پنجاب اور اسلام آباد کو مثال بنائیں

2729256 muhammadsaee 1729579027


  وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں اور ہزارہ صوبے کا کیس تو پہلے ہی تیار ہے۔ وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے 15 صوبوں کی تجویز پیش کی جس پر مولانا فضل الرحمن نے حکومتی تجویز کو غلط قرار دیا کہ دو صوبے آگ میں جل رہے ہیں اور حکمران نئے صوبوں کے قیام کی باتیں کر رہے ہیں جب کہ (ن) لیگی حکومت کا فاٹا انضمام کا بدترین تجربہ پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے، حکومت کوئی غیر آئینی اقدامات نہ کرے۔ (ن) لیگ کے احسن اقبال کی تجویز کے برعکس (ن) لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ احسن اقبال کی تجویز قبل از وقت ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مربوط بلدیاتی نظام یا انتظامی یونٹس کے بغیر ملکی نظام نہیں چل سکتا۔ موجودہ نظام واقعی مفلوج ہو چکا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اسلام آباد، لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنا بیورو کریسی کو مضبوط کرنے کے مطابق ہوگا، میئر کا انتخاب ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر برائے راست ہونا چاہیے۔

 سابق وزیر اطلاعات محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ پنجاب میں جنوبی پنجاب اور کے پی میں ہزارہ صوبے کی قراردادیں وہاں منظور ہو چکی ہیں، لہٰذا وہاں نئے صوبے بنائے جانے کی پہلی ضرورت ہے جس پر پہلے عمل ہونا چاہیے۔

پنجاب حکومت کو بھی چار سال بعد بلدیاتی انتخابات کرانے کا خیال آ ہی گیا ہے اور اسلام آباد میں (ن) لیگی حکومت نے چار آٹھ کی اکثریت سے جس بلدیاتی نظام کی منظوری دی ہے، اسے پیپلز پارٹی نے مسترد کر دیا ہے مگر مسلم لیگ (ن) کی وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے اگر فیصلہ کر لیا ہے تو وہ ضروری اس پر عملدرآمد کریں گی اور اسلام آباد و پنجاب کے بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کرکے باقی تین صوبوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ان کی کوشش بیورو کریسی کی گرفت مضبوط کرنا ہے۔

 (ن) لیگ کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے اس پر اعتراض کیا ہے اور میئر کا عہدہ برقرار رکھ کر میئر کا براہ راست انتخاب ،ان کی تجویز نئی نہیں ہے بلکہ کے پی میں چار سال قبل میئروں کا انتخاب براہ راست ہوا تھا جس میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو شکست ہوئی تھی کیونکہ میئر پشاور سمیت متعدد میئر اور بلدیاتی عہدیدار جے یو آئی کے منتخب ہوگئے تھے جس سے پی ٹی آئی کی شکست پر وزیر اعظم عمران خان نے خود کے پی جا کر بلدیاتی انتخابی مہم چلائی تھی اور اپنی دونوں حکومتوں کی طاقت مکمل طور استعمال کرکے دوسرے مرحلے میں ڈی آئی خان سمیت باقی جگہ اپنے امیدوار کامیاب کرائے تھے جن کا برائے راست انتخاب عوام نے کیا تھا۔

 پنجاب میں پہلے بڑے شہروں میں میئر اور لاہور میں لارڈ میئر (ن) لیگ کی حکومت میں ہوئے تھے جو براہ راست نہیں تھے جب کہ پیپلز پارٹی نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے میئر کو لارڈ میئر نہیں بنایا تھا۔ سندھ حکومت نے اپنا کراچی کا میئر پہلی بار جس طرح منتخب کرایا تھا اس پر جماعت اسلامی پی پی کے میئر کراچی کو قبضہ میئر قرار دیتی ہے جس کے یوسی چیئرمینوں کی تعداد زیادہ تھی مگر سندھ حکومت نے پی ٹی آئی چیئرمینوں سے ملی بھگت کرکے اپنے نئے میئر اور ڈپٹی میئر منتخب کرا لیے تھے جب کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے دونوں عہدے حاصل کرنے کی کوشش کو سندھ حکومت نے ناکام بنا دیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) پر پیپلز پارٹی یہی الزام لگاتی ہے کہ وہ بلدیاتی الیکشن کے خلاف ہے جس نے ڈھائی سال میں بھی پنجاب و اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات جان بوجھ کر نہیں کرائے جب کہ باقی تین صوبوں میں منتخب بلدیاتی عہدیدار کام کر رہے ہیں اداروں پر بیورو کریسی کو مسلط کر رکھا ہے۔ سندھ کی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پی پی بھی بااختیار بلدیاتی نظام کے خلاف ہے اور آئین کے مطابق بلدیاتی اداروں اور کراچی کے اپنے ہی میئر کو بھی اصل بلدیاتی اختیارات نہیں دے رہی اور سندھ حکومت بیورو کریسی کے ذریعے بلدیاتی عہدیدار اپنے مکمل کنٹرول میں رکھ کر 18 سال سے آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے یوں تو کے پی اور بلوچستان کے بلدیاتی عہدیدار اپنے آئینی اختیارات سے محروم ہیں اور تینوں صوبائی حکومتوں نے برائے نام اختیارات دے رکھے ہیں اور وہاں بڑے شہروں میں میئر بھی ہیں مگر (ن) لیگی حکومت بڑے شہروں کو بھی میئر کے عہدے نہیں دے رہی اور بیورو کریسی کے ذریعے اپنا کنٹرول چاہتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت پر پی پی یہ بھی تنقید کر رہی ہے کہ وہ اسلام آباد کو مثالی شہر بنانے میں مکمل ناکام ہے جس کا ثبوت پمز اسپتال سانحہ سے مل چکا ہے۔

پی پی اور پی ٹی آئی کی طرح مسلم لیگ (ن) بھی آئین کے مطابق بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کے خلاف ہے اور تینوں پارٹیوں کے ارکان اسمبلی اور ملکی سیاستدان بھی ملک میں بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام نہیں چاہتے کیونکہ اس سے ان کی اہمیت کم ہو جائے گی اور ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کا غیر آئینی اقدام بند ہو جائے گا جو ان کے مفاد میں ہے اور انھیں غیر آئینی طور یہ فنڈز مل رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اگر واقعی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی حامی ہے تو اسے اس کا ثبوت دینا اور جنوبی پنجاب اور ہزارہ کو نیا صوبہ بنا کر مثال قائم کرکے اپنی سچائی کا ثبوت دینا ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) اگر آئین کے آرٹیکل A-140 سے عمل چاہتی ہے تو میئروں کے عہدے ختم کرکے بیورو کریسی کو مضبوط بنانے اور منتخب نمایندوں پر بیورو کریٹس کو ترجیح دینے کی پالیسی تبدیل کرے اور اپنے ارکان اسمبلی کی بھی سنے جنھیں پنجاب اور اسلام آباد میں بیورو کریسی اہمیت نہیں دیتی کیونکہ انھیں حکومت کی مکمل حمایت اور سرپرستی حاصل ہے اور منتخب ارکان پر بیورو کریسی کو اہمیت دینا ان دونوں کا طریقہ رہا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ