پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کو کہا کہ سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں سہ ملکی مکہ معاہدہ فعال ہو جائے گا۔
خواجہ آصف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب یمنی حوثیوں نے منگل کو سعودی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور توانائی کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
پاکستانی وزیر دفاع کی کل رات ایک نیوز چینل سے گفتگو میں یہ بیان اب تک کا واضح ترین اشارہ ہے کہ اسلام آباد حوثیوں کے حملوں کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت دفاعی ذمہ داریوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھنے والا سمجھتا ہے۔
یہ معاہدہ سات اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی میں طے پایا تھا، جس کے تحت ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
اس سے قبل منگل کو وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی دفتر خارجہ نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سعودی عرب کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت مملکت کو اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی اثاثوں کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔
خواجہ آصف نے جیو نیوز کو انٹرویو میں کہا ’یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی بلااشتعال جارحیت یا کسی بھی قسم کی جنگی صورتحال کا سعودی عرب تک پھیلاؤ یقینی طور پر اس معاہدے کو فعال کر دے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’کسی کو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اس معاہدے کی شرائط و ضوابط کے پابند ہیں۔ ان شاء اللہ، ضرورت پڑنے کی صورت میں ہم ان شرائط پر عمل کریں گے۔‘
خواجہ آصف نے حوثیوں کو بھی خبردار کیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری وسیع تر محاذ آرائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سعودی عرب کو تنازعے میں گھسیٹنے کی کوشش نہ کریں، بصورت دیگر گروپ کو ’اس کی بھاری قیمت خود ادا کرنا پڑے گی۔‘
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی بارہا واضح کر چکے ہیں کہ مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں۔
تینوں ممالک نے معاہدے کے تحت سعودی عرب میں ایک سیکریٹریٹ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا، جس کی سربراہی ابتدائی طور پر تین سال کے لیے پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکریٹری جنرل کریں گے۔
معاہدے میں تینوں ممالک کے درمیان سیاسی اور فوجی رابطہ کاری، مشترکہ مشقوں، فضائی دفاع، بغیر پائلٹ کے نظام اور الیکٹرانک جنگ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا بھی تصور پیش کیا گیا ہے۔
پاکستان نے ایک باقاعدہ امریکی ۔ ایرانی معاہدے کے لیے روڈ میپ تیار کرنے میں ثالثی میں بھی مدد کی تھی، جس پر جون میں تینوں ممالک نے دستخط کیے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم یہ مفاہمت برقرار نہ رہ سکی اور امریکہ اور ایران دونوں نے خلیجی خطے میں ایک دوسرے کے خلاف دوبارہ حملے شروع کر دیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سفارتی عمل تعطل کا شکار ہو چکا ہے، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے ختم نہیں ہوئے۔
’میں امید نہیں چھوڑوں گا۔ تعطل ہے۔۔۔ بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔‘
تاہم وزیر دفاع نے اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کی جنگ کو طول دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا ’اسرائیل چاہتا ہے کہ یہ تنازع جاری رہے‘ اور مزید کہا کہ اسرائیل جنگ سے فائدہ اٹھا رہا ہے جبکہ اس کی زیادہ تر قیمت دوسرے فریق ادا کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو اب بھی امید ہے کہ بالآخر سفارت کاری غالب آئے گی۔ ’دروازے بند نہیں ہوئے۔‘

