تہران/عمان/ریاض (بین الاقوامی ڈیسک) — امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک مرتبہ پھر دھماکہ خیز ہو گئی ہے۔ بدھ کے روز امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے بحری جہازوں اور فوجی تنصیبات پر میزائل حملے کیے گئے، جبکہ اردن اور سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر بھی حملے ہوئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جو ایک "ممنوع اور غیر محفوظ” قرار دیے گئے علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ کارروائی امریکی حملے میں 5 ایرانی تیل بردار ٹینکروں کی تباہی کے بعد کی گئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خلیج میں 2 امریکی بحری جہازوں اور 8 تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم امریکہ نے اس دعوے کی تاحال تصدیق نہیں کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے منگل کی شام بتایا تھا کہ اس نے 8 ستمبر کو خلیج عمان میں "کافیز”، "شارمینار”، "ہورائزن وَن” اور "ریسکو” نامی 5 ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو تباہ کیا، جو پاسدارانِ انقلاب کے خفیہ مالیاتی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب پاسدارانِ انقلاب نے گزشتہ 2 روز میں 2 مرتبہ ایک امریکی جنگی جہاز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ سینٹکام کے مطابق امریکی جنگی جہاز ایرانی حملوں سے محفوظ رہا اور کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
ایرانی خبر رساں اداروں "مہر” اور "فارس” نے منگل کی شام جنوبی ایران کے دو ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاع دی، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے خارک اور جاسک کے قریب ایرانی ٹینکروں پر حملوں کی تصدیق کی۔ واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنا تھا، مگر دونوں معاہدے ناکام ہو گئے۔ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد امریکہ نے 13 جولائی کو ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ دوبارہ نافذ کر دیا تھا۔
اردن پر 20 بیلسٹک میزائل حملے
اردنی فوج نے بدھ کی صبح بتایا کہ ایرانی سرزمین سے داغے گئے 20 بیلسٹک میزائلوں سے اردن کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے 18 کو تباہ کر دیا گیا جبکہ 2 میزائل آبادی سے دور خالی علاقوں میں گرے۔ فوج کے مطابق حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ سعودی عرب نے اردن پر ایرانی حملوں کو "وحشیانہ اور بلا جواز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
حوثیوں کا ریاض پر حملہ، سعودی جوابی کارروائی
یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے بدھ کے روز یمن کے مختلف علاقوں پر 30 سے زائد فضائی حملے کیے، جو حوثیوں کی جانب سے ریاض پر حملے کے جواب میں کیے گئے۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام المسیرہ ٹی وی کے مطابق دشمن طیاروں نے چند گھنٹوں میں ماریب، الجوف، تعز اور حدیدہ گورنریٹس پر 32 فضائی حملے کیے، جن میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ سعودی عرب نے ان حملوں پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم منگل کو بتایا گیا تھا کہ حوثی حملوں کے باعث تیل کی تنصیبات پر عارضی طور پر کام روکنا پڑا۔

