چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
انڈین ایکسپریس کی الیکشن کمیشن پر پڑتال کے بعد اپوزیشن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذہ کا نوٹس پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ کمار کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کیا جانے والا تیسرا اس طرح کا نوٹس ہوگا۔ اس سے پہلے مارچ اور اپریل میں نوٹس پیش کیے گئے تھے۔
نئی دہلی: دی وائر کو موصولہ جانکاری کے مطابق، اپوزیشن چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف مواخذہ کا ایک نیا نوٹس پیش کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
اپوزیشن اگلے 10 سے 15 دنوں کے اندر یہ نوٹس پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ کمار کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کیا جانے والا تیسرا ایسا نوٹس ہوگا۔ اس سے پہلے اپریل میں راجیہ سبھا میں دیا گیا نوٹس، جس پر 73 ارکان پارلیامنٹ کے دستخط تھے، اب بھی زیر التوا ہے۔
یہ نوٹس 12 مارچ کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں الگ الگ پیش کیے گئے دو نوٹس کے بعد دیا گیا تھا۔ ان دونوں نوٹس میں کمار پر ’بدعنوانی‘ کا الزام لگایا گیا تھا، تاہم 6 اپریل کو انہیں خارج کر دیا گیا تھا۔ راجیہ سبھا میں دیے گئے نوٹس پر 63 ارکان پارلیامنٹ کے دستخط تھے، جبکہ لوک سبھا کے نوٹس پر 130 ارکان پارلیامنٹ کے دستخط تھے۔
اپوزیشن کا یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب الیکشن کمیشن کے حوالے سے سوالوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ انڈین ایکسپریس کی ایک سنسنی خیز پڑتال ہے، جس میں الیکشن کمیشن کے اندر اعلیٰ سطح پر کام کاج میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔
اخبار نے اپنی رپورٹس کی ایک سیریز میں بتایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے دو شریک کار- الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی-نے کئی معاملوں میں انہیں اندھیرے میں رکھے جانے پر اعتراض یا شکایت کی ہے۔ ان میں ووٹر فہرستوں کی متنازعہ ایس آئی آر سے متعلق معاملے بھی شامل ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں نے انڈین ایکسپریس کے انکشافات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، جن کو لے کر الیکشن کمیشن واضح طور پر تردید نہیں کی ہے، گیانیش کمار سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپریل میں راجیہ سبھا کے ان 73 اپوزیشن ارکان پارلیامنٹ نے، جنہوں نے کمار کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے نوٹس دیا تھا، اس کے نو اسباب بتائے تھے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر ضابطہ اخلاق نافذ کرنے میں ’جانبدارانہ طور پر عدم مساوات‘ برتنے، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی ’سرعام مذمت‘ کرنے اور مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کو ’حق رائے دہی سے محروم‘ کرنے سمیت کئی الزامات لگائے تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ملک گیر ایس آئی آر ایک ’ناقص‘ عمل ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ٹی ایم سی کی شکایتوں پر جان بوجھ کر کارروائی نہیں کی اور الیکشن کمیشن پر تمل ناڈو میں نوکرشاہوں کے تبادلے کی ہدایت دینے کے لیے اپنے اختیارات کے غلط استعمال کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری، ملازمت کی شرائط اور مدت کار) ایکٹ، 2023 کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر کو ’سپریم کورٹ کے جج کو عہدے سے ہٹانے کے لیے جس طریقے اور جن بنیادوں کا استعمال کیا جاتا ہے، اسی طریقے اور انہی بنیادوں کے علاوہ ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔‘
جج (انکوائری) ایکٹ، 1968 کے مطابق، پارلیامنٹ کے کسی بھی ایوان میں مواخذے کا نوٹس دیے جانے پر سپریم کورٹ کے کسی جج کو عہدے سے ہٹانے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ اگر نوٹس لوک سبھا میں دیا جاتا ہے تو اس پر کم از کم 100 ارکان پارلیامنٹ کے دستخط ضروری ہیں، جبکہ راجیہ سبھا میں اس کے لیے کم از کم 50 ارکان کے دستخط درکار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد لوک سبھا کے اسپیکر یا راجیہ سبھا کے چیئرمین یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ تجویز کو منظور کیا جائے یا خارج کر دیا جائے۔
ویسے ’چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ، 2023‘ بذات خود سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ اپوزیشن اور سول سوسائٹی کا الزام ہے کہ یہ قانون ان عہدیداروں کے انتخاب کے عمل کو حکومت کے حق میں جھکا دیتا ہے۔
حالاں کہ ،سپریم کورٹ نے کل اس ایکٹ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر آگے کی کارروائی کے بارے میں فیصلہ چیف جسٹس پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا، تاہم جسٹس دیپانکر دتہ نے کہا کہ یہ قانون پہلی نظرمیں الیکشن کمشنروں کی تقرری میں حکومت کو مؤثر ویٹو (اختیار) دیتا ہے اور عوام کے درمیان غلط پیغام بھیجتا ہے۔

