میرے لیے ایڈوینچر بچپن سے دادی کی الماری سے بسکٹ اور میوے اڑانا یا نانا کے تکیے سے پیسے لے کر سب کزنز کو گول گپے کھلانا ہی تھا، لیکن کبھی کسی کھیل کود کے ذریعے کوئی پہاڑ نہیں سر کیا۔
ہمارا معاشرہ بھی خواتین کو ذرا کھلا ڈلا دیکھنے کو کم ہی ہضم کر پاتا ہے، کتنی ہی سماجی روک ٹوک ہو، لیکن پاکستان میں بھی ایسی دلیر خواتین ہیں، جو پہاڑ سر کرتی ہیں، اپنی بائیک پہ سڑکوں پہ جھنڈے گاڑ دیتی ہیں یا برفیلے میدانوں اور چٹانوں پہ سکیئنگ کرتی ہیں اور بنتی ہیں ایڈوینچر سپورٹس یا کھیلوں کی مہم جوئی میں ایک ایسا نام جو پاکستان کو عالمی سطح پہ پہچان دیتا ہے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی پہلی ملک بھر سے دس رکنی خواتین مہم جوؤں کی ٹیم نے ’بری لا‘ کی 8400 میٹر اونچی چوٹی کو سر کیا تھا۔ یہ چوٹی گلگت بلتستان میں ہے۔
تو دوسری طرف 4500 میٹر کی اونچائی والے بائفو گلیشیئر کو بذریعہ سائیکل سر کرنے والی پہلی خاتون ثمر خان بنیں۔ جنہوں نے بعد میں، سنو بورڈنگ اور ماؤنٹین سائیکلنگ کی تربیت کے لیے خواتین کا ’ثمر کیمپ‘ نامی تربیتی کیمپ بھی متعارف کرایا۔
صرف یہ ہی نہیں بلکہ موسم سر ما کے کھیلوں میں بھی، 2011 میں آمنہ ولی نے ملک کا پہلا عالمی سکیئنگ تمغہ حاصل کیا، تو دوسری طرف دسمبر 2025 میں ثمینہ بیگ نے سکیئنگ کے ذریعے ’ساؤتھ پول‘ پہ کمند ڈالی۔
یہ سب کس طرح ممکن ہوتا ہے اور خواتین ان پہاڑوں کو کیونکر سر کر پاتی ہیں؟ شمشال سے تعلق رکھنے والی سکیئر ثمانہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ سنہ 2017 سے سکیئنگ سے وابسطہ ہیں۔ ’وادی شمشال کو مہم جوؤں کی وادی مانا جاتا ہے۔ یہ وادی گلگت بلتستان کے شمال میں چینی سرحد کے قریب واقع ہے۔ شروع ہی سے اس سفر میں میرا گھرانہ میری حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے، خصوصاً میری والدہ اور میرا بھائی میری پشت پہ موجود رہے ہیں اور میری صلاحیتوں پہ ہر قدم پہ اعتماد ظاہر کیا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ثمانہ نے مزید کہا کہ اب شادی کے بعد بھی ان کی خوش نصیبی ہے کہ ان کے شوہر بھی ان کی اس کاوش میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان سبھی مراحل سے گزرنے کے لیے بقول ثمانہ گھر سے ملنے والی بنیادی سپورٹ سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو نے اسی بلاگ کو آگے بڑھاتے ہوئے، خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ ثمر خان سے بھی رابطہ کیا اور ان کے سفر کی تفصیل جانی۔
ثمر خان نے بتایا کہ ان کا تعلق دیر سے ہے اور وہ ایک روایت پسند گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، جہاں خواتین کا کسی میدان میدان میں گھر سے نکل کر کام کرنے کا تصور نہیں رہا۔ ’لیکن میرے لیے اعلیٰ تعلیم صرف اس لیے ممکن ہو سکی کہ میرے والد کی ملازمت شہر میں تھی۔ میں ہمیشہ سے سپورٹس کی طرف رحجان رکھتی تھی اور پہاڑوں کو سر کرنے کا بھی جنون تھا، لیکن گھر سے اس کی اجازت نہ تھی۔‘
ثمر خان اپنے خوابوں کو دل میں دبائے رہیں، وقت کا پانسہ اس وقت پلٹا جب ان کے والد کا انتقال ہوا اور ان کو تعلیم چھوڑ کر نوکری کی طرف آنا پڑا۔ یہیں سے ان کی مہم جوئی کا آغاز ہوا اور پھر انہوں نے ایبٹ آباد سے پیرا گلائیڈنگ کی تربیت حاصل کی۔
یہ سپورٹس کی دنیا میں ان کا پہلا قدم تھا اور پھر بقول ان کے ’بس میں ماؤنٹین بائیک پر دنیا کی بلند ترین چوٹیاں اور گلیشیئروں کو جا ملی اور سر کیا۔ اسی دوران میں نے بالاخر سنو بورڈنگ بھی سیکھ لی۔‘
ثمر خان ان سب مرحلوں کے بعد اب ایڈوینچر سپورٹس سے باقاعدہ پروفیشنل طور پہ منسلک ہو چکی ہیں۔ ساتھ ہی دیگر نوجوان خواتین کو بھی سپورٹس کیمپس کے ذریعے تربیت دیتی ہیں۔
یہ تو تھی مہم جو دلیر خواتین کی کہانیاں۔ انڈپینڈنٹ اردو نے پشاور سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی پہلی پروفیشنل سپورٹس بائیکر جنت محمود خان سے بھی رابطہ کیا۔ جنت محمود نے اپنے کیریئر کی شروعات کے بارے میں بتایا: ’مجھے فخر ہے کہ پشاور جیسے تاریخی شہر کی نمائندگی کرتی ہوں اور ملک کی پہلی خاتون سپورٹس بائیکر بن کے ابھری ہوں۔ میرا تعلق فوجی اور بیوروکریٹک گھرانے سے ہے اور گھر ہمیشہ مکمل سپورٹ حاصل رہی۔‘
ان کے بقول والدین کو ان کی صلاحیتوں پہ بھروسہ تھا اور وہ آج جس مقام پہ ہیں، والدین کی حوصلہ افزائی کا اس میں اہم کردار ہے۔ بنیاد مضبوط ہو تو ہی عمارت مستحکم بنتی ہے۔
شمشال سے تعلق رکھنے والی سکیئر ثمانہ کا ماننا ہے کہ ملک میں ایسی کئی ہوش ربا وادیاں ہیں، جنہیں سر کیا جانا چاہیے اور ہماری نوجوان خواتین میں ان چوٹیوں کو سر کرنے برفانی راستوں پہ سفر کا جذبہ موجود ہے۔ بس ان کو صحیح تربیت اور مواقعوں کی تلاش ہے، لیکن افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں سپورٹس کی اس صنف کو کچھ زیادہ خاطر میں نہیں لایا جا سکا ہے۔
ثمانہ سکیئنگ کو پروموٹ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ اس وقت وہ پاکستان فضائیہ کی سکیئنگ ٹیم کا حصہ ہیں اور اسی توسط سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
وہ پاکستان کی پہلی مہم جو خاتون ثمینہ بیگ کو اپنے لیے ’انسپریشن‘ مانتی ہیں۔ ثمینہ بیگ پاکستان سے ایورسٹ سر کرنے والی پہلی خاتون مہم جو ہیں۔
دوسری طرف پاکستان کی پہلی سپورٹس بائیکر جنت محمود خان نے بھی اپنے سفر کو بانٹتے ہوئے بتایا: ’مجھے بچپن سے بائیکنگ کا شوق تھا، سپورٹس بائیک اور کارِیں مجھے پسند تھیں۔ جب میں نے کاواساکی ننجا ایچ 2 اور سوزوکی ہیابوسا چلانا شروع کیں تو مجھے ان کے پیڈل کی سنسنی کسی اور ہی دنیا میں لے گئی۔ میں نے ہیوی بائیکس کی ہینڈلنگ، سیفٹی اور تکنیک کو خود سیکھا، مسلسل مشق کی اور ماہر بائیکرز کی رہنمائی سے اپنی پہچان بنا پائی۔‘
ثمر خان نے بھی مہم جوئی کی دنیا میں کئی نمایاں کارنامے سر انجام دیے ہیں۔ ان کے بقول: ’ابتدا میں میں نے، اپنی شاگردی خود کی، یو ٹیوب اور انٹرنیٹ سے خود سیکھا۔ میں نے دنیا کی تیسری، سب سے بڑی نون پولر گلیشیئل سسٹم کے گرد سائیکل کا سفر کیا اور پھر افریقی چوٹی پہ ماؤنٹین بائیکنگ بھی کی۔
’یہ وہ کامیابیاں تھیں جن کے بعد، مجھے باقاعدہ عالمی سطح پہ شناخت ملی اور مجھے عالمی تربیتی پروگراموں میں شامل کیا گیا۔ فی الحال میں، ایک باقاعدہ تربیتی پروگرام پہ کام کرنے کے ساتھ ہی نئی مہمات کے لیے سپانسر اور شراکت داریوں کی تیاری میں لگی ہوئی ہوں۔‘
آخر میں جب ان سبھی خواتین سے میں نے ایڈوینچر کی تعریف جاننا چاہی تو شمشال کی ثمانہ، دیر کی ثمر اور پشاور کی جنت کا ایک ہی بلند حوصلہ جواب سامنے آیا: ’ایڈوینچر آزادی کی طرف ایک قدم، روح کو پر سکون رکھنے اور نئے معرکوں کو سر کرنے کا نام ہے اور اس میں مرد و زن کی صنف بے معنی ہو جاتی ہے۔‘

