غزہ: اسپتالوں میں قبل ازوقت پیدائش کا بحران، انکیوبیٹر کم پڑگئے

gaza premature baby d


غزہ — غزہ کے اسپتالوں میں قبل از وقت پیدائش کے کیسز بڑھنے اور طبی آلات کی شدید قلت کے باعث نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ گنجائش سے کئی گنا زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس کے التّحرير اسپتال میں نوزائیدہ شعبہ اپنی تاریخ کی شدید ترین بھیڑ کا سامنا کر رہا ہے، جہاں ۲۷؍ بچوں کی گنجائش والے یونٹ میں ۵۴؍ نومولود زیر علاج ہیں — یعنی گنجائش کا تقریباً ۲۰۰؍ فیصد۔
ماہر اطفال درویش ابو الخیر کے مطابق انکیوبیٹر کم پڑنے پر ایک ہی انکیوبیٹر میں متعدد نومولودوں کو رکھنا پڑ رہا ہے۔ اسپتال میں ادویات اور آکسیجن کی بھی شدید قلت ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق حاملہ خواتین میں غذائی قلت اور جنگ کے نتیجے میں خراب ہوتی صحت اس بحران کی بڑی وجہ ہے۔
یونیسف کے مطابق تقریباً ہر ۵؍ میں سے ۱؍ نومولود کو انتہائی نگہداشت درکار ہے۔ جنگ سے پہلے غزہ میں ۱۷۸؍ انکیوبیٹر موجود تھے، جو اب گھٹ کر ۵۴؍ رہ گئے ہیں۔ ایندھن کی قلت کے باعث جنریٹرز بھی بمشکل چل رہے ہیں، اور غزہ سٹی کے الاحلی عرب اسپتال میں ۱۰؍ ستمبر کو مرکزی جنریٹر خراب ہونے سے سی ٹی اسکین اور ایکسرے سمیت اہم خدمات معطل ہوگئیں۔

متعلقہ پوسٹ