فوٹو بہ شکریہ: ایکس
پورے ملک میں ’آشیرواد کا دیا‘ کے نام پر تقریباً 15 کروڑ دیے روشن کیے گئے۔ اس فضول خرچی کا ایک بنیادی تخمینہ لگایا جائے تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ اگر یہ فرض کیا جائے کہ ہر دیے میں اوسطاً 20 ملی لیٹر تیل استعمال ہوا، تو اس ایک تقریب میں تقریباً 30 لاکھ لیٹر تیل چند گھنٹوں میں جلا دیا گیا۔
سات اور آٹھ سال کے دو بھائی – راہل اور آرین نے 17 ستمبر کی شام کو بجھتے ہوئے دیوں سے دو لیٹر پکوان تیل جمع کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی ماں اب اس تیل کو کم از کم ایک ماہ تک اپنے گھر کا کھانا پکانے کے لیے استعمال کریں گی۔
والد دہلی میں یمنا ندی کے پشتے پر بنے کھیتوں میں یومیہ مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ سات افراد پر مشتمل یہ غریب خاندان دریا کے پشتے پر واقع ایک عارضی جھونپڑی میں رہتا ہے اور اسی زمین کو کاشت کر کے بڑی مشکل سے اپنا گزر بسر کرتا ہے۔
سترہ ستمبر کی شام، جب ان بچوں کو خبر ملی کہ قریبی سرکاری اسکول اور اس سے ملحقہ میونسپل عمارت میں سینکڑوں دیے جلائے جا رہے ہیں، تو وہ دونوں وہاں پہنچ گئے۔ یہ وہ بچے ہیں جنھوں نے غربت کے سبب کبھی اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا۔
بہرحال، ان کے وہاں پہنچنے کی واحد وجہ یہ تھی کہ وہ دیوں کے بجھنے سے پہلے ان میں بچ جانے والا تیل اکٹھا کر لینا چاہتے تھے۔
ان کے لیے یہ کوئی نیا کام نہیں ہے۔ ہر سال دیوالی کے دوران، جب خوشحال لوگ دیے جلا رہے ہوتے ہیں، نئے کپڑے پہنتے ہیں اور ایک دوسرے کو دیوالی کے تحائف اور مٹھائیاں دے رہے ہوتے ہیں، تو عین اسی وقت یہ بچے قریبی عوامی عمارتوں اور مندروں میں رکھے دیوں سے بچا ہوا تیل اکٹھا کرنے نکل پڑتے ہیں۔
راہل کا کہنا ہے کہ شروع میں تو وہ شدید الجھن کا شکار ہوا کہ کیا اس سال دیوالی اپنے مقررہ وقت سے کچھ ماہ قبل ہی آ گئی ہے؟
تاہم، ماضی میں بھی اس نے دیوالی کے موقع پر کسی اسکول کے احاطے میں کبھی اتنی بڑی تعداد میں دیے جلتے ہوئے نہیں دیکھے تھے۔ وہ اس بے وقعت سمجھی جانے والی مگر اپنے لیے انتہائی قیمتی کامیابی کا احوال بتاتے ہوئے کہتا ہے؛
ہم نے ابھی کچھ ہی دیوں کا تیل خالی کیا تھا کہ اچانک سکیورٹی گارڈ آ گیا اور اس نے ہمیں ڈانٹ کر روک دیا۔ لیکن ہم مایوس ہو کر لوٹے نہیں بلکہ رات نو بجے تک وہیں آس پاس چھپ کر انتظار کرتے رہے۔ تب تک زیادہ تر دیے بجھ چکے تھے اور ہر طرف خاموشی چھا گئی تھی، چنانچہ ہم نے اندر جا کر سارا بچا ہوا تیل اکٹھا کر لیا۔
یہ بتاتے ہوئے راہل کی معصوم آنکھوں میں ایک انوکھی چمک اور فتح کا احساس نمایاں تھا۔
جیسے ہی سرکاری عمارت میں جلائے جانے والے ان دیوں کی خبر پھیلی، راہل اور آرین جیسے پسماندہ بستیوں کے بہت سے بچے تیل اکٹھا کرنے کے لیے وہاں دوڑ پڑے۔ اور جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان سوشل میڈیا پوسٹس کے لیے اپنے فوٹو سیشن اور پروپیگنڈا کا کام مکمل کر کے جا چکے، تو یہ معصوم رات گئے تک انہی بجھتے دیوں سے بچا ہوا تیل اپنے برتنوں میں اکٹھا کرنے لگے۔
شاہی ٹھاٹ باٹ اور ٹیکس دہندگان کے اربوں روپے کا زیاں
بات دراصل یہ تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ منائی۔ پارٹی کے صدر نتن نبین نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ مودی کے 25 سالہ اقتدار، پہلے بطور گجرات کے وزیر اعلیٰ اور اب بطور ملک کے وزیر اعظم کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے 25 کروڑ دیے روشن کیے جائیں گے۔
اطلاعات کے مطابق، وزیر اعظم کی سالگرہ کے موقع پر پورے ملک میں تقریباً 15 کروڑ دیے روشن کیے گئے۔
ہم میں سے اکثر شہریوں کے لیے یہ ایک بالکل نیا، انوکھا اور ناقابل فہم منظر تھا۔ اس ملک کی جمہوری تاریخ میں اس سے قبل کبھی کسی منتخب سربراہ مملکت یا سیاسی رہنما کی سالگرہ کو اتنے بڑے پیمانے پر سرکاری وسائل اور ٹیکس دہندگان کے پیسے پانی کی طرح بہا کر مناتے نہیں دیکھا گیا تھا۔
تاہم، اگر ہندوستانی تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے جائیں تو یہ جشن جدید جمہوری تقاضوں کے بجائے جنوبی ایشیا کی قرون وسطیٰ کی شاہی اور جاگیردارانہ روایات سے پوری طرح ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔
لیکن وہ دور اور تھا، جب ہندوستان آئین کے تحت چلنے والی ایک خود مختار اور جوابدہ جمہوری قومی ریاست (نیشن اسٹیٹ) نہیں تھا، بلکہ یہاں مطلق العنان بادشاہوں اور جاگیرداروں کی حکومت تھی جن کے دور میں ان کی ذاتی شان و شوکت اور شاہانہ ٹھاٹ باٹ کی نمائش رعایا پر مسلط کی جاتی تھی۔
ریاست جموں و کشمیر میں ڈوگرہ راج کی تاریخ اس شاہی ذہنیت کی ایک واضح مثال پیش کرتی ہے۔ 9 مارچ 1931 کو جب فرانس کے شہر کینز میں ریاست کے آخری حکمراں مہاراجا ہری سنگھ اور مہارانی تارا دیوی کے ہاں ان کے بیٹے ڈاکٹر کرن سنگھ کی ولادت ہوئی، تو کشمیر میں ریاست بھر کے عوام کو زبردست چراغاں کرنے کا شاہی حکم جاری کیا گیا تھا۔
ایک شاہی فرمان کے ذریعے ہدایت جاری کی گئی کہ ہر قصبے، گاؤں اور شہر کو روایتی مٹی کے چراغوں سے جگمگا دیا جائے۔ دریائے جہلم کے دونوں کناروں اور اس پر بنے تمام لکڑی کے تاریخی پلوں کو روشنیوں سے سجایا گیا۔ مرکزی بازاروں میں موجود چھوٹے تاجروں، عام دکانداروں اور شہریوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ ہر شام اپنے گھروں اور دکانوں کے باہر چراغ روشن کریں۔
اس شاہی جشن کا دائرہ کار اتنا وسیع اور جنونی تھا کہ چند ہی دنوں کے اندر وادی کشمیر میں سرسوں کے تیل کا وہ تمام ذخیرہ ختم ہو گیا جو اس وقت چراغ جلانے کے لیے ایندھن کا واحد اور بنیادی ذریعہ تھا۔ جب سرسوں کا تیل ختم ہو گیا تو انتظامیہ نے حکم جاری کیا جس کے تحت یہ لازمی قرار دیا گیا کہ وہ تیل کی کمی کو اپنے گھروں کے خالص گھی سے پورا کریں، تاکہ محض اس شاہی ولادت کے جشن کی رونق اور دربار کی خوشنودی برقرار رکھی جا سکے۔
اسی طرح، وزیر اعظم مودی کی سالگرہ کے ان شاہانہ مظاہر سے حیدرآباد دکن کے نظام کی ان سالگرہ تقریبات کی یاد بھی تازہ ہو جاتی ہے جو مہینوں جاری رہتی تھیں۔ تاریخی دستاویز ‘دی کرونولوجی آف ماڈرن حیدرآباد’ کے مستند ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ نظام علی خان، آصف جاہ دوم کی سالگرہ کی تقریبات ایک ماہ سے زائد عرصے تک پھیلی ہوتی تھیں۔
اس کا باقاعدہ آغاز ’مہندی‘ کی رسم سے ہوتا تھا، جس کے بعد ریاست بھر سے آئے ہوئے امراء اور جاگیردار قطار در قطار دربار میں جھک کر نذرانے پیش کرتے تھے۔ نظام کی بارگاہ میں نایاب جواہرات، شاہی خلعتیں، بیش قیمت برتن اور بھاری نقد رقوم نچھاور کی جاتی تھیں اور اس کے بعد ہفتوں تک پر تکلف ضیافتوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں سرکاری احکامات
آج اکیسویں صدی کے جمہوری ہندوستان میں، بی جے پی مقتدرہ 21 صوبوں کے اندر تمام سرکاری دفاتر، اسکولوں اور یہاں تک کہ سرکاری اسپتالوں میں بھی مودی کی سالگرہ پر دیے جلانے کی باقاعدہ سرکاری ہدایات جاری کی گئیں۔
اس تقریب کے انعقاد اور چراغاں کی نگرانی کی براہِ راست ذمہ داری ہر صوبے کے اعلیٰ ترین بیوروکریٹس کو سونپی گئی، جبکہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اور سرکاری اسپتالوں کے فرض شناس ڈاکٹروں کے لیے بھی اس تقریب میں حاضری لگانا لازمی قرار دیا گیا۔
صرف مدھیہ پردیش میں لگ بھگ 3 کروڑ 35 لاکھ دیے روشن کیے گئے، گجرات میں 88 لاکھ، جبکہ دہلی کے ’کرتویہ پتھ‘ پر، جہاں وزیر اعظم کا دفتر اور نوآبادیاتی طاقت کا مرکز واقع ہے، 1 لاکھ 25 ہزار دیوں کی طویل قطاریں سجائی گئیں۔ ہندوستان کے صوبوں کو پورے ایک ماہ پر محیط لمبا جشن منانے کی باقاعدہ ہدایت دی گئی ہے۔
’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت صوبائی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر عوامی رابطے کی مہم چلائیں تاکہ مودی حکومت کے کام اور تشہیر کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جا سکے۔
پورے ملک میں ’آشیرواد کا دیا‘ کے نام پر تقریباً 15 کروڑ دیے روشن کیے گئے۔ اس فضول خرچی کا ایک بنیادی تخمینہ لگایا جائے تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ اگر ہر دیے میں محض 20 ملی لیٹر تیل کی اوسط گنجائش تسلیم کی جائے، تو ہندوستان نے اس ایک تقریب کے دوران تقریباً 30 لاکھ لیٹر پکوان تیل چند گھنٹوں میں جلا کر راکھ کر دیا۔
مارکیٹ کے مطابق، صرف اس تیل کی قیمت ہی کم و بیش 810 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اور جب اس میں مٹی کے کروڑوں دیوں اور روئی کی بتیوں کی بنیادی قیمت شامل کی جائے، تو یہ براہِ راست خرچ 1560 کروڑ روپے (یعنی 15.6 ارب روپے) تک پہنچ جاتا ہے۔
یاد رہے کہ اس ہوش ربا رقم میں اس وسیع مہم پر لگنے والی لیبر، نقل و حمل، لاجسٹکس، سکیورٹی اور دیگر نمود و نمائش پر اٹھنے والے کروڑوں روپے کے اضافی اخراجات شامل نہیں ہیں۔
وزیر اعظم مودی کی ایسی شخصیت پرستی کا غیر معمولی بیانیہ تیار کرنا ہمیں انتباہ کے اس تاریخی لمحے کی یاد دلاتا ہے، جس کا اظہار بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے 1949 میں ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر کیا تھا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں قوم کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا؛
مذہب کے میدان میں عقیدت یا ’بھکتی‘ روح کی نجات کا راستہ ہو سکتی ہے۔ لیکن سیاست میں بھکتی، عقیدت یا ہیرو پرستی یقینی طور پر انحطاط، زوال اور بالآخر آمریت کی طرف لے جانے والا سیدھا راستہ ہے۔
سیلاب زدگان کے زخموں پر نمک
وزیر اعظم کی سالگرہ منانے کے لیے ریاستی مشینری، وسائل اور عوامی سرمائے کے اس بے تحاشہ استعمال پر گہرے دکھ، صدمے اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کے سابق سینئر بیوروکریٹ اور معروف سماجی کارکن ہرش مندر کہتے ہیں؛
ہندوستانی عوام اب کسی آزاد جمہوری ملک کے مساوی حقوق رکھنے والے شہری نہیں رہے، بلکہ ان کے ساتھ جاگیردارانہ دور کے کسی حکمران کی لاچار رعایا جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
مودی کا طرز عمل خود ایک مطلق العنان بادشاہ جیسا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ آج کا ایک عام ہندوستانی شہری برطانوی دورِ حکومت کے مقابلے میں زیادہ معاشی بدحالی اور غربت کا شکار ہے، جبکہ برسرِ اقتدار حکومت کے دل میں اپنے عوام کے لیے کسی ہمدردی کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہے۔
دہلی یونیورسٹی کے معروف مؤرخ پروفیسر رتن لال اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں؛
ڈاکٹر امبیڈکر نے تقریباً 80 سال قبل جو پیشن گوئی کی تھی، وہ آج ہمارے سامنے حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہی ہے۔ ہندوستان کی سرزمین درحقیقت ایک نئی فکری و سیاسی غلامی کی گرفت میں جکڑی جا چکی ہے، اور امبیڈکر نے اسی خطرے کے بارے میں پہلے سے خبردار کر دیا تھا۔
پروفیسر رتن لال وزیر اعظم مودی کے اس پرانے بیان کی بھی یاد دلاتے ہیں جو انہوں نے 2014 میں وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے فوراً بعد دیا تھا کہ وہ اپنی سالگرہ نہیں مناتے۔ درحقیقت، اس سال ستمبر میں جموں و کشمیر میں شدید تباہ کن سیلاب آیا تھا اور مودی نے اپنے تمام خیر خواہوں اور ہم وطنوں سے اپیل کی تھی کہ وہ سالگرہ منانے کے بجائے سیلاب سے متاثرہ کشمیری عوام کی امداد و بحالی کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔
پروفیسر رتن لال سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں؛
آج ریاست بہار میں تباہ کن سیلاب سے تقریباً 50 لاکھ شہری شدید متاثر اور بے گھر ہیں، دوسری طرف دہلی کے کوچنگ سینٹرز کے تہہ خانوں میں بارش کا پانی بھرنے اور عمارتیں گرنے سے معصوم طلبہ ہلاک ہو رہے ہیں، لیکن وزیر اعظم اس پر مکمل خاموش ہیں؛ اور دوسری طرف مصیبت میں گھری اس غریب قوم سے زبردستی کہا جا رہا ہے کہ وہ وزیر اعظم کی درازی عمر کے لیے ’آشیرواد کا دیا‘ روشن کرے۔
(روہنی سنگھ دہلی میں مقیم آزاد صحافی ہیں۔)

