
( ویب ڈیسک )آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز پر حملے کی نئی اطلاع نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیئے ہیں۔
برطانوی بحریہ سے منسلک ادارے یو کے ایم ٹی او کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک جہاز کو ایک ’پروجیکٹائل‘ نے نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات میں جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور عملے کی صورتحال واضح نہیں ہوسکی۔
رائٹرز کے مطابق بغداد نے حملے کے عراق سے ہونے کی تصدیق کی ہے، جہاں ایران نواز مسلح گروپ سرگرم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو 7شرائط پیش کردیں
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ امریکا میں ڈیزل کی قیمت بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
ادھر ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی معاہدے کے لیے اس کی شرائط تسلیم کرنا ضروری ہوگا۔ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پیر کو عمان میں ہونے والے اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات چیت متوقع ہے، تاہم ایرانی حکام نے کسی فوری پیشرفت کے امکانات کو محدود قرار دیا ہے۔

