تمام راستے کھلے ہیں، بندش کا فیصلہ صورت حال کے مطابق کیا جائے گا: اسلام آباد پولیس

398622 1794769644


دارالحکومت میں ایک بار پھر احتجاج اور دھرنوں کا موسم ہے جس کے لیے مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں کنٹینرز دکھائی دے رہے ہیں اور ساتھ ہی افواہوں کا بازار بھی گرم ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے لانگ مارچ اور احتجاجی دھرنوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں جماعت اسلامی نے تو 20 ستمبر سے کراچی سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کی کال دے رکھی ہے۔

اس حوالے سے دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات عروج پر ہیں اور ہر جگہ کنٹینرز موجود ہیں۔

اسلام آباد پولیس نے اس سے ضمن میں ریڈ زون، ہائی سکیورٹی زون اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کی طلب کی تھی، جبکہ ساڑھے 23 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جانے کا بھی منصوبہ ہے۔

تاہم اس سب کے دوران سوشل میڈیا پر مختلف مقامات کی پرانی ویڈیوز شیئر کرنے اور راستوں کی بندش کے حوالے سے افواہیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

اصل حقیقت کیا ہے؟

اسلام آباد پولیس کے مطابق فی الحال شہر کے تمام راستے معمول کے مطابق کھلے ہیں۔

مختلف مقامات پر کنٹینرز ضرور موجود ہیں اور احتجاج کے پیشِ نظر داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں، لیکن اسلام آباد پولیس کے مطابق راستوں کی مکمل بندش کا فیصلہ صورت حال کے مطابق کیا جائے گا۔

پولیس اور انتظامیہ کے مطابق اگر احتجاج کے دوران کسی مخصوص راستے کو بند کرنے کی ضرورت پڑی تو ٹریفک پلان کے تحت اسے بند کیا جا سکتا ہے۔

موٹروے کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر تعمیراتی یا مرمتی کام کی وجہ سے عارضی رکاوٹیں یا لین کی بندش ہو سکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام آباد جانے والی پوری موٹروے بند کر دی گئی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ