حوثیوں کے سعودی عرب پر نئے میزائل، ڈرون حملے، دو افراد زخمی، یمنی فوج کی حوثیوں کے خلاف کارروائیاں

news 1789317222 3433


(ویب ڈیسک)  ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے  سعودی اڈے کو میزائلوں اور ڈرون سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق آج اتوار کے روز  سعودی عرب کی جنوبی سرحد پر حوثیوں کا بھیجا ہوا میزائل لگنے سے 2 افراد  زخمی ہوئے ہیں۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی کارروائی جو  حوثی باغی گروپ کے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر قبضہ کرنے پر منتج ہوئی، اس کے بعد بھی  جھڑپیں جاری ہیں۔
اتوار کے روز حوثی باغیوں نے کہا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب میں ایک فوجی اڈے پر حملہ کرنے کے لیے ڈرون اور میزائلوں کا استعمال کیا کیونکہ یمن کی سرکاری افواج کے ساتھ نئی لڑائی نے حوثیوں کے مقبوضہ علاقہ میں  ان کے حامیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔

حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جنوبی شرورہ بیس پر حملے میں "ہتھیاروں کے ڈپو اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا جو ہماری قوم اور لوگوں کے خلاف جارحیت کا انتظام کر رہے ہیں۔”

اس نے اس حملے  کی تاریخ نہیں بتائی۔ اس ہفتے ایران کے اتحادی حوثی باغیوں اور یمن کی سرکاری افواج کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے، جنہیں ریاض کی حمایت حاصل ہے۔

دو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق

سعودی شہری دفاع کے مطابق ہفتے کے روز صوبے میں (حملے سے بچنے کی آگاہی کے لئے) سائرن بجائےگئے، جس نے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔

سول ڈیفنس نے یہ بھی کہا کہ بحیرہ احمر کے ساتھ یمن کی سرحد کے قریب الطوال گورنریٹ میں ایک میزائل گرا، جس سے دو افراد زخمی ہوئے اور ایک مسجد اور کئی دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ سول ڈیفینس کے  بیان میں حوثیوں پر الزام عائد کیا گیا۔

یمن کی سرکاری فوج کی حوثیوں کے خلاف کارروائیاں

کل ہفتے کے روز یمن کی حکومت کی فورسز نے کہا تھا کہ انھوں نے بحیرہ احمر کے شہر موچا میں حوثی جنگجوؤں کو نشانہ بنایا تھا اور بعد میں ملک کے جنوب مغربی حصے میں حوثیوں کے دیگر ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔

news 1789317223 6893
Caption ہفتہ 12 ستمبر 2026 کو انصار اللہ میڈیا سنٹر کی جانب سے جاری کی گئی نامعلوم ویڈیو فوٹیج سے لی گئی اس اسکرین گریب میں مبینہ طور پر حوثی جنگجوؤں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی جاری رہنے کے دوران فاصلے پر دھواں اٹھتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ (فوٹو:  انصاراللہ میڈیا سینٹر/اے ایف پی)

یمن کی سرکاری فوج نے اتوار کے روز X پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "مسلح افواج کی فضائیہ نے تین فضائی حملوں کے ذریعے دہشت گرد حوثی گروپ کے ٹھکانوں اور بیرکوں کو نشانہ بنایا”۔

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا نے اطلاع دی ہے کہ یمنی فورسز نے موچا کی بندرگاہ کے قریب گاڑیوں اور ہتھیاروں کو تباہ کر دیا اور حوثی دہشت گرد ملیشیا کے ارکان کو ہلاک کر دیا، اور فورسز کے ترجمان کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے شہر کے بالکل باہر حوثی اہداف کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  روش ہوشعنا کے موقع پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر آبادکاروں کے کئی حملے، ایک فلسطینی شدید زخمی

حوثیوں نے ہفتے کی شام کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران، "سعودی دشمن کے طیاروں نے ان کے زیر کنٹرول علاقوں پر 129 فضائی حملے کیے”۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ حملے دراصل یمن کی فورسز نے خود کئے، حوثی یمن کی حکومت کی فوج کی تمام کارروائیوں کو سعودی عرب کی فوجی کارروائیاں قرار دیتے ہیں جب کہ سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے ایسے الزامات پر خاموشی رہتی ہے۔

جاری جھڑپیں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی حوثی کارروائیوں کے بعد شروع ہوئی ہیں۔ حوثی فوجی کارروائی کا اختتام تب ہوا جب  اس گروپ نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل اور کئی تزویراتی جزیروں پر قبضہ کرتے ہوئے سمندر کے جنوبی دروازے پر واقع آبنائے باب المندب پر ​​اپنی گرفت مضبوط کر لیا۔ 

news 1789317223 5626
Caption   ہفتہ  12 ستمبر 2026 کو حوثی کے زیرانتظام المسیرہ ٹیلی ویژن چینل کی جانب سے جاری کی گئی نامعلوم ویڈیو سے لی گئی اس تصویر میں، حوثی جنگجوؤں کو یمن کے صوبہ تعز کے ضلع ذباب میں ایک فوجی گاڑی کے اوپر نعرے لگاتے اور رائفلیں اٹھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ (سکرین شوٹ بذریعہ المسیرہ ٹی وی )

بحیرہ احمر (ریڈ سی) میں باب المندب کے عربی نام سے جانی جانے والی یہ تنگ آبی گزرگاہ سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم شریان بن گئی ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کر کے خلیج کے راستے بڑے پیمانے پر ترسیل منقطع کر دی تھی۔

حوثیوں نے حال ہی میں بحیرہ احمر  میں سعودی عرب کی بندرگاہوں کی سمندری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی نیوز سائٹ ایکسئیس  Axios نے جمعے کو رپورٹ کیا کہ سعودی عرب کے  ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گزشتہ ہفتے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو بار فون کرکے حوثیوں پر حملوں کی درخواست کی تھی، لیکن یہ درخواست مسترد کردی گئی۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز سعودی رہنما سے بات کرنے کا اعتراف کیا لیکن کہا کہ حوثیوں نے بھی "ہمیں بلایا تھا اور وہ ہمارے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے۔”

صدر ٹرمپ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا واشنگٹن کوئی کارروائی کرے گا، لیکن صحافیوں کو بتایا کہ خطے میں "سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا”۔

’’کوئی پناہ گاہ بھی دستیاب نہیں‘‘
یمن کی خانہ جنگی، جو 2014 میں دارالحکومت صنعا پر حوثیوں کے قبضے کے ساتھ شروع ہوئی تھی، 2022 میں یمن کی حکومت اور حوثی باغیوں کے مابین جنگ بندی کے بعد سے غیر فعال تھی لیکن جولائی میںیہ جنگ  دوبارہ زندہ ہو گئی۔

سعودی عرب نے پہلی بار 2015 میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی  مدد کرنے کے لئے یمنی حکومت کی درخواست پر اس جنگ میں حصہ لیا اور اب تک یمن کے بندرگاہی شہر عدن میں مقیم انتظامیہ کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

یمن کی خانہ جنگی نے لاکھوں لوگوں کو ان کے علاقوں سے  اکھاڑ پھینکا ہے، اور تازہ ترین لڑائی نے اور بھی زیادہ لوگوں کو اپنے گھروں سے بھاگنے پر مجبور کیا ہے۔

جمعرات کو  اب تک سرکاری کنٹرول میں رہے علاقہ  موچا  پر حوثیوں کے قبضے نے بہت سے باشندوں کو  یہ شہر چھوڑ کر نکلنے اور عدن جانے پر مجبور کر دیا۔  عدن میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت بدستور  قائم ہے۔

نقل مکانی کرنے والوں میں سے ایک، عبدالعلی الراجیحی نے کہا کہ حوثیوں نے "ہمیں کہا: ‘چھوڑو، منتشر ہو جاؤ، تمہارے پاس آدھا گھنٹہ ہے’۔

"ہم صرف اپنے تن کے کپڑوں کے ساتھ  بھاگ گئے۔ اور ہم اپنے بچوں کو  ساتھ لے گئے، جتنا ہم سنبھال سکتے تھے۔”

news 1789317223 1671
Caption ہفتہ 12 ستمبر 2026 کو یمن کے مغربی ساحلی شہروں الخوخا اور موخہ میں حوثیوں کے حملوں سے فرار ہونے کے بعد بے گھر یمنی شہری عدن، یمن کے دار سعد ضلع میں ایک عارضی پناہ گاہ میں آرام کر رہے ہیں۔

حوثیوں کے قبضے میں جانے والے علاقہ سے بھاگنے والے صدام علی اپنے 11 بچوں اور کچھ سامان کے ساتھ الوازیہ سے ایک چھوٹے سے پک اپ ٹرک میں نکلے۔ صدام علی نے کہا کہ انہیں شہر میں ایک بھی مفت گھر نہیں ملا، "ایک پناہ گاہ بھی نہیں!”

اقوام متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی نے ہفتے کے روز کہا کہ جولائی سے اب تک 76,000 افراد لڑائی کی زد میں آئے ہوئے عاقوں سے  فرار ہو چکے ہیں، یہ تعداد گزشتہ ہفتے سے چار گنا بڑھ گئی ہے۔

ملک کے وزیر اقتصادیات اور خزانہ الیاس موسیٰ داولیح نے ہفتے کے روز بتایا کہ تقریباً 1,400 افراد جبوتی فرار ہو گئے تھے۔

یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی میں دونوں طرف کے ذرائع کے مطابق 500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:   ہر ماہ بیس لٹر پٹرول خریدنے کے لئے ٹوکن کیسے ملیں گے؟ طریقہ کار کی تفصیل سامنےآگئی 





Source link

متعلقہ پوسٹ