تل ابیب — غزہ جنگ پر بنائی گئی دستاویزی فلم "نازا” (NAZA) کو وینس فلم فیسٹیول میں اسپیشل جیوری پرائز ملنے کے بعد اسرائیل میں اس کے فلم سازوں کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں سامنے آئی ہیں۔ اسرائیلی وزیر ثقافت میکی زوہار نے فلم سازوں یووال ابراہم اور ریچل سور پر "ریاست سے غداری” کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
زوہار نے ایکس پر ایک پوسٹ میں فلم کو "قابلِ نفرت” قرار دیا اور کہا کہ فلم ساز بیرونِ ملک داد حاصل کرنے کے لیے اپنے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر ثقافت کی حیثیت سے وہ فلم سازوں کی اسرائیلی شہریت فوری طور پر منسوخ کرنے کے لیے کارروائی کریں گے۔
وینس فلم فیسٹیول کے مطابق فلم میں غزہ میں فلسطینیوں کے "منصوبہ بند اجتماعی قتل” کے پیچھے کارفرما نظاموں کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس افسران اور فوجیوں کی گواہیاں بھی شامل ہیں۔ فلم کی وینس میں پہلی نمائش پر تقریباً ۲۵؍ منٹ تک حاضرین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔

