لانگ مارچ ، بے وقت کی راگنی؟

2729269 muzammilsoharwardinew 1729532166


ملک میں سیاسی ہلچل نظر آرہی ہے۔ سیاسی درجہ حرارت گرم ہو رہا ہے۔ ایک طرف جماعت اسلامی نے پٹرول لیوی کے خلاف مارچ شروع کر دیا ہوا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کا لانگ مارچ بھی قریب آرہا ہے۔ تحریک تحفظ آئین نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا بھی اعلان کیا ہوا ہے۔ ایم کیو ایم نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنانے کے لیے کراچی کو گرم کر رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن پارلیمان کی حد تک اپوزیشن کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

 جہاں تک حکومتی اتحاد کا تعلق ہے۔ پیپلزپارٹی نے گزشتہ ماہ سندھ اسمبلی میں سیاسی درجہ حرارت کافی حد تک گرم کر دیا تھا۔ اب وہ سیاسی درجہ حرارت ٹھنڈا کر رہی ہے۔ بلاول نے غیر ملکی دورے کو توسیع دے دی ہے۔ وہ صدر مملکت آصف زرداری کے ساتھ واپس نہیں آئے۔ بلکہ یورپ کے نجی دورے پر چلے گئے۔ آصف زرداری واپس آنے کے بعد سندھ اسمبلی کی قرارداد اور تقاریر سے پیدا ہونے والی گرمی کو ٹھنڈا کر رہے ہیں۔ ان کی مقتدرہ سے اہم ملاقاتیں ہو گئی ہیں۔ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ جب وہ ماحول کو ٹھنڈا کر لیں گے تو بلاول واپس آجائیں گے۔ آج کل حکومتی اتحاد کے اکٹھا کرنے کا عمل جاری ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) فی الحال سیاسی طور پرایک محتاط اننگ کھیل رہی ہے۔ وہ حکمران اتحاد کو بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ بھی وہ سیم پیج قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ سیم پیج کو روز بروز مضبوط رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ایڈمنسٹریٹو ایشو پر بھی محتاط کھیل رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف بھی کافی عرصہ سے سیاسی طور پر خاموش ہیں۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف بھی خاموش ہیں ۔ کوئی واضح موقف نہیں ہے۔ وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ہی موقف رکھیں گے۔ کھیل حتمی طور پر جدھر جائے گا وہی مسلم لیگ (ن) کا موقف ہوگا۔

اب جہاں تک جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کا تعلق ہے۔ حکومت اس سے سختی نہیں کرنا چاہتی۔ بات چیت سے معاملہ حل کرنا چاہتی ہے۔ اسی لیے مذاکرات کے کافی دور ہوئے ہیں۔ حکومت کی حتی الامکان کوشش ہے کہ وہ اسلام آباد نہ آنے پر مان جائیں۔ ورنہ سختی کرنا ہوگی۔ شائد لاہور یا ملتان میں روکنے کی کوشش کی جائے۔ اگر تب تک بات چیت سے بات نہ بن سکی۔ حکومت نے جماعت اسلامی کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ آئی ایم ایف کا دورہ ہے۔ ہمیں آئی ایم ایف سے بات چیت کر لینے دیں۔ ان کے دورے کے بعد کچھ طے ہو سکے گا۔ لیکن جماعت اسلامی اپنا احتجاج اور لانگ مارچ ملتوی کرنے پر تیار نہیں ہوئی۔ بہرحال جہاں تک میری رائے ہے کہ انھیں اسلام آباد پہنچنے نہیں دیا جائے گا۔

پہلے روکا جائے گا۔جہاں تک تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا تعلق ہے۔ اس کے منظر نامہ میں فرق ہے۔ دونوں طرف سے ماحول گرم کیا جا رہا ہے۔ گرفتاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں اور بیانات بھی سخت آرہے ہیں۔ بالخصوص جنید اکبر کے سومنات والے بیان نے کافی کشیدگی پیدا کی ہے۔ ابھی تک کچھ واضح نہیں کہ تحریک انصاف کا حتمی ہدف کیا ہے۔ وہ کیا چاہتے ہیں۔ کیونکہ شاید اس لانگ مارچ کے نتیجے میں بانی تحریک انصاف کی رہائی ممکن نہیں۔ حکومت کسی دباؤ میں کوئی ریلیف دینے کے موڈ میں نہیں۔ دباؤ کے نتیجے میں سختی ہو گی اور اس بار شائد سختی زیاد ہ ہو۔ حکومت کا بھی نرمی کا کوئی موڈ نظر نہیں آرہا ہے۔

کیا کسی تصادم کا خطرہ ہے۔ یہ ابھی ایک مشکل سوال ہے۔ دونوں طرف سے موقف میں سختی ہے۔ حکومت کا واضح موقف ہے کہ کسی کو اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ علیمہ خان کی گرفتاری بھی اسی لیے ہے کہ ان کا رابطہ ختم ہو اور آخری بات چیت اور مذاکرات میں وہ شامل نہ ہوں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ وہ مذاکرات کی راہ میں حائل ہیں۔ وہ مفاہمت کی مخالف ہیں۔ اس لیے ان کی گرفتاری کے پیچھے تحریک انصاف کے مفاہمت کے حامی بھی ہیں۔

جہاں تک لانگ مارچز کا تعلق ہے۔ کیا ان کے نتیجے میں کوئی تبدیلی ممکن ہے۔ مجھے کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی۔ مجھے کسی بھی لانگ مارچ کا کوئی بھی ہدف پورا ہوتا نظر نہیں آرہا۔مجھے اس لانگ مارچ کے نتیجے میں بانی تحریک انصاف عمران خان کو بھی کوئی ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا۔ فی الحال پاکستان میں احتجاجی سیاست کا کوئی موسم نہیں ہے۔

پاکستان میں اپوزیشن کی سیاسی تحریکیں ایک خاص آشیر باد سے ہی کامیاب ہوتی ہیں۔ وہ خاص آشیر باد آج کل اپوزیشن کے پاس نہیں ہے۔ وہ حکومت کے پاس ہے۔ اس لیے حکومت کو اس بے وقت کی احتجاجی تحریک سے کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا ۔ بلکہ یہ سوچ بھی ہے کہ تصادم سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک طرف سختی کا پیغام بھی دے رہے ہیں اور دوسری طرف بات چیت بھی کر رہے ہیں۔

میری رائے میں تحریک انصاف کو فی الحال تصادم سے بچنا چاہیے۔ان کو ماضی میں بھی تصادم سے نقصان ہوا ہے، ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ ابھی مزاحمتی سیاست کا کوئی موسم نہیں۔ انھیں ابھی اپنے لیے بند سیاسی راستے کھولنے ہوں گے جو ابھی نہیں کھلے ہیں۔ مولانا ان کے ساتھ سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ باقی جو ساتھ ہیں وہ سیاسی زبان میں ٹانگے کی سواریاں ہیں ان کی کوئی عوامی حمایت نہیں۔ میری مراد محمود خان اچکزئی سمیت دیگر کی ہے جنہوں نے تحریک تحفظ آئین بنائی ہوئی ہے۔

اس لیے میں سمجھتا ہوں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی۔ کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں۔ ابھی یہی نظام چلتا نظر آرہا ہے۔ سیم پیج پوری آب وتاب سے قائم ہے۔ حکومت محفوظ ہے۔ تحریک انصاف کے لیے بھی راستہ کھلتا نظر نہیں آرہا۔ بلکہ جو راستے گزشتہ ماہ کھلتے نظر بھی آئے تھے، وہ بھی بند ہوتے نظر آرہے ہیں۔ ملک جس قسم کے بحران میں ہے ، اس میں سیاسی عدم استحکام قابل قبول نہیں۔ جو بھی عدم استحکام کی سیاست کرے گا اس کے ساتھ سختی کی پالیسی نظر آرہی ہے۔ نرمی کا کوئی موسم نہیں۔ سڑکوں کی سیاست کا یہ ابھی موسم نہیں۔ یہ بے وقت کی راگنی لگ رہی ہے۔ سیاست میں ٹائمنگ ہی اہم ہے اور غلط ٹائمنگ کا بہت نقصان ہوتا ہے۔

یہ لانگ مارچ تحریک انصاف کی تقسیم کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے اندر ایسی آوازیں موجود ہیں جو اس لانگ مارچ کے حق میں نہیں ہیں۔ گنڈا پور اسپتال داخل ہو گئے ہیں، اعظم سواتی بھی اختلاف کر رہے ہیں۔ پنجاب سے ارکان پارلیمنٹ بھی حق میں نہیں، کے پی سے بھی اختلافی آوازیں سامنے آرہی ہیں۔ اس لانگ مارچ کے لیے تحریک انصاف میں اتفاق نہیں۔ ایک رائے ہے کہ یہ سیاسی خودکشی ہے۔ لیکن مجبوریاں بھی ہیں، وہ مجبوریاں تحریک انصاف کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کا دباؤ۔ علیمہ خان کا دباؤ۔ سب غلط سمت میں لے کر جا رہا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ