
(ویب ڈیسک)دس سالہ مقتولہ سکول کی طالبہ سارہ شریف کے والد کو برطانوی جیل کے سیل میں قتل کرنے کے الزامات کی قیدیوں کی طرف سے سختی کے ساتھ تردید کر دی گئی۔
سارہ شریف کا والد بچی کے قتل کے الزام میں جیل میں بند ہے جسے مبینہ طور پر ساتھی قیدیوں کی طرف سے سیل میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی مگر قیدیوں نے دورانِ تحقیقات اس الزام سے انکار کر دیا۔
قیدیوں اسٹیون سنسم اور ایڈم واٹسن پر الزام ہے کہ انہوں نے عرفان شریف پر 2025ء میں حملہ کیا تھا۔
الزام میں کہا گیا ہے کہ سنسم نے اپنی بیٹی کو قتل کرنے والے عرفان شریف کو ایک سیل میں مدعو کیا جہاں واٹسن اس کا انتظار کر رہا تھا، جس نے عرفان شریف پر حملہ کیا اور گلا کاٹنے کی کوشش کی۔
جیل افسران نے موقع پر پہنچ کر عرفان شریف کو زخمی حالت میں ریسکیو کیا اس کے چہرے، گردن وغیرہ پر شدید چوٹیں تھیں اور وہ شدید زخمی پایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:سونے کی چمک ماند پڑنے لگی،عالمی منڈی میں قیمتیں مزید گر گئیں
واٹسن اور سنسم ویک فیلڈ جیل سے الگ الگ ویڈیو لنکس کے ذریعے درخواست کی سماعت کے لیے اولڈ بیلی کورٹ میں پیش ہوئے اور انہوں نے اس الزام سے انکار کر دیا، جس کے بعد آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی گئی۔
یاد رہے کہ عرفان شریف اور سارہ کی سوتیلی ماں بینش بتول کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

