اس کا اطلاق ان افغان طلبہ پر بھی ہوتا ہے جو پہلے ہی پیشہ ورانہ ڈگری پروگراموں میں داخل ہیں، یعنی یہ پابندی صرف غیر دستاویزی تارکین وطن، پناہ گزینوں یا درست ویزا نہ رکھنے والے افراد تک محدود نہیں ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصور احمد خان سمجھتے ہیں کہ پی ایم ڈی سی کو انسانی ہمدری کی بنیاد پر موجودہ افغان طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل ہونے کی اجازت دینی چاہیے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ریاستوں کے درمیان سیاسی مسائل ہوتے رہتے ہیں لیکن طلبہ کو متاثر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ ان کی مستقبل کا سوال ہے۔

منصور احمد خان  کے مطابق ’ایک وقت میں 40 سے 50 ہزار افغان طلبہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم تھے کیونکہ پاکستانی تعلیمی معیار افغانستان سے بہتر ہے اور افغان طلبہ پاکستان کو دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ ‘

اس سارے معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو نے پی ایم ڈی سی کے حکام سے موقف جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی جواب میں دیا۔

اسی طرح خیبر پختونخوا میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے نگران ادارے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ایڈمیشن، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمیشن، رجسٹرار اور ڈائریکٹر اکیڈمکس سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کسی نے موقف نہیں دیا۔

خیال رہے جولائی میں پی ایم ڈی سی اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں زیر تعلیم طب کے طلبہ پاکستان میں پریکٹس کے اہل نہیں ہوں گے۔

پی ایم ڈی سی نے 31 جولائی کو جاری ایک اعلامیے میں کہا تھا کہ کونسل کے 2025 کے فیصلے کے مطابق پاکستانی شہری صرف اسی صورت میں پاکستان میں پریکٹس کے اہل ہوں گے جب انہوں نے ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس (ای سی ایف ایم جی) سے تسلیم شدہ میڈیکل کالج سے ڈگری حاصل کی ہو۔

اعلامیے کے مطابق ای سی ایف ایم جی سے تسلیم شدہ ادارے سے فارغ التحصیل طلبہ ہی پی ایم ڈی سی کے زیرِ اہتمام نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) میں شرکت کر سکتے ہیں اور کامیابی کے بعد پاکستان میں بطور ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ پریکٹس کے اہل ہوتے ہیں۔

تاہم پی ایم ڈی سی کے مطابق افغانستان کا کوئی بھی میڈیکل ادارہ ای سی ایف ایم جی سے تسلیم شدہ نہیں، اس لیے وہاں سے فارغ التحصیل پاکستانی طلبہ این آر ای امتحان میں شرکت نہیں کر سکتے۔

ایمنسٹی انٹرنیشل ساؤتھ ایشیا نے ایکس پر ایک بیان میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے فیصلے کو بظاہر امتیازی قرار دیا ہے۔

بیان کے مطابق ’فیصلے کے نتائج بالخصوص طالبات کے لیے انتہائی سنگین ہیں۔ 

’ان میں سے بہت سی طالبات طالبان کی جانب سے جاری صنفی امتیاز اور جبر کے باعث پہلے ہی افغانستان میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی سے محروم کی جا چکی ہیں اور اب انہیں اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ مستقبل کے حصول کے لیے باقی رہ جانے والے چند راستوں میں سے ایک سے بھی محروم ہونے کا خدشہ ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بیان میں پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ افغان طلبہ، بشمول خواتین اور لڑکیوں، کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع دے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ