برلن، (ایجنسی): جرمن دارالحکومت برلن کے ریاستی انتخابات میں بائیں بازو کی جماعت نے ترکی نژاد انسانی حقوق کارکن الف ایرالپ کی قیادت میں ۲۵.۳؍ فیصد ووٹ لے کر پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔ اے آر ڈی کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق جماعت نے اپنی حمایت تقریباً دوگنی کر لی۔ چانسلر فریڈرک مرز کی سی ڈی یو ۱۹.۱؍ فیصد کے ساتھ دوسرے اور اے ایف ڈی ۱۶.۲؍ فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
حامیوں سے خطاب میں ایرالپ نے کہا کہ ووٹروں نے تبدیلی کا واضح مینڈیٹ دیا ہے اور "آج ہم نے مل کر تاریخ رقم کی ہے۔” ۴۵؍ سالہ ایرالپ کا موازنہ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی سے کیا جا رہا ہے اور بعض مبصرین انہیں "برلن کی ممدانی” کہہ رہے ہیں۔ ان کی مہم کا محور سماجی ناانصافی کا خاتمہ اور شہر میں زندگی کو قابلِ استطاعت بنانا تھا۔
بائیں بازو کی جماعت کو سادہ اکثریت نہیں ملی، اس لیے حکومت سازی کیلئے اتحادی درکار ہوں گے۔ ایس پی ڈی (۱۲.۱؍ فیصد) اور گرینز (۱۴.۵؍ فیصد) کے ساتھ تین جماعتی اتحاد کو تقریباً ۱۵۹؍ رکنی ایوان میں ۹۰؍ نشستیں مل سکتی ہیں، جبکہ اکثریت کیلئے ۸۰؍ درکار ہیں۔ سی ڈی یو، ایس پی ڈی اور گرینز کا ممکنہ اتحاد ۷۹؍ نشستوں پر رہے گا، یعنی ایک کم۔ سہرا واگن کنیخت الائنس (بی ایس ڈبلیو) عین ۵؍ فیصد پر ہے، اس لیے ایوان کی حتمی ترکیب سرکاری نتائج تک غیر یقینی ہے۔
دوسری جانب مشرقی ریاست میکلن برگ-فورپومرن میں اے ایف ڈی ۳۷.۳؍ فیصد کے ساتھ آگے رہی، ایس پی ڈی کو ۳۵.۵؍ فیصد ملے، جبکہ سی ڈی یو صرف ۵.۳؍ فیصد ووٹ حاصل کر سکی، جو کسی بھی ریاستی انتخاب میں اس کا بدترین نتیجہ ہے۔ مرز نے اسے "تباہ کن” قرار دیا مگر عہدہ چھوڑنے کی قیاس آرائیاں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ چانسلر اور پارٹی چیئرمین کی حیثیت سے اصلاحات جاری رکھیں گے۔

