پاکستان کے فوجی ترجمان نے رواں ہفتے کہا کہ اگر طالبان حکومت عسکریت پسندوں کو سرحد پار حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روک دے تو افغانستان کے ساتھ تعلقات بحال کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر کابل نے اسلام آباد کے سکیورٹی خدشات دور نہ کیے تو پاکستان اپنے دفاع میں کارروائی کر سکتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پانچ سال قبل طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد تیزی سے خراب ہوئے ہیں اور پاکستان نے افغانستان سے متصل اپنے مغربی صوبوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا ہے۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل ٹی ٹی پی جیسے عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کرکے ایسے حملوں میں سہولت کاری کر رہا ہے، جس کی افغانستان تردید کرتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
پاکستان کے اقوام متحدہ میں مندوب عاصم افتخار احمد نے رواں ہفتے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران کہا کہ گذشتہ تین برسوں میں افغانستان سے ہونے والے عسکریت پسندوں کے حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی مارے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کابل کو خبردار کیا کہ اسلام آباد اپنے دفاع میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا تنازع افغانستان یا اس کے عوام کے ساتھ نہیں بلکہ کابل میں موجود طالبان حکام کے ساتھ ہے۔
انہوں نے افغانستان کی حکومت کو ’غیر شمولیتی اور غیر نمائندہ حکومت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا طالبان حکومت سے صرف ایک مطالبہ ہے۔
انہوں نے کہا ’اور دنیا انہیں جانتی ہے۔ وہ انہیں جانتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی سرپرستی نہ کریں۔ یہ ایک بہت سادہ، بہت معقول اور بالکل واضح مطالبہ ہے۔ ایک جملہ جو سب کچھ ٹھیک کر سکتا ہے۔‘
دریں اثنا، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعے کو العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابل پاکستان کے ساتھ مسلسل مذاکرات اور تعاون چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا افغانستان اپنے ہمسایے کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور سکیورٹی تعاون کے لیے مزید مضبوط طریقہ کار اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔
مجاہد نے اس بات کی تردید کی کہ افغانستان ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتا ہے یا وہ دوسرے ممالک پر حملے کرنے والے مسلح گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان ثالثی میں سعودی عرب کے زیادہ فعال کردار کا بھی خیرمقدم کیا۔
’مسئلے کو حل کرنا‘
دراندازی کے معاملے پر دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں اور کشیدگی بارہا مسلح جھڑپوں تک جا پہنچی ہے۔
گذشتہ سال 18 اور 19 اکتوبر کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ یہ مذاکرات سرحد پر ہونے والی مہلک جھڑپوں کے بعد ہوئے تھے۔
25 سے 30 اکتوبر تک استنبول میں ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور نگرانی و تصدیق کا ایک طریقہ کار قائم کرنا تھا۔
بعد ازاں چین نے رواں سال یکم سے سات اپریل تک ارومچی میں پاکستانی اور افغان وفود کی ایک ہفتے پر محیط بات چیت کی میزبانی کی۔ یہ کشیدگی کم کرنے اور سکیورٹی سے متعلق تنازعات کو حل کرنے کی ایک اور کوشش تھی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ طالبان حکام ان عسکریت پسندوں کے تربیتی کیمپوں، قیادت اور رسد کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرکے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات درست کر سکتے ہیں، جن کے بارے میں اسلام آباد کا الزام ہے کہ وہ افغانستان میں قائم ہیں۔
انہوں نے طالبان حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ افغانستان میں عسکریت پسند رہنماؤں کو پناہ دے رہے ہیں اور انہیں ہتھیار اور رسد فراہم کر رہے ہیں۔
’وہ کابل میں ہیں، وہ قندھار میں ہیں۔ وہ دوسری جگہوں پر بھی ہیں۔ انہیں پناہ نہ دیں۔ انہیں ہتھیار فراہم نہ کریں۔ انہیں رسد کی مدد فراہم نہ کریں۔‘
انہوں نے کہا طالبان کو 2020 کے دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے، جن میں یہ یقین دہانی بھی شامل تھی کہ افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طالبان نے اسلام آباد کے خدشات دور نہ کیے تو پاکستان اپنے دفاع میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
’یہ ان پر منحصر ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد ٹی ٹی پی کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کر سکتا ہے تو انہوں نے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ہم دہشت گردوں سے بات نہیں کرتے، لہٰذا یہ معاملہ زیرِ غور ہی نہیں۔ ہم صرف دہشت گردوں کو مارتے ہیں۔‘
دریں اثنا، پاکستان بدستور عسکریت پسندوں کے حملوں کی زد میں ہے۔ جمعے کو ضلع کوہاٹ میں فائرنگ اور بم حملے کے ذریعے ایک پولیس کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 23 افراد جان سے چلے گئے۔
23 اموات میں 17 پولیس اہلکار بھی شامل تھے جبکہ 103 افراد زخمی ہوئے۔ ٹی ٹی پی نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی جبکہ حافظ گل بہادر گروپ کی قیادت میں اتحاد اتحاد المجاہدین پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
اس گروپ کے ٹی ٹی پی سے روابط ہیں لیکن یہ اس سے الگ کام کرتا ہے۔ اس حملے سے ایک دن قبل ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو سڑک کنارے نصب بم سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چھ پاکستانی فوجی جان سے گئے۔
چوہدری نے ایک بار پھر کہا کہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تنازع مستقل نوعیت کا نہیں اور اگر کابل پاکستان کے سکیورٹی خدشات پر کارروائی کرے تو اسے حل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ’تو یہ [تعلقات] کیسے درست کیے جا سکتے ہیں؟ پاکستان کے اندر دہشت گرد نہ بھیجیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ تعلقات میں بہتری کا انحصار اب طالبان حکام کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی پر ہے۔ ’یہ ان پر منحصر ہے۔‘

