خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پشاور روڈ پر پرانی پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد شہید ہوگئے جب کہ دھماکے میں 103 افراد زخمی ہیں جبکہ آپریشن کے دوران 6 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد شہید ہوگئے جب کہ دھماکے میں 103 افراد زخمی ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا بلال احمد فیضی نے کہا کہ پرانی پولیس لائن کے قریب دھماکے کے بعد ریسکیو 1122 کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے، زخمیوں کو موقع پر فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کرک اور ہنگو سے اضافی ایمبولینسز اور ریسکیو اہلکار بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ پر جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں 20 ایمبولینسز، ریسکیو ویکلز، ریکوری وہیکل سمیت 60 سے زائد ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
حکام نے کہا کہ پولیس لائنز کے احاطے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا فتنہ الخوارج سے مقابلہ جاری ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خود کش حملہ آور نےسپیشل برانچ بلڈنگ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا، اب تک ایک دہشتگرد سنائپر مقابلے میں جہنم واصل ہوچکا ہے، آپریشن تاحال جاری ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق دھماکے میں 5 پولیس اہلکار اور 11 سویلین شہید ہوئے ہیں۔
آئی جی پی نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا، خیبرپختونخوا پولیس کے حوصلے بلند ہیں، دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشتگردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی، پولیس اور سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کیا، ابتدا میں دہشتگردوں کے اسنائپر کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق خود کش بمبار اور سنائپر سمیت 6 دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ہیں، دہشتگردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
صدر مملکت، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیر داخلہ کا اظہار افسوس
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کے قریب دھماکے کے نتیجے میں شہریوں کے زخمی ہونے پر اظہار افسوس کیا ہے۔
صدر مملکت نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوہاٹ کے پرانا پولیس لائن میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی، جبکہ امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائن کے قریب دھماکے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر داخلہ نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ دکھ کی گھڑی میں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خوارجیوں کی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے پختہ عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی اور پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کا یہ بزدلانہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے، معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، ہسپتالوں میں زخمیوں کے فوری علاج اور ضروری طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ شدید زخمیوں کو ضرورت کے مطابق دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات بھی کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔
دوسری جانب کوہاٹ دھماکے پر امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی عبدالواسع نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کوہاٹ پرانا پولیس لائن میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ انتہائی افسوسناک ہے۔ مسجد اور نمازیوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ دہشت گردی ہے۔
عبدالواسع نے حکومت سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرنے اور دہشت گردوں و ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور زخمیوں و متاثرین کو ہر ممکن طبی و امدادی سہولت فراہم کریں۔
عبدالواسع نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام مزید خونریزی نہیں بلکہ امن اور تحفظ چاہتے ہیں۔ انہوں نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

