میں بڑا فیصلہ کرنے جا رہا ہوں کہ ایران کو تباہ کردوں یا انہیں دوبارہ پنپنے دوں: ڈونلڈ ٹرمپ

42159961e2f64961a07e9fa6c0541e4a L


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں، انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایران کو تباہ کردیں یا انہیں دوبارہ پنپنے دیں۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں بدمعاشی کرتا تھا لیکن اب نہیں کرسکتا، ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران دنیا میں دہشتگردی کو پروموٹ کر رہا تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آج ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور ہے، امریکا آگے بڑھ رہا ہے اور امریکا کا مستقبل پہلے سے بہت زیادہ روشن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج امریکا میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے، امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے، آج امریکی سرحدیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں، امریکا میں آج 125 سال کے مقابلے میں قتل کی وارداتوں کی شرح کم ترین ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ لوگوں نے امن کی باتیں کیں، میں نے امن کا قیام ممکن بنایا، امریکا میں غربت کی شرح ریکارڈ سطح تک نیچے آگئی ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں بدمعاشی کرتا تھا لیکن اب نہیں کرسکتا، ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران دنیا میں دہشتگردی کو پروموٹ کر رہا تھا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران سے معاہدہ کرنا چاہا لیکن ایران نے انکار کردیا، ایران کی دہشتگرد رجیم بہت برے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، ایران کا برا طرز عمل اس لیے نہیں کہ وہ طاقتور ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ کمزور ہوگئے ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی معیشت تباہ ہوچکی اور اب وہاں منہگائی 300 فیصد ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران سے ڈیل ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران دیکھنا چاہتے ہیں کہ مڈٹرم الیکشن میں میری پوزیشن کیا رہتی ہے، ایرانیوں کو احساس نہیں کہ میں تو مڈٹرم الیکشن میں لڑ ہی نہیں رہا۔

اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہُرمُز سے ایک ارب بیرل تیل نکلوایا ہے۔

انہوں نے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں ایک بار پاکستان اور بھارت کی جنگ ختم کرانے کا ذکر کیا۔

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت سے نکل جائیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی عالمی ادارہ امریکا پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے، عالمی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں پر دائرہ اختیار حاصل نہیں، امریکا کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کسی عالمی ادارے کو امریکی شہریوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے اور امریکا اپنے شہریوں اور قومی مفادات کا ہر صورت دفاع کرے گا۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجی اہلکاروں کو کسی بھی ’امریکا مخالف ٹریبونل‘ کے نام نہاد اور نمائشی ٹرائلز کا نشانہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے رکن ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں عدالت کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس بدمعاش ادارے سے باضابطہ طور پر مستعفی ہو جائیں۔


install suchtv android app on google app store



Source link

متعلقہ پوسٹ