ٹیچر آف دی ریولیشن علی شریعتی

2728615 ZamarudNaqviNEW 1729446351


تہران کے حسینیہ ارشاد ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے۔ لوگ زمین پر حتیٰ کہ کھڑکیوں میں بھی بیٹھے ہیں اور سب کی آنکھیں اسٹیج پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ ایک ایسے بندے کی طرف جس کی باتیں ہال ہی میں نہیں باہر کھڑی پولیس ، خفیہ اہلکار بھی غور سے سننا چاہتے ہیں۔ آخر کون ہیں یہ؟ کوئی مذہبی رہنماء، کوئی سیاسی لیڈر ۔ نہیں۔ یہ سب لوگ جسے سننے آئے ہیں وہ ایک یونیورسٹی پروفیسر ہے اور اس کے سر پر نہ عمامہ ہے نہ پگڑی ہے۔ بلکہ وہ تو فرنچ بولتا ہے، ٹائی کوٹ پہنتا ہے، سگار پیتا ہے۔ لیکن قسم سے جب بولتا ہے تو دل دہلا دیتا ہے۔ نام ہے ڈاکٹر علی شریعتی۔ وہ کہ جس نے اپنے پیش کردہ مذہبی نظریات کو افیون نہیں بارود بنایا۔ وہ کہ جس نے ریڈ شیعہ ازم، سرخ شیعت کا نعرہ لگایا اور وہ کہ جس نے اپنے وقت کی سب سے پاور فل ایرانی بادشاہت کو ہلا کر رکھ دیا۔

وہ جو اقبال کا دیوانہ تھا جس نے ان کے خواب کو ایران میں حقیقت بنانے کا سوچا۔ اور پھر ایران میں صدی کا سب سے بڑا انقلاب آ گیا۔ اسے ٹیچر آف دی ریولیشن، یعنی انقلاب کا استاد کہا گیا ہے۔ لیکن انقلاب آنے کے بعد اسے بھلا دیا گیا، مٹا دیا گیا۔ لیکن کیوں؟ آخر علی شریعتی نے وہ کونسا سچ بولا تھا کہ وہ نہ شاہ کو پسند آیا اور نہ ہی اس کے بعد آنے والی انقلابی حکومت کو۔ ایک ایسا مفکر جسے غیروں نے ہی نہیں اپنوں نے بھی مار دیا۔ پاکستان کے مشہور رائٹر مختار مسعود کی ایک کتاب ہے۔ لوح ایام، وہ انقلاب کے دنوں میں خود ایران میں موجود تھے اور اپنی کتاب میں انھوں نے علی شریعتی کا بڑا ذکر کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ میں نے وزارت خارجہ کے ایک ڈائریکٹر جنرل سے پوچھا کہ انقلاب کا مفکر اور فلسفی کون تھا۔

اس نے جواب دیا شریعتی۔ میں نے بازار بزرگ کے ایک سوداگر سے سوال کیا اس نے کہا علی شریعتی۔ میں نے تہران یونیورسٹی کے ایک استاد سے پوچھا ۔ اس نے کہا ڈاکٹر علی شریعتی۔ میں خیابان رضا شاہ پر تہران یونیورسٹی کے صدر دروازے کے بالکل سامنے کتابوں کی ایک دکان میں داخل ہوا، ڈاکٹر علی شریعتی کی کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ میں شریعتی کی لکھی ہوئی کتابوں کی بجائے کسی ایسی کتاب کی تلاش میں تھا جو شریعتی پر لکھی گئی ہو۔ کون تھا، کہاں سے آیا تھا۔ کیا کہتا تھا، کس سے مخاطب تھا۔ ایک مختصر سی کتاب نظر آئی۔ عنوان کا ترجمہ ہے، سپر مین ڈاکٹر علی شریعتی۔ آئیں آج ہم اسی سپرمین کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاہ کے خلاف ایک تحریک میں حصہ لیتے ہوئے انھیں جیل جانا پڑا۔ رہائی ملی تو وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے پیرس پہنچ گئے۔

یہ تھا انقلاب والا پیرس۔ یہاں ژاں پال سارتر جیسے فلسفی تھے، فلسفہ وجودیت کے بانی۔ یہاں فرانس فینن جیسے انقلابی تھے جو افریقہ کی آزادی کے لیے جنگ لڑ رہے تھے اور ان سب سے بڑھ کر مارکسزم ، سوشلزم کا طوفان تھا۔ تب سوشلزم صرف سیاست کا نام نہیں تھا۔ سمجھیں ایک فیشن تھا۔ دانشوروں کا نظریہ تھا۔ یہ اتنا پاور فل نظریہ تھا کہ بڑے بڑے مذہبی اسکالرز بھی اس کی زد میں آگئے۔ علی شریعتی نے دیکھا کہ کیپٹل ازم تو انسان کا خون چوس رہا ہے۔ سوشلزم برابری اور انصاف کا نعرہ لگا رہا ہے۔ انھوں نے عجیب فیصلہ کیا کہ اسلام کو سوشلزم کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا۔ وہ سوویت یونین اسٹائل کے اسٹیٹ سوشلزم کے خلاف تھے کہ جو پارٹی اور ریاست کے گرد گھومتا ہے۔ بلکہ مقابلے پر ایک ہیومنسٹ سوشلزم کی بات کرتے تھے۔ انھوں نے اتنا ضرور کیا کہ مارکسزم کی ایتھے ازم کو رد کر دیا۔ لیکن کلاس سٹرگل کے فارمولے کو ضرور اپنا لیا۔ انھوں نے اسلام کو ایسی انقلابی ، آئیڈیولوجی بنا دیا جس کا مقصد روحانیت سے زیادہ معاشی انصاف تھا۔ یہی وہ وجہ تھی جس کی وجہ سے کئی مذہبی عالموں نے علی شریعتی کو قبول نہیں کیا۔

بہرحال پیرس میں وہ ژاں پال سارتر کے ساتھ بیٹھ کر بحثیں کرتے۔ فینن کی کتابوں کے ترجمے کرتے۔ مغرب کے علم کو پیتے۔ انھوں نے ویسٹ کے ٹول سیکھے، اسی کے خلاف استعمال کرنے کے لیے۔ یہ سن کر آپ کے ذہن میں ایک اور شخصیت بھی آ رہی ہو گی۔ پیرس کی اسی تنہائی میں علی شریعتی کو روحانی مرشد بھی ملا۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبال۔ شریعتی اقبال کے دیوانے ہو گئے۔ علی شریعتی فرانس میں عملاً دو تحریکوں میں بھی شامل تھے۔

ایک تو الجزائر کی آزادی کی تحریک۔ جو تب زوروں پر تھی۔ دوسرا کانگو کے پہلے وزیر اعظم پیٹرس لو ممبا کا قتل۔ جن کے قتل کے خلاف مظاہرے میں شریک ہونے پر علی شریعتی گرفتار کر لیے گئے یعنی پیرس میں بھی انھوں نے جیل کی ہوا کھائی۔ جب وہ پی ایچ ڈی مکمل کر کے ایران واپس آئے تو وہ علی شریعتی نہیں تھے جو پانچ سال پہلے فرانس گئے تھے۔ شریعتی نے مغرب سے سوشیالوجی اور کریٹیکل تھنکنگ لی اور مشرق سے کربلا اور عدل و انصاف کی اسپرٹ حاصل کی۔ دونوں کے فیوژن سے ایک ایسا نظریہ لائے جو نہ ملاؤں کے پاس تھا نہ کمیونسٹوں کے پاس۔ یہ ایک ماڈرن اسلام تھا۔ ایسا اسلام جو صرف عبادات کا نام نہیں تھا بلکہ سسٹم کو بدلنے کا نام تھا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ