انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے اس خیال کو ’بے عزتی پر مبنی‘ قرار دیا ہے کہ پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ہنگامہ خیز ٹیسٹ سیریز کے دوران مقابلہ کرنے کا جذبہ نہیں دکھایا۔
ہیڈنگلے اور لارڈز میں مسلسل دو بھاری شکستوں کے بعد پاکستان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 2-0 سے پیچھے ہے۔
اس کے بعد پاکستان نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے سات کھلاڑیوں، ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور اسسٹنٹ کوچ عمر گل کو واپس پاکستان بھیج دیا۔
پاکستان نے پیر کو اعلان کیا کہ نظم و ضبط اور کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
تاہم، روٹ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کھلاڑیوں کو شکست تسلیم کر لینے والا قرار دینا مناسب نہیں۔
روٹ نے ایجبسٹن میں تیسرے ٹیسٹ سے ایک روز قبل کہا کہ ’یقیناً پاکستان ہمارے لیے ایک مشکل حریف رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ بات پاکستان کی ٹیم اور ہماری ٹیم، دونوں کے لیے بے عزتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ انگلینڈ نے اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے پاکستان کو میچ میں قدم جمانے کا موقع ہی نہیں دیا۔
’یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ایک ٹیم بہترین ہے اور دوسری خراب۔ عام طور پر حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں ہوتی ہے۔ اگر ایک ٹیم نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے تو دوسری ٹیم لازماً خراب نہیں ہوسکتی۔‘
اگرچہ روٹ کی بطور کپتان واپسی بہترین انداز میں ہوئی ہے، لیکن وہ خود اس موسم گرما میں بیٹنگ میں اچھی فارم حاصل نہیں کر سکے۔
انہوں نے پانچ ٹیسٹ میچوں میں صرف 29.44 کی اوسط سے رنز بنائے ہیں۔ تاہم اس دوران زیادہ تر پچز تیز گیند بازوں کے لیے انتہائی سازگار رہی ہیں۔
روٹ گذشتہ سات ٹیسٹ میچوں میں نو مرتبہ ایل بی ڈبلیو ہو چکے ہیں اور وکٹ کیپر کے سٹمپس کے قریب کھڑے ہونے کی حکمت عملی کے خلاف بھی انہیں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن روٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس مشکل کو اپنی فارم بہتر کرنے کا موقع سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’آپ ہمیشہ بہتری کے راستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جس پر قابو پانا ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق ہر وقت بہترین فارم میں رہنا ممکن نہیں اور مشکلات سے گھبرانے کے بجائے انہیں موقع سمجھنا چاہیے کہ ’یہ موقع ہے کہ آپ کچھ خاص کریں اور اپنے ملک کے لیے میچ جیتیں۔‘
انجری سے صحت یاب ہونے کے بعد جیکب بیتھل کی واپسی اور جارڈن کاکس اور ڈین لارنس کی اچھی کارکردگی کے باعث انگلینڈ کی اوپننگ پوزیشن پر ایمیلیو گے کی جگہ خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔
تاہم روٹ نے اس ہفتے کے بعد کی صورتحال پر بات کرنے سے گریز کیا۔
انہوں نے ایمیلیو گے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارکردگی ان کے 211 رنز، 23.44 کی اوسط سے زیادہ اچھی رہی ہے۔
روٹ نے کہا کہ اوپنر کی پوزیشن انتہائی مشکل ہوتی ہے کیونکہ اسے نئی گیند، تازہ دم تیز گیند بازوں اور نئی پچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق ’میں چاہتا ہوں کہ انہیں ایک اور موقع ملے اور وہ اپنی پرسکون طبیعت، اعتماد اور صلاحیت کا مظاہرہ کرے۔‘
ممکنہ ٹیمیں
انگلینڈ: بین ڈکٹ، ایمیلیو گے، جارڈن کاکس، جو روٹ (کپتان)، ہیری بروک، ڈین لارنس، جیمی سمتھ (وکٹ کیپر)، گس اٹکنسن، اولی رابنسن، جوفرا آرچر، جوش ٹنگ۔
پاکستان: صائم ایوب، احمد اویس، شان مسعود، عبداللہ شفیق، بابر اعظم (کپتان)، سعود شکیل، غازی غوری (وکٹ کیپر)، محمد علی، رضا اللہ، عثمان شاہ، محمد عباس۔

