خلیج میں جاری جنگ کا نہ صرف دائرہ پھیل گیا ہے بلکہ اس جنگ نے نیا رخ لے لیا ہے۔ یمن کے حوثی اب باقاعدہ طور پر جنگ میں شامل ہو گئے ہیں اور انھوں نے سعودی عرب کے سرحدی شہروں پر بھی حملے کیے ہیں۔ اگلے روز کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حوثیوں نے یمن میں بحیرہ احمر کے تمام ساحلی علاقے کو کنٹرول کر لیا ہے۔
حوثیوں کی جنگجو تنظیم انصاراللہ نے شمال مغربی یمن پر اپنی ڈیفیکٹو حکومت قائم کر رکھی ہے جب کہ جنوب مشرقی یمن پر پریذیڈنٹ لیڈرشپ کونسل کی حکومت ہے اور اس حکومت کو اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کر رکھا ہے جب کہ سعودی عرب بھی اس حکومت کو تسلیم کرتا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کو ایرانی رجیم کی حمایت حاصل ہے۔ حالیہ پیش رفت کے بعد صورت حال خاصی سنگین اور پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس سنگین صورت حال کے حوالے سے سعودی ولی عہد اور امریکا کے صدر کے مابین ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔
یمن کی انصار اللہ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے بحیرہ احمر میں باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔
115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔
بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے، اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔آبنائے ہرمز سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے جب کہ اندازوں کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرے گی۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حوثی فورسز نے مغربی صوبے تعز میں کلیدی اہمیت کے حامل علاقوں اور فوجی اڈوں الخالد اور جبل النصر پر قبضہ کر لیا ہے۔ المخا ائیرپورٹ پربھی حوثی فورسز نے قبضہ کرلیا ہے جب کہ مزاحمت کرنے والوں نے بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔
ادھر میڈیا میں آیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے آبنائے باب المندب کے اطراف حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کو سراہتے ہوئے اسے شاندار فتح قرار دیتے ہوئے مبارکباد دی ۔
حوثی ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ سعودی طیاروں نے یمن کے المخا ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ بحیرہ احمر پر حوثیوں کے کنٹرول سے سعودی تیل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ اگلے روز کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ بندش حفاظتی طور پر کی گئی ہے۔ آبنائے ہرمز کے طویل عرصے تک پر بند رہنے کے بعد سعودی عرب اپنی تیل کی برآمدات بحیرہ احمر تک پہنچانے کے لیے مشرق سے مغرب جانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو استعمال کر رہا ہے۔
اس سال کے آغاز میں سعودی عرب اپنی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 70 فیصد خلیج کے راستے کے بجائے اس پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع کی بندرگاہ کی جانب منتقل کر رہا تھا۔اس پائپ لائن کے ذریعے سعودی عرب بحیرہ احمر میں واقع باب المندب کی آبنائے کے ذریعے ایشیا کو تیل بھیجنے کے قابل رہا ہے۔
یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر پر کنٹرول کے بعد سعودی عرب کی تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے اثرات ایشیا پر ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں پر بھی پڑیں گے۔ پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
خلیج اوربحیرہ احمر میں جو صورت حال بن چکی ہے، اس سے اردگرد کے ممالک ہی نہیں بلکہ پورا ایشیا متاثر ہو رہا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو معاملات انتہائی سنگین رخ اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے اور متفقہ طور پر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ادھر امریکی سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر یمن میں ہنگامی صلاح و مشورے کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ یمن کے حوثیوں پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ادھر خلیج کی صورت حال بھی کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی ایران کے خلاف قرارداد منظور ہو چکی ہے جسے ایران نے مسترد کر دیا ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ صورت حال پر جو بیان دیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شائد انھیں اس نئی پیش رفت سے کوئی زیادہ پریشانی نہیں ہے کیونکہ انھوں نے کہا ہے کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہ کو کھولنے کے لیے امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ امریکا نے سعودی عرب کو مکمل انٹیلی جنس ڈیٹا اور اہداف کی نشاندہی میں مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عالمی میڈیا نے امریکی عہدیدار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکا حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی کرنے والا ڈیٹا سعودی عرب کو فراہم کرے گا۔
ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے) کی قرارداد مسترد کر دی ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سفیر غلام حسین درزی نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ دیا۔
ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام سے متعلق نئے الزامات تکنیکی نہیں سیاسی نوعیت کے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ ایران جوہری پروگرام سے متعلق بے بنیاد الزامات اور حقائق مسخ کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتا ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے ایران میں یورینیم کی باقیات کے معائنے کا معاملہ سلامتی کونسل میں بھیج چکا ہے۔ ادھر امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی حملوں نے بحرین میں امریکی اڈے کو تباہ کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھیں ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں، دوبارہ بھی موقع ملا تو ایران پر حملے کا ہی فیصلہ کروں گا۔ امریکی میڈیا کو انٹریو کے دوران انھوں نے ایک بار پھر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران جنگ ختم ہونے اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا۔
ان کا کہناتھا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو مجھے سپریم لیڈر کو ٹیلی فون کرنا پڑتا ، امریکا کسی بھی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دے گا۔ مزید برآں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔دونوں رہمناؤں نے خطے کی موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے متعلق ایران، عمان، عراق اور خلیجی ممالک کا اہم علاقائی اجلاس پیر کو مسقط میں ہوگا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ اس اجلاس میں عارضی بحری راستوں کے انتظام اور انھیں محفوظ بنانے کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اجلاس میں ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتائج کا بھی جائزہ لیا جائے گا جن میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے عارضی بحری راستوں کے قیام پر اتفاق بھی شامل ہے۔اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
خلیج کی جنگ آبنائے ہرمز سے نکل کر اب بحیرہ احمر تک پھیل گئی ہے۔ یوں ایران، عراق، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، مسقط وعمان، یمن اور سعودی عرب تک کا سارا خطہ اس جنگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔
پورے خطے پر اس کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس سارے خطے کے ممالک کی معیشت کا انحصار پٹرولیم مصنوعات کی برآمد اور سیاحت پر ہے۔ حالیہ جنگ کی وجہ سے یہ دونوں شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سارے ممالک دنیا بھر سے جو درآمدات کرتے ہیں، ان ممالک پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل نے جس جنگ کا آغاز کیا تھا، اب وہ جنگ اپنی حدود سے باہر نکلتی جاتی نظر آتی ہے۔ امن کے لیے جو کوششیں ہوتی رہی ہیں یا جو ابھی تک جاری ہیں، اس حوالے سے بھی تاحال کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ اقوام عالم کے مستقبل کا انحصار اس جنگ کے خاتمے پر ہے۔ لہٰذا سب کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جتنا جلد ہو سکے، یہ جنگ ختم ہو جائے۔ متحارب فریقین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے معاملات کو بات چیت کی میز پر بیٹھ کر خوش اسلوبی کے ساتھ طے کر لیں۔

