ایک نامور صحافی کی سرگزشت

2697907 ZUILFIQARAHM 1728907835


جناب عبدالمجید سالک اپنے وقت کے وہ نامور صحافی تھے جن کے علامہ اقبالؒ اور ابوالکلام آزاد کے ساتھ بیک وقت بہت اچھے مراسم تھے، وہ لاہور سے نکلنے والے اخبار انقلاب کے بڑے دبنگ ایڈیٹر تھے۔ انھوں نے ہی شیخ عبداللہ کو اس وقت شیرِ کشمیر کا خطاب دیا تھا، جب وہ ابھی کانگریس کی گود میں نہیں بیٹھے تھے۔ عملی زندگی کے آغاز میں انھیں ٹانک جو ڈیرہ اسمعیل خان ڈویژن کا ایک ضلع ہے اور جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا جیسی دور دراز جگہوں پر بھی رہنا پڑا۔ سو سال پہلے کے ٹانک کے حالات نوجوان سالک کی زبانی سن لیجیے۔

’’میرے چچا نے والد سے کہا کہ سالکؔ کو چند ماہ کے لیے میرے پاس وزیرستان بھیج دیجیے۔ وہاں اس کی عارضی ملازمت کا بندوبست بھی ہوجائے گا۔ چنانچہ میں دسمبر میں پٹھان کوٹ سے چل کر دریا خاں، وہاں سے کشتیوں کے پُل پر سے ڈیرہ اسمٰعیل خان اور ڈیرہ اسمٰعیل خان سے ٹانگہ پر سفر کرکے ٹانک پہنچا۔ جہاں ’’پولیٹکل سرائے‘‘ میں چچا اور ان کے دفتر کا عملہ مقیم تھا۔ چوں کہ میں پہلی دفعہ اپنے گھریلو ماحول اور اپنے دوستوں سے جدا ہوکر کالے کوسوں ایک بالکل اجنبی مقام پر پہنچ گیا تھا، جہاں کوئی ہم مذاق نہ تھا، اس لیے طبیعت بہت افسردہ رہتی تھی۔

ٹانک میں چچا کا ایک نوکر یا خانساماں تھا، ملا حیات اللہ۔ یہ بنوں کے علاقے کا رہنے والا تھا، کوئی ستائیس اٹھائیس سال کی عمر ہوگی، بڑا خوش مزاج اور خدمت گزار، ایک دن چچا نے مجھے بتایا کہ یہ ملّا بہت ذی علم آدمی ہے، محض کسی جرگے کے حکم سے اپنی جلا وطنی کا زمانہ کاٹنے کے لیے یہاں نوکری کررہا ہے، اس کے بعد میں نے ٹٹولا تو معلوم ہوا لہ مُلّا صاحب علومِ دینی کے ماہر ہیں لیکن ان کا تمام تر علم ملفوظی ہے، لکھنے میں ان کی یہ حالت ہے کہ اپنا نام ’’حیات اللہ‘‘ نہیں لکھ سکتے، میں نے چچا سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ کہنے لگے کہ یہاں ایسے علماء اکثر ملیں گے، کیونکہ کتابیں اور لکھنے کا سامان کمیاب ہے، یہ لوگ بڑے بڑے علماء سے بڑی بڑی کتابیں پڑھ لیتے ہیں اور لکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ بعد میں میں نے دیکھا کہ ملا حیات اللہ وانو(وانا) میں ایک بوڑھے مُلّا ترین کو تفسیر کبیر پڑھا رہے ہیں اور ایک اور نوجوان ان کے پاس آکر بوستانِ سعدیؔ پڑھ رہا ہے۔

پولیٹکل عملہ محض وزیرستان کی سخت سردی سے بچنے کے لیے ٹانک میں مقیم تھا اور چند ہفتے کے اندر وانا جانے والا تھا۔ اس دوران میں ایک دن سرجارج روس کیپل چیف کمشنر، مسٹر ڈانلڈ ریذیڈنٹ وزیرستان اور دوسرے حکام دورہ کرتے ہوئے ٹانک آئے تو چیف کمشنر کے ساتھ ایک صاحب سیّد محمد شاہ رفعت بخاری بھی آئے، جن سے چچا نے میرا تعارف کرایا، یہ صاحب شعر کہتے تھے اور بہت پُر مزاح اور خوش فکر نوجوان تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ہمارے احمد شاہ بخاری ’’پطرس‘‘ کے بڑے بھائی تھے (آخر عمر میں چند سال عوارضِ دماغی میں مبتلا رہے اور پھر لاہور میں ہی انتقال ہوا) ان کے آنے سے میرے چندروز نہایت لطف سے گزرے کیونکہ پطرس بخاری صاحب سے میرے تعلقات بھائیوں سے زیادہ گہرے ہیں۔

ٹانک کے دورانِ قیام میں ایک دفعہ ٹانک کے نواب غلام قاسم خان کٹی خیل نے پولیٹکل محکمے کے عہدے داروں کو رات کے کھانے کی دعوت دی، میں بھی چچا کے ساتھ وہاں گیا، چیف کمشنر کے دیسی اسسٹنٹ شیخ محمد اکبر بھی وہاں موجود تھے، دسترخوان پر مزے مزے کی باتیں ہورہی تھیں، چچانے میرے کان میں کہا کہ نواب غلام قاسم خان کا تکیہ کلام ہے:’’مطلب اور نتیجہ اور وجوہات اور‘‘ اب تم ذرا غور سے سنتے رہو کہ وہ ان لفظوں کو کس کس موقع پر استعمال کرتے ہیں۔ مجھے بہت دلچسپی ہوئی، کسی نے ذکر کیا فلاں حکیم نے فلاں رئیس کے لیے ایک دوا تیار کی ہے جس پر دو ہزار روپیہ صرف ہوا ہے۔ نواب صاحب نے فوراً کہا،’’تو پھر اس دوا کا مطلب کچھ اور نتیجہ کچھ اور تو ضرور ہوگا‘‘ مجھے ہنسی آگئی، لیکن ضبط کیا۔ پھر کسی سے نواب صاحب صاحب مخاطب ہوئے اور کہا کہ آج آپ کاہاتھ کھانے پر کچھ سست چل رہا ہے۔ اس کا مطلب اور نتیجہ اور وجوہات اور ہیں کیا؟ ایک دفعہ اور کوئی ایسی ہی بات ہوئی تو نواب صاحب نے پھر ’’مطلب اور نتیجہ اور وجوہات اور‘‘کی گردن کر ڈالی۔ غرض یہ تکیہ کلام بے مثال تھا اور میں اُسے سن کر بے حد محفوظ ہوا۔

مُلّا حیات اللہ جب رات کو کام کاج سے فارغ ہوتے تو میرے ساتھ فارسی میں بات چیت شروع کردیتے۔ ایک دن انھوں نے کہا کہ خان! تم یہ بتاؤ کہ تم نے آج تک کتنے آدمیوں کو قتل کیا ہے؟ میں نے کہا، استغفراللہ! ملّا! تم بھی کیا باتیں کرتے ہو۔ بھلا قتل بھی کسی مذہب میں روا ہے؟ کہنے لگے، واہ تم سترہ سال کے جوان آدمی ہو اور اب تک ایک آدمی کو بھی قتل نہیں کرسکے، عجب جوان ہو۔ میں اب تک سات کو مار چکا ہوں۔ اس کے بعد اہلِ ہند کا مذاق اڑانے لگے کہ سنا ہے پنجاب میں ایک جگہ ہندو مسلمان لڑ پڑے۔ تین دن لڑتے رہے اور آخر میں معلوم ہوا کہ دو آدمیوں کے چوٹ آئی ہے۔ میں نے کہا کہ اہلِ ہند تمہاری طرح بندوقیں نہیں لیے پھرتے۔ وہ جب لڑتے ہیں تو لاٹھیوں ہی سے دشمن کا قیمہ کر ڈالتے ہیں۔ ملّا صاحب بہت ہنسے کہ تم لاٹھی کو بھی ہتھیار سمجھتے ہو۔ لاٹھی تو ’’عصائے پیر‘‘ ہے،’’تیغِ جواں‘‘ نہیں ہے۔

انھی دنوں خبر آئی کہ پہاڑ پور پر خوست وال وزیریوں نے ڈاکہ ڈالا۔ پہاڑ پور (ضلع ڈی آئی خان) کے کسانوں نے لاٹھیوں سے ان کا مقابلہ کرکے اُن کو بھگادیا اور ایک خوست وال وزیری کی نعش ٹانک لائی گئی ہے۔ میں اور ملا اسے دیکھنے گئے۔ معلوم ہوا کہ اس وزیری کے پاس ہنری مارٹینی رائفل تھی اور ایک سو کارتوس پیٹی میں تھے لیکن ایک کسان نے پہلی لاٹھی ماری تو بندوق کا کُنڈا ٹوٹ کر زمین پر جاگرا اور بندوق بے کار ہوگئی۔ دوسری لاٹھی وزیری کے سر پر رسید کی، جس سے وزیری وہیں ڈھیر ہوگیا۔ اب میں نے مُلّا صاحب کو بہت پریشان کیا اور کہا، ’’ملّا! اصل چیز بندوق نہیں، اصل چیز اوسان ہیں، وہ قائم رہیں تو کیا شے ہے، آدمی توپ سے لڑجاتا ہے۔

چند ہفتوں کے بعد ہم لوگ ٹانک سے وزیرستان کو روانہ ہوئے، یہ سلسلہ کوہ سلیمان تک تھا۔ خشک اور ننگے پہاڑ، دشوار گزار درّے، چھوٹی سی سڑک۔ مقررہ دنوں پر کانوائے یعنی قافلہ جاتا تھا اور پہاڑ کی چوٹیوں پر پکٹ بٹھایا جاتا تھا تاکہ سرکش قبائل کہیں کانوائے کو لوٹ نہ لیں۔ ہم چار پانچ دن میں وانو( وانا) پہنچے۔ رستے میں ایک جگہ بہت اونچے اونچے پہاڑ نظر آئے جو دیوار کی طرح سیدھے کھڑے تھے اور درمیان میں ایک چھوٹا سا درّہ تھا۔ چچا نے بتایا کہ یہ درّہ گومل ہے، جہاں سے محمود غزنوی اور دوسرے حملہ آور ہندوستان میں داخل ہوتے رہے۔

وانو پہنچ کر بالکل دنیا ہی دوسری نظر آئی، چاروں طرف پہاڑوں کا حلقہ، بیچ میں ایک وسیع وادی۔ ایک طرف انگریزی فیشن کا ایک قلعہ، درمیان میں میدان، بیچوں بیچ ایک پہاڑی نالہ۔ وادی کے ایک جانب تحصیل، جس کی ساخت بھی قلعہ ہی کی طرح تھی۔ ہم لوگ تحصیل کی عمارت میں رہتے تھے اور کام بڑے قلعہ میں کرتے تھے۔ چچا پولیٹکل محکمہ میں ہیڈ کلرک تھے اور میں عارضی طور پر سیکنڈ کلرک۔ چند روز بعد چچا پولیٹکل ایجنٹ کے ساتھ دورے پر روانہ ہوگئے اور میں اکیلا ملّاحیات اللہ کی سرپرستی میں ’’وانو‘‘ رہ گیا۔

اس زمانے میں محمد قلعی خاں وہاں پولیٹکل تحصیلدار تھے جو بعد میں خان بہادر محمد قلعی خان ہوئے اور جو یوسف خٹک (سیکریٹری مسلم لیگ) اور اسلم خٹک کے والد ہیں۔

’’وہیں خبریں آنے لگیں کہ محسود قبائل جہاد کی تیاریاں کررہے ہیں۔ وانو میں پہرہ بٹھادیا گیا۔ خاردار تار لگادیا گیا۔ آس پاس کے دوست قبائل کے آدمی حفاظت کے لیے بلالیے گئے۔ پھر معلوم ہوا کہ حضرت ملّا پاوندہ (مولانا عبدالمجید) نے جن کے صاحبزادے شہزادہ فضل الدین آج کل محسودوں کے سردار ہیں، چند ہزار محسودوں کی جمعیت سے سرویکئی کا محاصرہ کرلیا ہے۔ یہ سرویکئی وانو سے کوئی پچیس میل دور تھا۔ پولیٹکل ایجنٹ میجر ڈاڈ، چچا افضل خان اور بعض دوسرے اہل کار سرویکئی ہی میں تھے اور اس قلعہ میں ملیشیا کی تعداد دو تین سو سے زیادہ نہ تھی، میں وانو میں تھا اور میری تشویش کی کچھ انتہا نہ تھی، دن رات چچا کی سلامتی کی دعائیں مانگتا تھا۔ دوست مجھے سمجھاتے تھے کہ محسود جنگ نہیں کیا کرتے، یونہی ڈرا دھمکا کر سرکار سے پیسہ وصول کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، تم بالکل فکر نہ کرو، ایساہی ہوا۔ مجھے سرویکئی سے حکم آیا کہ بیس ہزار خزانے سے لے کر کل سرویکئی پہنچ جاؤ۔ چنانچہ میں نے بدرقہ محافظوں کا انتطام کیا۔ نائب تحصیلدار کی نگرانی میں بیس ہزار روپیہ نقد خزانے سے نکلوایا اور گھوڑے پر سوار ہوکر سرویکئی روانہ ہوگیا‘‘۔





Source link

متعلقہ پوسٹ