
(ویب ڈیسک)سائنسدانوں نے چاند پر بننے والا سب سے بڑا گڑھا دریافت کر لیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ناسا کے سائنسدان رابرٹ ویگنر نے چاند کے نقشے کی معمول کی جانچ کے دوران ایک ایسی چیز دریافت کی جس پر پہلے کبھی کسی کا دھیان نہیں گیا۔
ناسا کے مطابق اپنے کمپیوٹر سکرین پر ڈیٹا کا مطالعہ کرتے ہوئے ویگنر نے ایک غیر معمولی طور پر بڑا روشن مقام دیکھا جس کے چاروں طرف ایک تاریک ہالہ تھا۔
اس مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے میں چاند کی سطح پر خلل پڑا ہے۔
مزید پڑھیں:یو ٹیوبر کافلسطینی بچوں کیلئے 10 لاکھ ڈالرکا اعلان
چاند کی سطح پر تبدیلی سے پہلے اور بعد کی لی گئی تصاویر کا مطالعہ کرتے ہوئے سائنسدان رابرٹ ویگنر نے اسے نظام شمسی میں اب تک کا سب سے بڑا نیا گڑھا قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ گڑھا 11 اپریل اور 22 مئی 2024 کے درمیان چاند کے مشرقی کنارے پر بنا تھا اور اس کا نام McGetchin رکھا گیا ہے جو کہ ایک سائنسدان کا نام ہے۔
یہ گڑھا 728 فٹ چوڑا ہے جس کی لمبائی فٹ بال کے 2 میدانوں جتنی ہے جب کہ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ اس سائز کا اثر چاند پر ایک صدی یا اس سے بھی زیادہ عرصے میں تقریباً ایک بار ہوتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق17 سال سے زیادہ عرصے سے سانا کا Lunar Reconnaissance Orbiter چاند کے گرد چکر لگا رہا ہے اور اس کی ٹپوگرافی، سطح کی ساخت، درجہ حرارت اور تابکاری کے ماحول کا مطالعہ کرنے کے لیے اپنے آلات استعمال کر رہا ہے۔

