مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلی فوج کی جانب سے چوکیاں بند کیے جانے کے باعث شمالی مغربی کنارے میں 100 سے زائد فلسطینی اساتذہ اتوار کو اپنے اسکولوں تک نہیں پہنچ سکے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق طوباس گورنری کے ڈائریکٹر تعلیم عزمی بلاونہ نے بتایا کہ شمالی وادیٔ اردن میں طیاسیر اور عین شبلی چوکیاں بند کیے جانے سے 104 اساتذہ اپنے اسکولوں نہ جا سکے۔ اس بندش سے چھ اسکولوں اور ایک کنڈرگارٹن کی تدریس متاثر ہوئی، جہاں تقریباً 1,100 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اسرائیلی فوج نے یہ چوکیاں مقبوضہ مغربی کنارے میں وسیع تر فوجی پابندیوں کے تحت بند کیں۔
دوسری جانب ترکی کی خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق اسرائیلی فوج نے اتوار کی صبح سویرے رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں المغیر پر چھاپہ مارا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں پیدل دستے، فوجی گاڑیاں اور ایک ڈرون شامل تھے۔ فوجیوں نے گاؤں کے محلوں میں پوزیشنیں سنبھالیں، گھروں کی تلاشی لی، مرکزی دروازہ بند کر دیا اور درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق دروازے کی بندش سے طلبہ کا اسکول جانا اور مزدوروں و ملازمین کا کام پر پہنچنا بھی متاثر ہوا۔
المغیر میں قابض آبادکاروں کے تشدد کے دوران اسرائیلی چھاپے اور حملے بار بار ہوتے رہے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے فلسطینیوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

