یمن: حوثیوں کا سعودی عرب پر پھر حملوں کا دعویٰ

houtis sa 1 d

| جیزان
سعودی عرب کے علاقے جیزان میں یمنی حوثیوں کے میزائل حملے میں دو افراد زخمی ہو گئے، جبکہ مسجد، متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور حکام نے متاثرہ علاقے میں ضروری کارروائی شروع کر دی ہے۔
اس سے قبل یمن کی حوثی تحریک "انصار اللہ” نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے 48 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 129 فضائی حملے کیے، جن کا جواب دینے کا عندیہ دیا گیا۔ حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کیا کہ حملہ جنوبی سعودی عرب میں واقع شرورہ فوجی اڈے پر کیا گیا، جس میں اسلحہ گودام، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور دیگر فوجی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ ساری نے وقت یا نقصان کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، مگر خبردار کیا کہ اگر یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو سعودی سرزمین کے اندر مزید وسیع حملے کیے جائیں گے۔ سعودی حکام کی جانب سے تاحال حوثیوں کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی نے امریکہ کیلئے ایک نیا سیکیورٹی چیلنج کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ ایران کے اتحادی حوثی مشرقِ وسطیٰ کی ایک اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ حوثی جنگجوؤں کی یمن کے ساحلی علاقے میں جنوب کی جانب پیش قدمی سے باب المندب آبنائے بند کرنے کی ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، جو ایران کے ساتھ سات ماہ سے جاری جنگ اور پٹرول کی بلند قیمتوں کے اثرات کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے سیاسی مشکل بن رہا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے براہِ راست فوجی مدد مانگی، تاہم واشنگٹن نے فی الحال براہِ راست فوجی مداخلت سے انکار کیا ہے، البتہ انٹیلی جنس مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ ٹرمپ کے مطابق حوثیوں نے بھی امریکی انتظامیہ سے رابطہ کر کے براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہونے کی درخواست کی ہے۔ امریکہ فی الحال چاہتا ہے کہ علاقائی اتحادی خود سلامتی کے معاملات کی قیادت کریں، جبکہ واشنگٹن بحیرۂ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے اور یمنی حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں۔ انہوں نے خطے کے تمام ممالک سے ایک میز پر بیٹھ کر امن و سلامتی کیلئے کوشش کرنے کی اپیل کی، اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر پیر کو مسقط میں متوقع اجلاس کا ذکر کیا جس میں وہ ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملے کیے گئے۔ پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے بین الاقوامی حقوق کا خواہاں ہے، جنگ نہیں چاہتا اور امن کو ترجیح دیتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ