چینی ڈانسر ہیومنائیڈ روبوٹس کے ہمراہ امریکا گوٹ ٹیلنٹ کے فائنل میں پہنچ گئے
وو کا کہنا ہے کہ مشینیں کوریوگرافی بہت تیزی سے سیکھ سکتی ہیں
چینی روبوٹس نے دنیا کے کئی شعبوں میں اپنی بہترکارکردگی کا لوہا منوالیا ہے اور اب یہ امریکا گوٹ ٹیلنٹ میں اپنے ساتھی انسان کے ساتھ فائنل میں ڈانس پرفارمنس دینے کی تیاری کر رہیں ہیں۔
چینی ڈانسر وو یوفی چینی کمپنی یونی ٹری کے چار ہیومنائیڈ روبوٹس کے ساتھ امریکہ کے گوٹ ٹیلنٹ کے فائنل میں اسٹیج پرجلوہ گر ہونے کی تیاری کر رہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسانی مداخلت کے بغیر روبوٹس کے ذریعے چلنے والا دنیا کا پہلا ہوٹل، افتتاح 2027 میں
روبوٹس اور انسانوں پر مشتمل اس ٹیم نے فائنل پرفارمنس دینے کے لیے رقص کے ساتھ کنگ فو کی کچھ چالوں کو بھی شامل کیا ہے جب کہ روبوٹ فلپس اور دیگر ایکروبیٹک حرکات بھی کرتے ہیں۔
وو کا کہنا ہے کہ مشینیں کوریوگرافی بہت تیزی سے سیکھ سکتی ہیں لیکن جب کارکردگی کے دوران غیر متوقع تبدیلیوں کو اپنانے کی بات آتی ہے تو اس ضمن میں انسان زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
وو نے مزید کہا کہ مہینوں کی تربیت کے بعد اس کی روبوٹس کے ساتھ ایک ’ٹیم اسپرٹ‘کا احساس پیدا ہو گیا ہے۔

